Tuesday, 15 September 2026, 02:24:01 pm
 
ہاجرہ مسرور، وہ، جو نہ تاج محل جیسے مقابر سے بہل سکیں ، اور نہ کسی مصلحت سے
September 15, 2026

ہاجرہ مسرور، وہ، جو نہ تاج محل جیسے مقابر سے بہل سکیں ، اور نہ کسی مصلحت سے، وہ اپنی بہن کے ہمراہ بُرقع اوڑھ کر بمبئی کی ’اَنجمنِ تَرقّی پسند مُصنّفین‘ کے اجلاسوں میں شریک ہوتیں۔ بٹوارے کے بعد اُن کا مَسکن لاہور ٹھہرا تو یہاں بھی دونوں بہنوں کی یہی رَوِش رہی؛ بُرقع اوڑھ کر ہی یہاں کے تَرقّی پسند ادیبوں کی بیٹھکوں اور دیگر ادبی مجالس میں شریک ہوتی رہیں۔

تاہم کون یقین کر سکتا ہے کہ ۱۹۴۷ء کے بعد پاکستان میں تخلیق ہونے والے اُردو ادب میں عورتوں کی آزادی، اُن کے حقوق اور اُن کے حقِ فیصلہ کے تحفظ کے لیے اُٹھنے والی نمایاں آوازوں میں ایک آواز اِسی بُرقع پوش ادیبہ کی تھی۔

بظاہر کسی کو اِن دونوں باتوں میں تضاد دکھائی دے سکتا ہے، مگر شاید اِس منفرد خاتون کے تصوّرِ آزادی کو سمجھنے کا راستہ بھی یہیں سے نکلتا ہے۔ آزادی کا مطلب صرف کسی روایت سے نکلنا نہیں، اپنی مرضی سے کسی روایت کے ساتھ رہنا بھی ہو سکتا ہے۔ عورت اگر پردے میں خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتی ہے تو یہ بھی اُس کا اپنا اِنتخاب ہے۔

اِسی بُرقع پوش ادیبہ کی زندگی کا ایک واقعہ اُن کی اُردو دانی اور اُردو شناسی کی مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ ۱۹۴۶ء کے اواخر میں اُن کی منگنی عَبدُالحَیّ نامی ایک نوجوان سے ہوئی، جو بعد میں ساحِر لُدھیانوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ ہونے والی دُلہن اُس وقت ادبی دنیا میں ساحِر سے زیادہ معروف تھی، اِسی لیے ساحِر خود کہا کرتے تھے کہ شادی ہوئی تو اُنہیں ’جہیز میں شہرت‘ بھی ملے گی۔

مگر یہ شادی نہ ہو سکی۔ منگنی ٹوٹنے کے بارے میں ایک دل چسپ قصّہ اُردو کے ادبی حلقوں میں گردش کرتا رہا ہے۔ روایت ہے کہ ساحِر کو ایک مُشاعرے میں اپنی مشہور نظم ’تاج محل‘ سنانی تھی۔ اِس نظم کے مصرعے

’مُردہ شاہوں کے مَقابِر سے بہلنے والی‘

میں آنے والے لفظ ’مَقابِر‘ کے تَلَفُّظ پر ساحِر کو شبہ ہوا تو اُنہوں نے اپنی منگیتر سے پوچھ لیا۔ منگیتر نے اُنہیں تَلَفُّظ بتا دیا، تاہم ساحِر کو اُن کے بتانے کے انداز سے محسوس ہوا جیسے اُن کی تَحقیر کی گئی ہو۔ روایت کے مطابق یہیں سے ناراضی شروع ہوئی اور بات بڑھتے بڑھتے اِس حد تک پہنچی کہ آخرکار فریقین کو یہ منگنی توڑنا پڑی۔

ساحِر کے انتہائی قریبی دوست حمید اختر نے اپنی کتاب ’آشنائیاں کیا کیا‘ میں اِس بُرقع پوش ادیبہ سے ساحِر کی منگنی کی تصدیق تو کی ہے، مگر منگنی ٹوٹنے کی وجہ یہ واقعہ بیان نہیں کیا۔ ممکن ہے یہ قصّہ محض زیبِ داستان کے لیے گھڑا گیا ہو، لیکن اِس کا اِس ادیبہ سے منسوب ہونا اس لئے بھی بہت معنی خیز ثابت ہوتا ہے کہ اُردو نقاد بہت پہلے سے ہاجرہ مسرور کے متعلق یہ قطعی رائے قائم کرچکے تھے کہ اس ادیبہ کے لیے اُردو صرف کہانیاں لکھنے کی ابلاغی زبان نہیں ؛ الفاظ کا درست بَرتاؤ، ایک ایک لفظ کی صِحّت اور تَلَفُّظ کی دُرستی بھی اُن کے لیے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔(بحوالہ: حمید اختر، ’آشنائیاں کیا کیا‘، ص ۱۹–۲۰)

اپنی بہن خدیجہ مستور کے ہمراہ بُرقع اوڑھ کر تَرقّی پسند مُصنّفین کے اجلاسوں میں آنے والی، ساحِر لُدھیانوی کو ’جہیز میں شہرت‘ ملنے کا موقع دیتے دیتے رہ جانے والی اور اُردو افسانے میں عورت، گھر اور معاشرے کی اُن باتوں کو زبان دینے والی جو اُس زمانے میں شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتی تھیں ، یہ خاتون ہاجرہ مسرور تھیں، جن کی آج چودھویں برسی منائی جارہی ہے

ہاجرہ مسرور ۱۷ جنوری ۱۹۲۹ء (یا بعض روایات کے مطابق ۱۹۳۰ء میں) کے دن لکھنؤ میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد ڈاکٹر تَہَوُّر احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ ہاجرہ ابھی بچپن ہی میں تھیں کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور گھر کی ذِمّہ داری اُن کی والدہ اَنور جہاں بیگم کے کندھوں پر آ پڑی۔

ڈاکٹر تَہَوُّر احمد خان سے اَنور جہاں بیگم کے سات بچّے تھے: عائشہ جمال، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، طاہرہ عابدی، شاہدہ خیری، عابدہ اور توصیف احمد خان۔ بعد میں اَنور جہاں بیگم نے شاعر مولانا محمد مصطفیٰ خان مدّاحؔ سے دوسری شادی کی، جن سے خالد احمد پیدا ہوئے۔

اس گھرانے کا مجموعی ماحول عِلمی اور اَدبی تھا؛ کتابیں اور اَدبی رسائل باقاعدگی سے گھر میں آتے تھے۔ ہاجرہ مسرور نے کم عُمری ہی میں کہانیاں لکھنا شروع کر دیں ۔ اُن کی تحریریں ’اَدبی دنیا‘، ’ہُمایوں‘، ’ساقی‘، ’خَیّام‘ اور ’عالمگیر‘ جیسے معروف رسائل میں چھپنے لگیں۔ قیامِ پاکستان سے کچھ عرصہ پہلے وہ اپنی بہن خدیجہ مستور کے ہمراہ آل اِنڈیا ریڈیو، لکھنؤ سے اپنی کہانیاں بھی ریکارڈ کرا چکی تھیں۔

تاہم اس بڑے کُنبے کا عِلم و اَدب سے رشتہ صرف ہاجرہ مسرور تک محدود نہیں تھا ۔ اُن کی والدہ اَنور جہاں بیگم خود لکھتی تھیں اور اُن کے مضامین خواتین کے رسائل ’عِصمت‘ اور ’سَبیل‘ وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ ہاجرہ کی بڑی بہن عائشہ جمال بھی اَفسانہ نگار تھیں اور اُن کے اَفسانوں کا مجموعہ ’گردِ سفر‘ کے نام سے شائع ہوا، جبکہ خدیجہ مستور نے اُردو اَفسانے اور ناول میں اپنا الگ مقام بنایا۔ بھائی توصیف احمد خان صَحافت سے وابستہ رہے، جبکہ سوتیلے بھائی خالد احمد نے شاعر، ڈراما نگار اور کالم نویس کی حیثیت سے شُہرت حاصل کی۔

۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے ہنگامے شروع ہوئے تو یہ خاندان بھی اپنا شہر اور گھر چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ اکتوبر میں لکھنؤ سے نکلے، بمبئی پہنچے اور وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے کراچی آئے۔ کراچی سے اگلا سفر ریل کے ذریعے لاہور تک ہوا۔ یہی لاہور ہاجرہ مسرور کی اَدبی زندگی کا اگلا بڑا پڑاؤ بنا۔

پاکستان آنے سے پہلے ہاجرہ مسرور کا نام اُردو کے اَدبی حلقوں کے لیے اَجنبی نہیں رہا تھا ۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہاں احمد ندیم قاسمی کی صورت میں اُنہیں ایک ایسا اَدبی رشتہ ملا جو آگے چل کر منہ بولے بہن بھائی کے تعلّق میں بدل گیا، اور اِسی شہر میں ہاجرہ مسرور کی زندگی تَرقّی پسند تحریک، اَدبی رسائل اور اُردو کے اُس عہد کے بڑے لکھنے والوں کے ساتھ مزید گہرائی سے جُڑتی چلی گئی۔

لاہور میں ہاجرہ مسرور کی اَدبی سرگرمیوں کا ایک اہم باب اِدارت سے شروع ہوا۔ مارچ ۱۹۴۸ء میں احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر اُنہوں نے لاہور سے اَدبی رسالہ ’نُقوش‘ جاری کیا۔ دونوں اِس کے اوّلین مُدیر تھے اور اُن کی مشترکہ اِدارت میں ’نُقوش‘ کے ابتدائی دس شمارے شائع ہوئے۔ یہ رسالے کا تَرقّی پسند دور تھا اور ہاجرہ مسرور اِس کی اَدبی سِمت مُتعیّن کرنے میں احمد ندیم قاسمی کے ساتھ شریک تھیں۔

۱۹۵۰ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صَحافی احمد علی خان سے ہوگئی، جو اُس وقت لاہور میں ’پاکستان ٹائمز‘ سے وابستہ تھے۔ احمد علی خان نے اپنی خودنوشت میں اِس رشتے کی اِبتدا کا ایک دل چسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ اُن کی والدہ اُن کی شادی کے لیے فِکرمند تھیں۔ ایک روز اُن کے خالہ زاد بھائی قدوس صہبائی آئے تو والدہ نے اُن سے کسی مناسب لڑکی کا نام پوچھا۔ اُنہوں نے بے ساختہ ہاجرہ مسرور کا نام لے دیا۔

احمد علی خان ہاجرہ کی تحریریں پڑھ چکے تھے، مگر اُس وقت تک اُنہیں دیکھا نہیں تھا۔ قدوس صہبائی اُنہیں احمد ندیم قاسمی سے ملانے اُن کے نِسبت روڈ، لاہور کے گھر لے گئے۔ دروازہ ایک لڑکی نے کھولا؛ وہ ہاجرہ مسرور تھیں۔ احمد علی خان کے بقول قاسمی صاحب سے ملنے سے پہلے ہی اُن کی ہاجرہ سے یہ پہلی ملاقات ہوگئی۔ پھر یہی تعارف رِشتۂ اِزدواج میں بدل گیا۔

(بحوالہ: احمد علی خان، ’اِن سرچ آف سَینس: مائی یِئرز اَیز اے جرنلسٹ‘، مُرتّبہ: نوید احمد طاہر، ۲۰۱۵ء)

ہاجرہ مسرور اور احمد علی خان کی دو بیٹیاں، نوید احمد طاہر اور نوشین احمد ہوئیں۔ شادی کے ابتدائی برس میاں بیوی اور بچّوں نے لاہور ہی میں گزارے اور یہیں ہاجرہ مسرور کا لکھنے کا شَغف بھی برابر جاری رہا۔

۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہاجرہ مسرور اپنے شوہر اور بچّوں کے ہمراہ لاہور چھوڑ کر کراچی منتقل ہوگئیں۔ یہاں بھی اُن کا اَدب سے تعلّق برقرار رہا اور وہ لکھنے پڑھنے اور اَدبی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں۔

لکھنؤ، بمبئی، لاہور اور کراچی، سبھی جگہوں پر ہاجرہ مسرور کی بنیادی اور سب سے پائیدار شناخت اَفسانہ نگار کی رہی۔ اُنہوں نے اَفسانہ لکھنا قیامِ پاکستان سے کئی برس پہلے شروع کر دیا تھا اور پاکستان آنے سے پہلے ہی اُن کے ابتدائی مجموعے ’چرکے‘ اور ’ہائے اللہ‘ شائع ہو چکے تھے۔ بعد میں ’چوری چھپے‘، ’اندھیرے اُجالے‘، ’تیسری منزل‘ اور ’چاند کے دوسری طرف‘ بھی مَنظرِ عام پر آئے۔ یوں اُن کے چھ اَفسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ ۱۹۹۱ء میں اِن مجموعوں کے اَفسانے ’سب افسانے میرے‘ کے عنوان سے یکجا شائع کیے گئے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اتنا اَفسانوی سرمایہ تخلیق کرنے کے باوجود ہاجرہ مسرور نے ناول نہیں لکھا۔ اُن کی بہن خدیجہ مستور نے ’آنگن‘ جیسا ناول لکھ کر اُردو ناول نگاری میں مستقل مقام بنایا، مگر ہاجرہ نے اِس میدان میں قدم نہیں رکھا۔ ایک مرتبہ اُن سے پوچھا گیا کہ اُنہوں نے اپنی بہن کی طرح ناول کیوں نہیں لکھا تو اُن کا کہنا تھا کہ خدیجہ ایسا کر سکتی تھیں کیونکہ اُن میں صبر اور اِستقامت تھی، جب کہ وہ اپنے اندر وہ ٹھہراؤ نہیں پاتی تھیں۔ شاید یہی مزاج اُنہیں ناول کی طویل فضا کے بجائے اَفسانے کی مختصر اور مُرتکز صورت سے زیادہ قریب رکھتا تھا۔

اَفسانے کے ساتھ ہاجرہ مسرور نے ڈراما نویسی بھی کی۔ اُن کے یک بابی ڈراموں کا مجموعہ ’وہ لوگ‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اُنہوں نے ریڈیو کے لیے بھی ڈرامے تحریر کیے، جو نشر ہوتے رہے، اور پاکستان ٹیلی وژن کے لیے بھی لکھا۔ ۱۹۶۲ء میں مجلسِ تَرقّیِ اَدب نے ’وہ لوگ‘ پر اُنہیں ’رائٹر آف دی ایئر‘ کا اعزاز دیا۔

ہاجرہ مسرور نے فلمی کہانی اور اِسکرپٹ نویسی میں بھی اپنی صلاحیت آزمائی۔ ۱۹۶۵ء میں معروف شاعر سُرور بارہ بنکوی کی فلم ’آخری اسٹیشن‘ کی کہانی اور مکالمے اُنہوں نے تحریر کیے۔ فلم میں شبنم نے مرکزی کردار ادا کیا۔ ’آخری اسٹیشن‘ کے اِسکرپٹ پر ہاجرہ مسرور کو نگار ایوارڈ بھی دیا گیا۔ بعد میں اُنہیں مزید فلموں کے لیے لکھنے کی پیش کش بھی ہوئی، مگر اُنہوں نے فلمی دنیا کو مستقل طور پر اختیار نہیں کیا۔

ہاجرہ مسرور نے بچّوں کے لیے بھی کہانیاں لکھیں۔ بعد کے برسوں میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اُن کی بچّوں کے لیے لکھی ہوئی کہانیوں کو کتابی صورت میں شائع کیا۔ یوں اُن کی اَدبی زندگی اِدارت، اَفسانہ نویسی، ڈراما نویسی، ریڈیو، فلمی کہانی و اِسکرپٹ نویسی اور بچّوں کے اَدب تک پھیلی ہوئی تھی۔

تاہم زندگی کے آخری تین عشروں میں اُنہوں نے اَفسانہ نگاری تقریباً ترک کر دی تھی۔ اَدبی محفلوں میں اُن کی شرکت بھی رفتہ رفتہ کم ہوتی گئی، اگرچہ اُردو کے اَدبی حلقوں میں اُن کی شخصیت اور اُن کے اَفسانوں کی اہمیت برقرار رہی۔

۱۳مارچ ۲۰۰۷ء کو اُن کے شوہر احمد علی خان طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ دونوں کا اِزدواجی ساتھ تقریباً ستاون برس پر محیط تھا۔ شوہر کی وفات نے ہاجرہ مسرور کو گہرا صدمہ پہنچایا اور اِس کے بعد وہ مزید گوشہ نشین ہوگئیں۔

احمد علی خان کی وفات کے تقریباً ساڑھے پانچ برس بعد، ۱۵ ستمبر ۲۰۱۲ء کو ہاجرہ مسرور بھی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئیں۔ اُن کی نمازِ جنازہ ڈیفنس کی سلطان مسجد میں ادا کی گئی اور اُنہیں کراچی کے گِزری قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ہاجرہ مسرور کی اَدبی خدمات کو مختلف اَدوار میں متعدد اعزازات سے بھی سراہا گیا۔ ۱۹۶۲ء میں مجلسِ تَرقّیِ اَدب نے اُنہیں اُن کے یک بابی ڈراموں کے مجموعے ’وہ لوگ‘ پر ’رائٹر آف دی ایئر‘ کا اعزاز دیا۔ فلم ’آخری اسٹیشن‘ کے لیے اُنہیں نگار ایوارڈ ملا۔ حکومتِ پاکستان نے ۱۹۹۵ء میں اَدب کے شعبے میں اُن کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی عطا کیا، جبکہ ۲۰۰۵ء میں اُنہیں عالمی فُروغِ اُردو اَدب ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ہاجرہ مسرور کے اَفسانوں کی دنیا وہ معاشرتی دنیا ہے جسے اُنہوں نے اپنے گِرد دیکھا اور محسوس کیا تھا ۔ اِس دنیا کے مرکز میں ہر جگہ عورت نظر آتی ہے؛ کبھی معاشی مجبوریوں میں گِھری ہوئی، کبھی خاندانی دباؤ کا سامنا کرتی ہوئی اور کبھی مرد کے طے کیے ہوئے سماجی پیمانوں سے نبرد آزما۔

ہاجرہ مسرور کی نگاہ گھر کی چار دیواری کے اندر پنپنے والے اُن رویّوں تک بھی پہنچتی ہے جنہیں معاشرہ اکثر معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ اُن کے ہاں عورت محض بے بس اور مظلوم کردار بن کر سامنے نہیں آتی۔ وہ خواہش رکھتی ہے، سوچتی اور سوال کرتی ہے، حالات سے ٹکراتی ہے اور اپنے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ مُتوسّط اور نچلے مُتوسّط طبقے کی زندگی، غُربت، رشتوں میں چُھپی خود غرضی، اِزدواجی زندگی کی ناہمواریاں اور مرد و عورت کو پرکھنے کے معاشرتی پیمانوں کا فرق اُن کے نمایاں موضوعات میں شامل ہے۔

ہاجرہ مسرور نے اِنسان کے جسمانی اور جِنسی جذبوں جیسے حسّاس موضوعات سے بھی گُریز نہیں کیا، مگر اِن موضوعات کو محض سَنسنی پیدا کرنے کا وسیلہ بنانے کے بجائے اِنسانی نَفسیات، محرومیوں اور سماجی بندشوں کے پس منظر میں دیکھا۔ وہ تَرقّی پسند تحریک سے وابستہ ضرور تھیں، لیکن اُن کے اَفسانوں میں نظریہ عموماً کہانی پر حاوی نہیں ہوتا۔ وہ کسی طویل وعظ یا تقریر کے بجائے کردار، واقعے اور مُکالمے کو اپنی بات کہنے دیتی ہیں۔

ہاجرہ مسرور کی زبان سادہ، بے تکلّف اور روزمرّہ زندگی کے قریب ہے، لیکن اِس سادگی کے اندر ایک خاص کاٹ بھی موجود ہے۔ کوئی بظاہر معمولی گھریلو واقعہ، چند جملوں کا مُکالمہ یا کسی کردار کا مختصر سا ردِّعمل اُن کے اَفسانے میں کسی بڑی سماجی حقیقت کا پتا دے سکتا ہے۔ اُن کا طَنز بھی بلند آواز نہیں ہوتا؛ کبھی ایک چھوٹا سا جملہ یا معمولی سا واقعہ ہی کسی کردار کی کمزوری کے ساتھ پورے معاشرتی رویّے کی مُنافقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

ہاجرہ مسرور کے اَفسانوں کی ایک اہم فَنّی خوبی اِختصار ہے۔ وہ غیر ضروری تفصیل میں اُلجھے بغیر کہانی کو اُس نکتے تک لے جاتی ہیں جہاں اُس کی اصل کشمکش پوری شِدّت کے ساتھ اُبھر آتی ہے۔ کہیں کہانی کا آخری موڑ پہلے گزرے ہوئے واقعات کو ایک نیا مفہوم دے دیتا ہے اور کہیں ایک چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر پورے معاشرتی مسئلے کی تصویر سمیٹ لیتا ہے۔ یہی ہُنر ہاجرہ مسرور کے مختصر اَفسانے کو بسا اوقات اپنے ظاہری حجم سے کہیں بڑی بات کہنے کے قابل بنا دیتا ہے۔

ہاجرہ مسرور کو اپنے مُدّاحوں سے بچھڑے آج چودہ برس گزر گئے۔ اُن کی بھرپور اَدبی زندگی شاید اِس بات کی بہترین مثال ہے کہ عورت کی جس شخصی آزادی، اُس کے حقوق اور اُس کے حقِ فیصلہ کے لیے وہ اپنے قلم سے آواز اُٹھاتی رہیں، اپنی عملی زندگی میں بھی اُنہوں نے اپنے لیے راستے اور ترجیحات خود مُتعیّن کیں۔

لکھنؤ میں کہانیاں لکھنے والی ایک کم عُمر لڑکی سے لے کر بمبئی کے اَدبی حلقوں، لاہور میں ’نُقوش‘ کی اِدارت اور پھر کراچی کی اَدبی زندگی تک، اُن کا یہ سفر نصف صدی سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا تھا۔ اُن کی جوانی کی ایک تصویر ایسی بُرقع پوش لڑکی کی ہے جو بُرقع اوڑھ کر تَرقّی پسند مُصنّفین کے اجلاسوں میں پہنچتی، مرد ادیبوں کے درمیان بیٹھتی اور عورت کے حقوق کے لیے قلم اُٹھاتی تھی۔

یہی ہاجرہ مسرور بعد کے برسوں میں بُرقعے کے بغیر دکھائی دیتی ہیں۔ بُرقع پہننا ہو یا اُسے ترک کرنا، اُنہوں نے اِس بارے میں کوئی نظریاتی اعلان ہمارے لیے نہیں چھوڑا؛ لیکن اُن کی زندگی ہمیں یہ ضرور یاد دلاتی ہے کہ عورت کی آزادی کا بنیادی مفہوم اُس کے لباس کا تَعیُّن کرنا نہیں، بلکہ اُس کے اپنے اِنتخاب کا اِحترام کرنا ہے۔

اور شاید ساحِر لُدھیانوی کو اُس وقت ایک مُغالطہ لاحق ہوگیا تھا۔ وہ جسے

’مُردہ شاہوں کے مَقابِر سے بہلنے والی‘سمجھ بیٹھے تھے، وہ صرف لفظوں کی صِحّت ہی کے معاملے میں نہیں، اپنے مؤقف کے معاملے میں بھی کسی مَصلحت سے بہلنے والی نہیں تھیں۔

وہ ہاجرہ مسرور تھیں۔

سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان