Sunday, 13 September 2026, 09:18:13 am
 
میاں انجھا برس کلاونت، فراموش کردہ عظیم گائیک وہ جسے "تان سین ثانی" کہا گیا۔
September 12, 2026

میاں انجھا برس کلاونت

فراموش کردہ عظیم گائیک

وہ جسے "تان سین ثانی" کہا گیا۔

مغل بادشاہ احمد شاہ نے اپنی تخت نشینی کی تیسری سالگرہ کی شاہی تقریب میں ایک سفید ریش، عمر رسیدہ شخص کو دیکھا تو اُس سے پوچھا:

"کیا تم وہی اَنجھا بَرس خان ہو جس کا ذکر میرے مرحوم والد محمد شاہ مجھ سے کیا کرتے تھے؟"

اَنجھا بَرس نے بڑی مَتانت سے جواب دیا:

"وہ اَنجھا بَرس گزر چکا؛ یہ اَنجھا بَرس کوئی دوسرا شخص ہے جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہے۔"

احمد شاہ نے اُسے گانے کا حکم دیا۔ اَنجھا بَرس نے مَعذرت کرتے ہوئے کہا:

"میں تو صرف آپ کے حکم کی تعمیل میں یہاں حاضر ہوا ہوں، گانا تو میں چھوڑ چُکا ہوں۔"

بادشاہ نے کہا:

"جو چاہو مانگو۔"

اَنجھا بَرس نے جواب دیا:

"میری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ دوبارہ مجھے آپ کے حُضور آنے کے لیے نہ کہا جائے۔"

احمد شاہ، ظہیرُالدّین محمد بابر سے شروع ہونے والی مغل بادشاہوں کی لڑی کا چودھواں بادشاہ تھا۔ وہ اپنے والد ناصرُالدّین محمد شاہ کے ۲۶ اپریل ۱۷۴۸ء کو انتقال کے تین روز بعد، محض بائیس سال کی عمر میں دہلی کے تخت پر بیٹھا۔

احمد شاہ ایک پُرعزم نوجوان تھا، مگر بدقسمتی سے ہندوستان کا سیاسی بگاڑ اِس قدر پھیل چکا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اپنے محدود مالی اور عسکری وسائل کے ساتھ اِسے کسی طور سمیٹنے کی اِستطاعت نہیں رکھتا تھا۔

تاہم مغل دربار کی عَظمتِ رَفتہ بحال کرنے کے لیے جو کچھ احمد شاہ سے بن پا رہا تھا، وہ اسے تَن دِہی کے ساتھ سرانجام دے رہا تھا۔ چنانچہ اِسی کوشش میں اس نے مئی ۱۷۵۱ء میں اپنی تخت نشینی کی تیسری سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والی شاہی تقریبات میں اپنے والد ناصرُالدّین محمد شاہ کے پرانے درباریوں، دوستوں اور مُتعلّقین کو بھی مدعو کیا۔

اَنجھا بَرس خان بھی انہی مدعوین میں شامل تھا۔ وہ محمد شاہ کے عہد کا نامور موسیقار اور خود بادشاہ کا اُستادِ موسیقی رہ چکا تھا۔ تاہم مارچ ۱۷۳۹ء میں نادر شاہ اَفشار کے حملے کے بعد مغل دربار جس ابتری اور مالی بحران کا شکار ہوا، اس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد اَنجھا بَرس بھی شاہی ملازمت سے الگ ہوگیا۔ بعدازاں مغل منصب دار عُمدَۃُ المُلک امیر خان کے ہاں منعقد ہونے والی ایک موسیقائی مجلس میں پیش آنے والی بدمزگی کے ایک واقعے کے بعد اس نے اُمرا اور اہلِ دولت کی موسیقائی محفلوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی اور دَرویشوں اور فُقرا کی صحبت میں رہنے لگا تھا۔

اَنجھا بَرس خان کا احمد شاہ سے یہ کہنا کہ ’مجھے دوبارہ دربار میں نہ بلایا جائے‘ ایک فنکار کی خودداری کا اظہار بھی سمجھا جاسکتا ہے: اگر بادشاہ میرے فن اور مرتبے سے کَماحَقُّہٗ واقف ہی نہیں تو پھر میں اس سے اِنعام و اِکرام کی تمنا کیوں رکھوں؟

لیکن اَنجھا بَرس کے ان الفاظ میں ہندوستان میں مغل اقتدار کے زوال کا ایک پُردرد اور جِگرسوز نوحہ بھی محسوس کیا جاسکتا ہے؛ جس شاہی دربار میں کبھی اُس کے فن کی قدر و قیمت جاننے والے بیٹھتے تھے، اُس کی شان و شوکت اب بکھر چکی تھی۔ گویا اَنجھا بَرس کا انعام سے انکار یہ خاموش سوال بھی اُٹھا رہا تھا:

"اب آپ کے پاس ایسا بچا ہی کیا ہے جو میں آپ سے منہ مانگے انعام کے طور پر طلب کروں؟"

میاں اَنجھا بَرس خان، اٹھارہویں صدی عیسوی کے مغل عہد اور دربار کے بڑے کَلاوَنتوں اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تعلق براہِ راست مغل بادشاہ جلالُ الدّین محمد اکبر کے نَو رَتَنوں میں شامل ہندوستانی تاریخ کے عظیم گائیک میاں تان سین کے خاندان سے تھا۔

’کَلاوَنت‘ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں ایسے ماہر اور باقاعدہ تربیت یافتہ گائیک کو کہا جاتا تھا جو بالخصوص دُھرپَد گائیکی کی روایت سے وابستہ ہو۔ مغل عہد میں کَلاوَنت محض گانے والے نہیں تھے بلکہ راگ، تال اور موسیقی کے اصولوں میں مہارت رکھنے والے اُستاد موسیقار بھی ہوتے تھے۔

’دُھرپَد‘ کا نام سنسکرت کے دو لفظوں ’دُھرو‘ یعنی قائم یا مستقل، اور ’پَد‘ یعنی منظوم کلام سے نکلا ہے۔ یہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی قدیم ترین گائیکی کی اَصناف میں سے ایک ہے، جس میں راگ کی خالص صورت کو سُروں کی مضبوطی اور سنجیدہ و باوقار اندازِ گائیکی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، میاں اَنجھا بَرس خان ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس میں موسیقی کئی پُشتوں سے فن، علم اور خاندانی روایت کی حیثیت رکھتی تھی۔

ان کا پورا نام مآخذ میں ’میاں اَنجھا بَرس خان‘ ہی درج ملتا ہے۔ ’اَنجھا‘ کے معنی ناغہ، وقفہ یا تعطل کے آتے ہیں۔ اس نام کی کوئی صریح تاریخی وجہ معلوم نہیں، تاہم ان کے بڑے بھائی کا نام ’بڑا بَرس خان‘ درج ملنے سے یہ قیاس پیدا ہوتا ہے کہ شاید دونوں بھائیوں کی پیدائش میں خاصا وقفہ رہا ہو اور اسی نسبت سے ایک کو بڑا بَرس اور دوسرے کو اَنجھا بَرس کہا گیا ہو۔

ایک دوسری قرأت میں اس نام کو ’اَنچھا‘ بھی پڑھا گیا ہے، جو ’اَن‘ اور ’اِچھا‘ کا مرکب قرار دیا جاتا ہے۔ ’اَن‘ کے معنی بغیر اور ’اِچھا‘ کے معنی خواہش کے ہیں؛ یوں اس کا مفہوم خواہش سے بے نیاز یا خواہشات سے آزاد شخص بنتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اَنجھا بَرس خان کی بعد کی زندگی بھی کسی حد تک اسی مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ انہوں نے اہلِ دولت کی محفلوں سے کنارہ کشی اختیار کرکے دَرویشوں اور فُقرا کی صحبت کو ترجیح دی۔

اَنجھا بَرس کے خاندان میں ’بَرس‘ نام کا مستقل حصہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے والد رَس بَرس خان، چچا آنند بَرس خان اور بڑے بھائی بڑا بَرس خان کہلاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’بَرس‘ اس موسیقار خاندان کی نام گذاری کی ایک خاص روایت کا حصہ تھا۔

اَنجھا بَرس کے دادا خوشحال خان ’گُن سَمُدر‘ اپنے عہد کے بڑے دُھرپَد گویّوں اور شاہی موسیقاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ’گُن سَمُدر‘ کا مفہوم خوبیوں اور فن کا سمندر ہے۔ خوشحال خان نے شاہ جہاں کے دربار میں غیر معمولی شہرت حاصل کی اور بعد میں اورنگزیب کے ابتدائی عہد میں بھی ان کا موسیقائی مقام برقرار رہا۔ وہ صرف تان سین کے خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ممتاز نہیں تھے بلکہ اپنے فن، دُھرپَد پر عبور اور درباری وقار کی وجہ سے اگلی نسلوں کے لیے بھی معیار بن گئے۔

اَنجھا بَرس کے والد رَس بَرس خان کَلاوَنت بھی بلند پایہ موسیقار تھے۔ ان کی ایک خاص اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے سترھویں صدی کے آخری برسوں، ۱۶۹۷ء یا ۱۶۹۸ء میں، موسیقی پر فارسی زبان میں ’شَمسُ الاَصوات‘ تصنیف کی۔ اس کتاب میں ہندوستانی موسیقی کے علمی مباحث، راگوں، موسیقی کے اصول اور اس فن کی نظری روایت کو فارسی میں پیش کیا گیا۔

میاں تان سین ہندو تھے، تاہم اَنجھا بَرس خان کے دادا خوشحال خان کے حالات سے واضح ہوتا ہے کہ خاندان کی یہ شاخ ان کے زمانے تک مسلمان ہوچکی تھی۔ خود اَنجھا بَرس خان مسلمان اور صوفیانہ مزاج رکھنے والے شخص تھے۔ جوانی میں اپنے عہد کے معروف صوفی بزرگ شاہ گُلشن، المعروف شاہ گُلِ وَحدت، ان پر خاص شفقت، نظرِ التفات اور توجہ رکھتے تھے۔ بعد کی زندگی میں اَنجھا بَرس نے اہلِ دولت کی موسیقائی محفلوں سے کنارہ کشی اختیار کی اور دَرویشوں اور فُقرا کی صحبت میں رہنے لگے۔ (بحوالہ: ضیاءُ الدّین ضیاء، ’حَیُّ الاَرواح‘، ص: ۵۴)

چنانچہ یہ اَنجھا بَرس خان کی خاندانی موسیقائی وراثت تھی جو اسے مغل بادشاہ محمد شاہ کے دربار تک لے گئی، جہاں وہ جلد ہی اپنے عہد کے بلند پایہ کَلاوَنتوں میں شمار ہونے لگے۔ نِعمت خان صَدارَنگ اور اس کا بھتیجا فیروز خان اَدارَنگ بھی اسی دربار سے وابستہ تھے اور خیال گائیکی میں اپنی مثال آپ تھے۔

محمد شاہ موسیقی کا شوقین اور خود بھی ایک گائیک بادشاہ تھا۔ اَنجھا بَرس خان کی عِلمُ الموسیقی میں مہارت اور فن پر عبور کا یہ عالم تھا کہ بادشاہ نے دوسرے گویّوں کے مقابلے میں انہی کو اپنا باقاعدہ اُستاد بنایا۔ محمد شاہ نے اَنجھا بَرس کو ’سَراپارَس‘ اور ’چُون پارَس‘ کے القابات بھی عطا کیے۔

’سَراپارَس‘ کا مفہوم تھا ’سراپا پارَس‘، یعنی ایسا موسیقار جو سر سے پاؤں تک گویا پارَس ہی پارَس ہو اور جس کی پوری ذات فن کو نکھار دینے والی ہو۔

’چُون پارَس‘ کا مفہوم تھا ’پارَس جیسا‘، یعنی ایسا اُستاد جس کی صحبت اور تربیت پارَس کی طرح ایک معمولی فنکار کو بھی باکمال بنا دے۔

’پارَس‘ اُس دیومالائی پتھر کو کہا جاتا ہے جس کے مَس ہونے سے لوہا سونا بن جانے کا تصور کیا جاتا تھا۔ گویا مغل بادشاہ محمد شاہ کے نزدیک اَنجھا بَرس خان ایسا کمال گویا تھا جس کی صحبت میں آکر کوئی خام گویا بھی کامل بن سکتا تھا۔

بعد کے مآخذ میں اَنجھا بَرس خان کو ’تان سین ثانی‘ قرار دیے جانے کی روایت بھی ملتی ہے۔ ۱۸۴۵ء کی فارسی کتاب ’نَغمۂ عَندلیب‘ میں یہ روایت سامنے آتی ہے کہ اَنجھا بَرس خان ’تان سین ثانی‘ کے لقب کے خواہش مند تھے، تاہم اس لقب کو باقاعدہ شاہی منظوری نہ مل سکی۔ اس روایت میں ان کے مقابل نِعمت خان صَدارَنگ کا ذکر آتا ہے۔

ان گویّوں کے درمیان رقابت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اَنجھا بَرس خان ایک طرف تان سین کے قدیم کَلاوَنت خاندان اور دُھرپَد کی مضبوط روایت کی نمائندگی کررہے تھے، جبکہ دوسری طرف نِعمت خان صَدارَنگ اور فیروز خان اَدارَنگ نئی موسیقائی جِدّت، خصوصاً خیال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کررہے تھے۔

موسیقائی رقابت کے باوجود یہ خاندان رشتے داری اور اُستاد شاگرد کے تعلق سے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہوگئے۔ محمد شاہ ہی کے عہد میں نِعمت خان صَدارَنگ نے اپنی بیٹی کی شادی اَنجھا بَرس خان سے کردی۔ اس رشتے کے نتیجے میں تان سین سے چلی آنے والی اَنجھا بَرس کی قدیم کَلاوَنت روایت اور صَدارَنگ کی موسیقائی روایت ایک ہی خاندان میں جمع ہوگئیں۔

اَنجھا بَرس نے صَدارَنگ سے اس کے خاندان کا مخصوص موسیقائی علم بھی حاصل کیا اور اسے اپنے اُستاد کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ دوسری طرف صَدارَنگ کا بھتیجا فیروز خان اَدارَنگ بھی اس کا خاص شاگرد اور داماد تھا۔ یوں اَنجھا بَرس اور اَدارَنگ ایک ہی اُستاد سے وابستہ اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہونے کے باوجود شاہی دربار میں ایک دوسرے کے بڑے فنی حریف رہے۔

اَنجھا بَرس خان کی اصل پہچان اس کی دُھرپَد گائیکی تھی۔ یہ فن اسے اپنے اَجداد سے ورثے میں ملا تھا، مگر اس نے اس روایت کو محض محفوظ ہی نہیں رکھا بلکہ اپنے فن سے اسے مزید نکھارا۔ اُس کی خوبی محض خوش آواز ہونا نہیں تھی؛ وہ راگ کی اصل کیفیت کو سمجھتا، اسے درست انداز میں قائم کرتا اور پھر دُھرپَد کو اسی کیفیت کے مطابق آگے بڑھاتا تھا۔ اس کے گائے ہوئے دُھرپَد میں راگ کی خالص صورت، عمدہ شاعری اور تان کی خوب صورتی ایک ساتھ جمع ہوجاتی تھی۔

اَنجھا بَرس گائیکی میں راگ کی اپنی شخصیت اور اس کے ’رَس‘، یعنی کیفیت کو برقرار رکھنے پر زور دیتا تھا۔ ایک مرتبہ اس سے ’رَس چَندی‘، یعنی مختلف رَسوں اور کیفیتوں کو خلط ملط کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ کئی راگوں کو ملا کر فن دکھانے کے بجائے ایک راگ کو اس کے صحیح مزاج اور پوری تاثیر کے ساتھ پیش کرنا بہتر ہے۔

شاید اسی بنا پر اَنجھا بَرس خان کو ’راگ ساگَر‘ بھی پسند نہیں تھا، جس میں مختلف راگوں کو یکے بعد دیگرے ایک ہی دُھرپَد میں پیش کیا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک فن کی عظمت کثرت میں نہیں بلکہ راگ کی خالص اور مکمل ادائیگی میں تھی۔

اَنجھا بَرس خان کی گائیکی کی ایک اور بڑی خوبی تان اور بَدیہہ گائیکی پر قدرت تھی۔ اس کی گائیکی میں راگ، شعر اور تان ایک دوسرے پر غالب آنے کے بجائے ایک دوسرے کو مکمل کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے گانے کی تاثیر کو صرف فنی مہارت تک محدود نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ اس کے متعلق یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اس کی موسیقی سننے والے کے ذہن اور طبیعت پر گہرا اثر ڈالتی تھی۔ اس کے فن میں تکنیکی مہارت اور جذباتی تاثیر دونوں جمع تھیں۔

اَنجھا بَرس صرف دوسروں کی بندشیں گانے والا گویّا بھی نہیں تھا بلکہ خود دُھرپَد تخلیق کرتا تھا۔ اٹھارہویں صدی کے موسیقیاتی مآخذ میں اس کے تخلیق کردہ دُھرپَدوں کی غیر معمولی تعریف ملتی ہے۔ ایک معاصر روایت میں بھی اسے گائیکی کی سلطنت کا فرمانروا، تان سین کے طریقوں کا ماہر اور اپنے زمانے کا تان سین قرار دیا گیا ہے۔

اَنجھا بَرس خان کی فنی مہارت کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ اہلِ دولت کی موسیقائی محفلوں سے کنارہ کش ہوجانے کے بعد بھی موسیقار اس کے پاس سیکھنے آتے رہے اور وہ اُستاد کی حیثیت سے اگلی نسل کو اپنا علم منتقل کرتا رہا۔ یوں اَنجھا بَرس کی اصل عظمت صرف اس بات میں نہیں تھی کہ وہ محمد شاہ کے دربار کا بڑا گویّا تھا، بلکہ اس میں تھی کہ وہ گانے والا، دُھرپَد تخلیق کرنے والا، راگ کی باریکیوں کو سمجھنے والا اور اپنے فن کے اُصولوں پر واضح رائے رکھنے والا اُستاد تھا۔

اَنجھا بَرس خان کے شاگرد صرف اس کے اپنے خاندان کے کَلاوَنت نہیں تھے بلکہ قَوّال، دوسرے پیشہ ور موسیقار اور شوقیہ موسیقی سیکھنے والے اہلِ علم و اَشراف بھی اس سے تعلیم لیتے تھے۔ جدید تحقیق میں اَنجھا بَرس کے کم از کم آٹھ ایسے نامور شاگردوں کا ذکر ملتا ہے جو اس کے خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔

اس کے خاص شاگردوں میں مُظفّر خان اور کریم سین نمایاں تھے۔ مُظفّر خان کا تعلق شُجاعُ الدّولہ اور آصفُ الدّولہ کے درباروں سے رہا۔ کریم سین بعد میں نیپال کے دربارِ کَٹھمنڈو سے وابستہ ہوا اور ’ناد بَرس‘ کے نام سے دُھرپَد کی روایت کو آگے بڑھایا۔ یوں اَنجھا بَرس کے ذریعے دہلی کی یہ موسیقائی روایت بعد میں اَوَدھ اور کَٹھمنڈو تک پہنچی۔

اَنجھا بَرس کے شاگردوں میں ایک اہم نام محمد پناہ خان قَوّال کا بھی تھا، جس کے بیٹے غلام رضا نے تقریباً ۱۷۹۰ء میں موسیقی پر فارسی رسالہ ’اُصولُ النَّغمات‘ تصنیف کیا۔ اس طرح اَنجھا بَرس کی شاگردی صرف دُھرپَد کے کَلاوَنتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ قَوّالوں کے حلقے تک بھی پہنچی اور اگلی نسل میں موسیقی کی باقاعدہ تصنیف و تحقیق سے جا ملی۔

اَنجھا بَرس خان کے شاگردوں میں فاضل خان بھی تھا، جو اَنجھا بَرس کے حریف نِعمت خان ’صَدارَنگ‘ کا ایک اور بھتیجا تھا۔ وہ پہلے اپنے خاندان کی کھنڈاری کَلاوَنت روایت میں تربیت یافتہ تھا، مگر بعد میں اَنجھا بَرس سے بھی باقاعدہ دُھرپَد کی تعلیم حاصل کی۔ آگے چل کر وہ خود بڑا اُستاد بنا اور بنارس میں شہرت حاصل کی۔

اَنجھا بَرس کا ایک اور نامور شاگرد میاں ضیاءُ الدّین ’ضیاء‘ تھا، جو شاہجہان آباد کا ایک مغل اہلکار، شاعر، صوفی مزاج شخص اور موسیقی کا سنجیدہ طالبِ علم تھا۔ اَنجھا بَرس سے اس کی شناسائی میر غلام حسین اور شیخ عنایت اللہ کے ذریعے ہوئی۔ اَنجھا بَرس نے اس سے مولانا جلالُ الدّین رومی کی ’مَثنویِ مَعنوی‘ پڑھانے کی خواہش ظاہر کی تو ضیاءُ الدّین نے بدلے میں موسیقی سکھانے کی شرط رکھی، جسے اَنجھا بَرس نے قبول کرلیا۔

اسی ضیاءُ الدّین نے تقریباً ۱۷۸۵ء سے ۱۷۸۸ء کے درمیان فارسی میں موسیقاروں کے تذکروں پر مشتمل کتاب ’حَیُّ الاَرواح‘ تصنیف کی، جس کی بدولت پاک و ہند کے کئی دوسرے گویّوں کے ساتھ ساتھ اُس کے اُستاد اَنجھا بَرس کی شخصیت، فن اور زندگی کے کئی اہم واقعات بھی محفوظ ہوئے ہیں۔

اَنجھا بَرس خان نے نادر شاہ کے ۱۷۳۹ء کے ہندوستان پر حملے کے بعد دہلی کی بربادی اور پھر مغل سلطنت کے بتدریج بکھرنے کا زمانہ بھی دیکھا۔ لیکن اہلِ دولت کی محفلوں سے کنارہ کش ہونے کے بعد اس کی اصل دنیا دربار نہیں رہی تھی۔ وہ دَرویشوں کی صحبت میں رہنے لگا اور اس نے اُمرا اور دُنیا داروں سے میل ملاپ ختم کردیا تھا۔

اس کی زندگی کے آخری برسوں کی تفصیلات بہت کم ملتی ہیں۔ اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاہ عالم ثانی کے عہد تک زندہ تھا اور ۱۷۶۰ء کی دہائی میں اس کی وفات ہوئی۔

’حَیُّ الاَرواح‘ میں اَنجھا بَرس خان کی وفات کے عجب اَحوال میں لکھا ہے کہ ایک روز ایک شخص اُس کے عین سامنے آکر بیٹھ گیا اور چند گھڑیوں تک ٹِکٹِکی باندھے اُس کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر اچانک وہ شخص زمین پر گرا اور اُس کی رُوح جسم سے پرواز کرگئی۔ اسی وقت اَنجھا بَرس بھی زمین پر گر پڑا اور اُس کی بھی جان نکل گئی۔

لیکن اَنجھا بَرس خان کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز پہلو اس کی وفات نہیں، بلکہ اس کے بعد اس کے نام کا تقریباً فراموش ہوجانا ہے۔ اپنے زمانے میں اسے ’اپنے عہد کا تان سین‘ کہا گیا، وہ محمد شاہ کا اُستاد تھا، تان سین کے خاندان کی قدیم موسیقائی روایت کا وارث تھا اور اس کے شاگرد مختلف موسیقائی حلقوں میں اس کا علم لے کر آگے بڑھے۔

تاہم اس کے باوجود آنے والی صدیوں میں اَنجھا بَرس خان کے حریف نِعمت خان ’صَدارَنگ‘ اور فیروز خان ’اَدارَنگ‘ کے نام ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں کہیں زیادہ نمایاں ہوگئے، جبکہ وہ آہستہ آہستہ تاریخی حافظے سے اوجھل ہوگیا۔ آج بھی جدید تحقیق اسے محمد شاہ کے دربار کے مرکزی موسیقاروں میں شمار کرتی ہے، مگر یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ بعد کی نسلوں نے اسے تقریباً فراموش کردیا۔

ریڈیو پاکستان کے فیس بک صفحے پر شائع ہونے والی یہ تحریر اسی دَرویش مسلم گویّے، اَنجھا بَرس خان، کی یادآوری کی ایک حقیر سی کوشش ہے۔ گو کہ دَرویش تحسین و ستائش کی طلب سے بے نیاز ہوتے ہیں، تاہم ’حَق بہ حَق دار رسیدن‘ بھی تو عین تقاضائے اِنصاف ہے۔

تحریر: سعیداحمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان