وزیراعظم محمد شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان ملاقات میں فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار بڑھانے اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین ارکان پر مشتمل کمیٹی ان اقدامات کے لیے حتمی سفارشات پیش کرے گی۔
وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کو کمیٹی کے لیے نامزد کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے جماعت اسلامی کی جانب سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر وفد کا شکریہ ادا کیا۔ جماعت اسلامی کے وفد نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا پوری طرح احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں حکومت کم آمدن والے طبقے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت علاقائی بحران کے حل کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہی ہے تاکہ صورتحال معمول پر آ سکے۔ موجودہ بحران کا تعلق حکومتی پالیسیوں سے نہیں بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہے۔ تاہم، حکومت اپنی مالی استطاعت کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔
وزیراعظم نے وفد کو کم آمدن والے طبقے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں اب تک فراہم کیے گئے ریلیف کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس سکیم میں اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔
ملاقات میں جماعت اسلامی کے وفد میں لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ، نصر اللہ رندھاوا اور عنایت اللہ شامل تھے۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی بھی موجود تھے۔