‘اے عِشق ہمیں بَرباد نہ کر’
شاعِرِ رُومان اختر شیرانی کی بَرسی کی مُناسَبَت سے خُصُوصی تَحریر
بَٹوارے کے بعد وہ اپنے خاندان اور اَہلِ خانہ میں سے تَنِ تَنہا ٹونک سے کھوکھراپار، لاڑکانہ کے راستے ۱۹۴۸ء کے اَوائل میں لاہور پہنچے۔ اِرادہ یہ تھا کہ لاہور میں پہلے گھر کا بَندوبَست کر لیں، پھر اَہل و عِیال کو بھی ٹونک سے بُلا لیں گے۔
لاہور میں بَیرونِ مَستی گیٹ اپنے جِگری دوست حکیم نَیّر واسطی کے ہاں آ کر عارضی ٹھکانہ کیا۔ اپنے اَہلِ خانہ کو بُلوانے کے لیے فَسادات کے رُکنے کے مُنتَظِر تھے کہ طبیعت بگڑنے پر اُنہیں میو ہسپتال لاہور میں داخِل کروانا پڑا۔ اور پھر اُسی ہسپتال کے بِسترِ مَرگ سے، ۹ ستمبر ۱۹۴۸ء کے روز، مُلکِ عَدَم کو سِدھار گئے۔
بَٹوارے کے بعد کے لاہور کے وہ سب سے بڑے اُردو شِناس اور اُردو نَویس تھے؛ شاعِر اتنے پُرمَحاسِن کہ اُن کی زِندگی ہی میں اُن کے نام کے ساتھ بِلا اِعتِراض ‘اَبُوالمَعانی’ لکھا جانے لگا تھا، اور نَثر نِگار بھی اِس قَدَر سِکّہ بَند کہ بڑے بڑے نَقّاد اُنہیں ‘اَدیبُ المُلک’ کہنے پر مَجبور ٹھہرے۔
قِسمَت کی سِتَم ظَریفی دیکھیے کہ پاکستان کے حِصّے میں یہ گَوہرِ کَم یاب آیا بھی، تو مَحض چند مہینوں کے لیے۔
‘خُفتَگانِ خاکِ لاہور’ میں اُن کی قَبر کے کَتبے کی تصویر بھی شائع ہوئی ہے۔ کَتبے کے اَلفاظ ہیں:
خواب گاہِ حضرت اَبُوالمَعانی اختر شیرانی مَرحوم
دامانِ خَرابہ زار میں ہے
اِک شاعِرِ نَوجوان کی تُربَت
۹ستمبر ۱۹۴۸ء
اور کَتبے کی دُوسری جانب دَرج ہے:
شاعِرِ رُومان اَبُوالمَعانی
اختر شیرانی
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
شورش شہید رقم — ۱۹۴۸ء
آج اُردو اَدَب کے اِسی شاعِرِ جَواں مَرگ، شاعِرِ رُومان، شاعِرِ شَباب، اَدیبُ المُلک اور ‘اَبُوالمَعانی’ اختر شیرانی کی اَٹھہترویں بَرسی ہے۔
اُردو کے اِس بے مِثال نظم گو اور نثر نِگار کے، ۱۹۴۸ء کے لاہور میں، مُدّاحوں اور قَدر دانوں میں اُس عہد کی اَدَبی و ثَقافَتی دُنیا کی احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، مسعود پرویز اور سعادت حسن منٹو جیسی درجنوں مُمَتاز شخصیات شامل تھیں۔ بلکہ منٹو نے تو اپنے ایک مضمون میں بالواسطہ طور پر یہ بھی لکھا کہ ہم نے اختر شیرانی کا سوگ دو مرتبہ منایا۔
ایک بار تب، جب ‘اُس دَور میں (بمبئی کے) اخباروں میں خبر چھپی کہ اختر صاحب ٹونک سے پاکستان آ رہے تھے کہ راستے میں بلوائیوں نے اُن کو شہید کر دیا۔ بہت افسوس ہوا۔ میں، عصمت اور شاہد لطیف دیر تک اُن کی باتیں کرتے اور افسوس کرتے رہے۔ کئی اخباروں میں اُن کی موت پر مضامین شائع ہوئے۔ اُن کی پرانی نظمیں چھپیں۔ لیکن کچھ عرصے بعد اُن کی موت کی خبر کی تردید ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ وہ بِخیر و عافیت لاہور پہنچ گئے۔ اِس سے بمبئی کے اَدَبی حلقوں کو بہت خوشی ہوئی۔’
لیکن اختر شیرانی کی موت کی یہ خبر غلط ثابت ہونے کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اُن کے دوستوں کو دوسری مرتبہ، اور اِس بار حقیقتاً، اُن کا سوگ منانا پڑا۔ سعادت حسن منٹو نے اِس دوسرے سوگ کا ابتدائیہ کچھ یوں لکھا:
‘اختر صاحب سے آخری مُلاقات میو ہسپتال میں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں وہاں لے گئے جہاں ہمارا رُومانی شاعر، سلمیٰ اور عذرا کا خالق، بے ہوش پڑا تھا۔ بیڈ کے اِردگرد کپڑا تنا تھا۔ ہم نے دیکھا اختر صاحب آنکھیں بند کیے پڑے ہیں۔ لمبے لمبے ناہموار سانس لے رہے ہیں۔ ہونٹ آواز کے ساتھ کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ ہم تینوں اُن کو اِس حالت میں دیکھ کر پژمُردہ ہوگئے۔
میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا: ‘کیا ہم اُن کی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟’
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا: ‘ہم اِمکان بھر کوشش کر چکے۔ اَنتڑیاں بھی جواب دے چکی ہیں۔ صرف ایک دل اچھی حالت میں ہے۔ گو اندھیرے میں اُمید کی بس یہی ایک چھوٹی سی کِرن ہے۔’
جب ہم نے خواہش ظاہر کی کہ ہم اختر صاحب کے اِس وقت میں کسی نہ کسی طرح کام آنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے کہا: ‘اچھا تو میں آپ کو ایک دوا کا نام بتاتا ہوں۔ آپ اُسے حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ یہاں پاکستان میں تو بالکل نایاب ہے، ممکن ہے بھارت میں مل جائے۔’
ڈاکٹر صاحب سے دوا کا نام لکھوا کر میں فیض صاحب، یعنی فیض احمد فیض، کے پاس پہنچا اور اُن کو ساری بات بتائی۔ آپ نے اُسی وقت امرتسر ٹیلی فون کیا اور اپنے اخبار کے ایجنٹ سے کہا کہ وہ دوا حاصل کرکے فوراً لاہور بھیج دے۔ لیکن افسوس، دوا نہ ملی۔ مسعود پرویز نے دہلی فون کیا۔ وہاں سے بھی ابھی جواب نہیں آیا تھا کہ اختر صاحب بے ہوشی کے عالم میں اپنی سلمیٰ اور عذرا کو پیارے ہوگئے۔’(بحوالہ : سعادت حسن منٹو ، “گنجے فرشتے” کا مضمون بعنوان “اختر شیرانی سے چند ملاقاتیں”)
اختر شیرانی کو کچھ عرصہ اور زندہ دیکھنے کی خواہش صرف منٹو، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی اور مسعود پرویز ہی کو نہیں تھی؛ اُن ہزاروں، لاکھوں لوگوں کو بھی تھی جو اختر شیرانی کی ‘اے عِشق ہمیں بَرباد نہ کر’ اور اِس جیسی سیکڑوں لازوال شعری تخلیقات پڑھ اور سُن چکے تھے۔
اختر شیرانی کا اَصل نام محمد داؤد خان تھا۔ وہ ۴ مئی ۱۹۰۵ء کو راجپوتانہ کی ریاست ٹونک میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدِ گرامی حافظ محمود شیرانی اُردو کے نام وَر مُحَقِّق، نَقّاد اور ماہِرِ لِسانیات تھے۔ گھر میں عِلم و تَحقیق کا ماحول تھا، اِس لیے محمد داؤد خان کی اِبتدائی تعلیم و تَربِیَت بھی خاص اِہتمام سے ہوئی۔
تقریباً سولہ برس کی عُمر میں یہ داؤد خان اپنے والد کے ہمراہ لاہور آ گئے۔ یہاں تعلیم جاری رکھی اور اورینٹل کالج لاہور سے مُنشی فاضِل اور اَدیب فاضِل کے اِمتحانات پاس کیے۔
شاعری کا شوق پہلے ہی سے تھا، چُنانچہ لاہور میں داؤد خان نے علامہ تاجور نجیب آبادی سے باقاعدہ اِصلاح لی اور ‘اختر’ تَخَلُّص اِختیار کیا۔چنانچہ اب وہ “اختر شیرانی” تھے ۔ شیرانی اُس قبیلے کا نام ہے ، جس سے وہ اپنی نسبت جوڑتے تھے ۔
یہی لاہور اختر شیرانی کی اَدَبی زندگی کا اَصل میدان بنا۔ اُنہوں نے ‘ہمایوں’ اور ‘سہیلی’ کی اِدارت کی، ‘اِنقلاب’، ‘خیالستان’ اور ‘رُومان’ جیسے رسائل جاری کیے، ‘شاہکار’ کی اِدارت سے بھی وابستہ رہے، جبکہ دوسرے حوالوں میں ‘اِنتخاب’ اور ‘بہارستان’ سے اُن کی اِدارت کا ذِکر بھی ملتا ہے۔
اِسی دَور میں اختر شیرانی کی نظم و نثر ، دونوں نے بھر پور پہچان بنائی۔ وہ اَخبارات ‘ہمدرد’ اور ‘زمیندار’ کے لیے بھی لکھتے رہے۔ یوں لاہور میں اُن کے اَدَبی حلقے، دوستیاں اور دِیرینہ تعلقات بنے؛ اِنہی تعلقات میں حکیم نیّر واسطی سے وہ گہرا یارانہ بھی شامل تھا، جس کا ذِکر اُن کی آخری زندگی میں پھر سامنے آتا ہے۔
بعد کے برسوں میں وہ پھر ٹونک چلے گئے۔ ۱۹۴۶ء میں والد حافظ محمود شیرانی کی وفات کے بعد جملہ خوانگی ذِمّہ داریاں اُن پر آن پڑیں، اور اگلے ہی برس تَقسیمِ ہند نے حالات مزید اُلٹ پُلٹ کر دیے۔
قِیامِ پاکستان کے بعد اختر شیرانی نے ایک بار پھر لاہور کا رُخ کیا ، مگر اب یہ وہ لاہور نہیں تھا جس میں اُنہوں نے جوانی، تعلیم، شاعری، صَحافت اور دوستیوں کے برس گزارے تھے۔ بٹوارے اور فسادات نے بہت کچھ بدل دیا تھا ۔
دوبارہ لاہور پہنچے پر اختر شیرانی اپنے پُرانے جِگری دوست حکیم نیّر واسطی کے ہاں ٹھہرے۔ یوں مضمون کے آغاز میں آنے والا حکیم نیّر واسطی کا ذِکر اچانک پیدا ہونے والا تعلق نہیں، بلکہ اختر شیرانی کے پہلے اور طویل قِیامِ لاہور کی ایک پُرانی یادگار تھا۔
چند ہی ماہ بعد، ۹ ستمبر ۱۹۴۸ء کو، یہی لاہور اختر شیرانی کی آخری آرام گاہ بھی بن گیا۔میانی صاحب میں ان کی قبر آج بھی ان کے چاہنے والوں کو یہاں کھینچ لاتی ہے ۔
صرف تینتالیس برس کی مُختصر زندگی میں اختر شیرانی نے اُردو شاعری کو خاصا بڑا شعری سرمایہ دیا۔ اُن کا پہلا شعری مجموعہ ‘پھولوں کے گیت’ ۱۹۳۶ء میں شائع ہوا، جو بچوں کی نظموں پر مُشتمل تھا۔ اِس کے بعد ‘نغمۂ حرم’ ۱۹۳۹ء، ‘شعرستان’ ۱۹۴۱ء، ‘صبحِ بہار’ ۱۹۴۵ء، ‘اخترستان’ ۱۹۴۶ء، ‘طُیورِ آوارہ’ ۱۹۴۶ء اور ‘لالۂ طُور’ ۱۹۴۷ء سامنے آئے۔ ‘شہناز’ بھی اُن کے آخری دَور کے مجموعوں میں شامل ہے، جبکہ ‘شہرود’ ۱۹۴۹ء میں اُن کی وفات کے بعد شائع ہوا۔
یوں نظم اور غزل ہی نہیں، گیت، رُباعی، ماہِیا اور سانیٹ تک پہلے اختر شیرانی کے شعری تَجرِبے اور پھر اردو کے شعری دبستان ، دونوں کا حصہ بنے۔
اختر شیرانی کے شِعری مَحاسِن میں سب سے نُمایاں رُومانِیّت، نَغمگی، سادگی، لَطافت، جَذبے کی بے ساختگی اور حُسنِ فِطرت سے گہری وابَستگی ہے۔ اُن کے ہاں عِشق مَحض ایک مُجَرَّد خیال بن کر نہیں آتا؛ مَحبوب کا نام ہے، اُس سے گُفتگو ہے، وَصل کی آرزو ہے، ہِجر کی کَسک ہے اور اِن سب کے گِرد پھول، چاندنی، سِتارے، پہاڑ، وادیاں اور موسم سانس لیتے مَحسوس ہوتے ہیں۔ سلمیٰ، عذرا، ریحانہ اور شہناز جیسے ناموں نے اُن کی رُومانی دُنیا کو ایک ایسی شَخصی فضا دی جو اُس زمانے کی اُردو شاعری میں خاصی مُنفرد تھی۔
اُن کا دوسرا بڑا کمال شِعری ہَیئت اور آہنگ میں تَجرِبہ تھا۔ پنجابی کے ماہِیے، ہندی کے گیت اور اَنگریزی کے سانیٹ کو اُنہوں نے اُردو شاعری میں بڑی خُوبی سے برتا؛ بالخصوص اُردو میں باقاعدہ سانیٹ نِگاری کے اِبتدائی اور اَہم مِعماروں میں اُن کا شُمار ہوتا ہے۔ اُن کے شِعر کی یہی مُوسِیقِیّت شاید ایک سبب ہے کہ اُن کا کلام کتاب کے صَفحے تک مَحدود نہیں رہا، بلکہ گانے والوں کی آواز میں بھی زِندہ رہا ہے ۔
اختر شیرانی کے نام کے ساتھ جس نظم کا رِشتہ شاید سب سے مَضبوط ہو گیا، وہ ‘اے عِشق ہمیں بَرباد نہ کر’ ہے۔ عِشق کے سامنے ایک کم عُمر اور بے بَس دِل کی فَریاد کو اختر شیرانی نے ایسی سادہ، رَواں اور نَغمگی سے بَھرپور زبان دی کہ یہ نظم اُن کی شِناخت بن گئی:
‘اے عِشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر
پہلے ہی بہت ناشاد ہیں ہم، تُو اور ہمیں ناشاد نہ کر
قِسمت کا سِتَم ہی کم نہیں کچھ، یہ تازہ سِتَم اِیجاد نہ کر
یوں ظُلم نہ کر، بیداد نہ کر
اے عِشق ہمیں بَرباد نہ کر’
اختر شیرانی کے لفظوں کی یہی نَغمگی تھی کہ اُن کا کلام کتاب کے صَفحوں سے نکل کر گائیکی اور نَشریات کی دُنیا میں بھی پہنچا۔
پاکستان کی مُمَتاز گلوکارہ نَیّرہ نُور نے ‘اے عِشق ہمیں بَرباد نہ کر’ کو اپنی آواز دی اور یہ کلام اُن کی گائی ہوئی معروف اُردو شاعری میں شامل ہو گیا۔ ریڈیو پاکستان سے بھی یہ کلام نَشر ہوتا رہا ہے۔ یوں اختر شیرانی کے لفظوں کو نئی نسلوں تک پہنچانے میں اِس قومی نَشریاتی اِدارے نے بھی اپنا بَھرپور حصّہ ڈالا ہے۔
اختر شیرانی کے کلام کو نَیّرہ نُور کے علاوہ مَلِکہ پُکھراج، اِقبال بانو، حبیب ولی محمد، مُنی بیگم اور عابدہ پروین جیسی بُلند پایہ آوازیں بھی نَصیب ہوئیں۔
اِقبال بانو کی گائی ہوئی اختر شیرانی کی غزل ‘تازہ بہ تازہ، نَو بہ نَو، جلوہ بہ جلوہ، چھائے جا’ بھی اُس رِوایت کا حصّہ بنی، جس میں اُردو کے بڑے شاعروں کا کلام ریڈیو پاکستان کے ذریعے گھر گھر پہنچا۔
اختر شیرانی کی شُہرت پر اُن کی شاعری کا رنگ اِس قَدَر گہرا ہے کہ اُن کا نثر نِگار اکثر شاعِرِ رُومان کے پیچھے چھپ جاتا ہے، حالاں کہ نثر میں بھی اُن کا سرمایہ کم وَقیع نہیں۔ اُنہوں نے اَفسانے لکھے، خُطوط تحریر کیے، تَراجِم کیے، مَضامین اور کالم لکھے اور رَسائل کی اِدارت کے ذریعے اُردو نثر کی خِدمت کی۔
اختر شیرانی کے اَفسانوی مجموعے ‘دھڑکتے دل’ میں طبع زاد اَفسانوں کے ساتھ دوسری زبانوں سے تَرجمہ کیے گئے اَفسانے بھی شامل ہیں، جبکہ ‘آئینہ خانے میں’ اُن کے پانچ اَفسانوں کا مجموعہ ہے، جنہیں فِلمی اَداکاراؤں کی آپ بیتی کی صُورت میں لکھا گیا۔ ‘اختر اور سلمیٰ کے خُطوط’ اُن کی شُگُفتہ، رَواں اور رُومانی نثر کا ایک اور خُوب صُورت نَمونہ ہیں۔
تَرجمے کے میدان میں اختر شیرانی نے تُرکی ڈرامہ نِگار سامی بے کے ڈرامے ‘کاوے’ کو ‘ضحاک’ کے نام سے اُردو کا جامہ پہنایا، جبکہ ‘فسانۂ آزاد’ کی تَلخیص و تَسہیل بھی بچوں کے لیے کی۔ سدیدالدین محمد عوفی کی ‘جوامع الحکایات و لوامع الروایات’ کو اُردو میں مُنتقل کرنے کا عِلمی کام بھی اُن سے مَنسوب ہے۔
اختر شیرانی کی نثر کا ایک بڑا حصّہ اُس زمانے کے اَخبارات و رَسائل میں بکھرا رہا۔ وہ مُختلف موضوعات پر مُختلف قَلَمی ناموں سے بھی لکھتے تھے؛ ‘ابنِ بطوطہ ایں جہانی’، ‘بالم’، ‘راجکماری بکاولی’، ‘زبور’، ‘ضحاک’، ‘عکاس’، ‘لارڈ بائرن آف راجستھان’، ‘مسعود خسرو شیرانی’ اور ‘مُلّا فرقان’ اُن کے اِستعمال کیے ہوئے قَلَمی ناموں میں شُمار ہوتے ہیں۔ بعد میں اُن کی بکھری ہوئی نثری نِگارشات کو جمع کرنے کی کوشش بھی ہوئی اور ‘نثرِ اختر’ کے نام سے اُن کے مَضامین یک جا کیے گئے۔
اختر شیرانی کی نثر میں بھی وہی رَوانی، رَنگینی، لَطافت اور بے ساختگی دِکھائی دیتی ہے جو اُن کی شاعری کا اِمتیاز ہے۔ شاید اِسی لیے اُنہیں صرف ‘شاعِرِ رُومان’ کے خانے میں بند کر دینا اُن کی اَدَبی شَخصیت کے آدھے حصّے کو نَظر اَنداز کرنا ہے۔
اختر شیرانی تو اپنی مَشہورِ زمانہ نظم میں کہتے رہے:
‘اے عِشق نہ چھیڑ آ آ کے ہمیں، ہم بھولے ہوؤں کو یاد نہ کر’
مگر اُن کی مَدفن گاہ کے باسی، اَہلِ لاہور، اُنہیں کہاں بھول سکتے ہیں؟ آج بھی میانی صاحب میں اپنے پیاروں کی فاتِحہ کے لیے جانے والا کوئی نہ کوئی صاحِبِ ذَوق، اختر شیرانی کی قَبر پر بھی رُک کر فاتِحہ ضرور پڑھتا ہے۔
اَہلِ پاکستان بھی اُنہیں نہیں بھولے، بلکہ دُنیا میں جہاں جہاں اُردو شِعر و سُخن سے دِل چَسپی رکھنے والے موجود ہیں، ‘اَبُوالمَعانی’ اختر شیرانی ہمیشہ اُن کی یادداشتوں میں مَحفوظ رہیں گے۔
اَہلِ پاکستان کی اختر شیرانی سے مَحبّت و مَوَدّت کا ایک ثُبوت یہ بھی ہے کہ آج، ۹ ستمبر ۲۰۲۶ء کو، اختر شیرانی کی اَٹھہترویں بَرسی کے دن، پاکستان کے قومی نَشریاتی اِدارے ریڈیو پاکستان نے نہ صرف اُردو کے اِس ‘شاعِرِ رُومان’ کو بِذریعۂ تَحریرِ ہٰذا، حَسبِ تَوفیق، یاد رکھا ہے، بلکہ آج رات ریڈیو پاکستان لاہور اُنہیں ایک آڈیو ڈاکومنٹری کے ذریعے خَراجِ عَقیدت بھی پیش کرے گا۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان