وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پوری مسلم اُمہ کا مقدمہ دو ٹوک انداز میں پیش کیا۔
وہ آج سہ پہر اسلام آباد میں خیبرپختونخوا کے لیے وزیراعظم کے رابطہ کار اختیار ولی خان اور رکن صوبائی اسمبلی جلال خان کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
وزیر اطلاعات نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور فلسطینی بچوں ہند رجب اور وفا عقیلہ کی المناک داستانوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کے خطاب پر فلسطینی نمائندوں کی جانب سے تالیاں بجائیں گئیں جبکہ دنیا بھر میں بھی اسے سراہا گیا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے اسلاموفوبیا، ہندوتوا نظریے اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مظالم کے خلاف بھی دوٹوک الفاظ میں بات کی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ حق خودارادیت ہر کشمیری کا بنیادی حق ہے۔
سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے بھارتی اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ اور جرات مندانہ قیادت میں پاکستان نے جنگ میں بھارت کو شکست دی۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے مکہ مکرمہ کو بھی ریڈلائن قرار دیا اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لا کر امن کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا۔
عطا اللہ تارڑ نے ملکی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گرد عناصر کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف موثر اور فیصلہ کن کارروائی کرنے سے گریزاں ہے اور اسے صوبے میں سیاست اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ پر مبنی جرائم سے تعبیر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گرد حملوں کی مذمت بھی نہیں کرتی اور پارٹی ٹی ٹی پی کی بی ٹیم اور افغان طالبان کی سی ٹیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عوام کو متحرک کرنے میں ناکام رہی جس وجہ سے لانگ مارچ ملتوی کرنا پڑا اور اب وہ اپنی سیاسی ساکھ کھو چکی ہے۔
اس موقع پر خیبر پختونخوا کیلئے وزیراعظم کے رابطہ کار اختیار ولی خان نے بھی امن و امان کی صورتحال پر خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
نو مئی کے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے مظاہرین کی جانب سے جلائے گئے ریڈیو پشاور کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریڈیو اسٹیشن کی مختصر مدت میں تعمیر نو کی گئی اور اسے بہتر شکل میں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔