Saturday, 05 September 2026, 04:09:34 pm
 
اُستاد کی دُعا سے ”پَکّا شاعر“ بننے والے وارث لُدھیانوی کی برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر
September 05, 2026

آج معروف پنجابی شاعر اور فلمی نغمہ نگار وارث لُدھیانوی کی برسی منائی جا رہی ہے۔ استاد دامن کی شاگردی سے ’’پکا شاعر‘‘ بننے والے وارث لُدھیانوی نے اپنے سادہ اور خالص پنجابی گیتوں کے ذریعے فلمی موسیقی میں منفرد مقام حاصل کیا۔

اُن کا اَصل نام تو مُحمّد اِسماعیل تھا، مگر کیونکہ کَم سِنّی ہی میں شاعری کے شَغَف کے سبب اُنہوں نے ‘عاجِز’ تخلّص کے ساتھ شعر موزوں کرنا شروع کر دیا تھا، تو لُدھیانہ کے اپنے اَڑوس پڑوس میں وہ اپنے اِسی تخلّص ‘عاجِز’ اور گُجّر برادری سے اپنی نسبت کے باعث (اپنے اصل نام کی بجائے) ‘عاجِز گُجّر’ کے طور پر ہی معروف تھے۔

۱۹۴۷ء میں ہِندوستان کا بَٹوارہ اُنہیں لُدھیانے سے لاہور لے آیا ۔ اس شہر بے مثال میں اس سادہ لوح گُجر کیلئے سب کچھ ہی نیا تھا، اگر کچھ پُرانا تھا تو اُن کا شاعری کا شوق ۔ وہ بیٹھے بیٹھے مِصرعے جوڑنے لگتے ، پھر اُنہیں گُنگناتے اور ایسے خوش ہوجاتے جیسے کوئی معصوم بچہ پیٹ میں گُدگُدیاں کئے جانے پر خوش ہوتا ہے ۔

اُن کی اس منفرد حالت کو بار بار دیکھ کر اُن کے کسی دانا، واقفِ حال نے اُنہیں یہ کہہ کر کہ ‘بے اُستادا’ کبھی تَرقّی کی سِیڑھی نہیں چڑھ پاتا ، مُشورہ دیا کہ کسی پَکّے اُستاد شاعر کی شاگردی اختیار کر لو، ورنہ کَچّے رہو گے۔۔

عاجِز گُجّر کو مُشورہ ٹھیک لگا تو اُنہوں نے اُستاد کی تلاش میں لاہور کے ٹکسالی دروازے کے شاعر، اُستاد دامن کے آگے جا کر مِٹھائی رکھ دی۔

اُستاد اور شاگرد، دونوں ہی بڑے فَراخ دل تھے، اور دونوں ہی ایک دوسرے سے بڑھ کر دَرویش طبع۔ چند مہینوں کے بعد اُستاد کو لگا کہ شاگرد اکثر پَیدل یا کبھی کبھار ٹانگے کا سفر کرکے بڑی مُشکل سے اُن تک پہنچ پاتا ہے، تو اُس سے کہا کہ پُتّر! تو اب اُستاد کی دُعا سے پَکّا ہوگیا ہے، بھاگ مَند بنے گا، روز آنے جانے کی تکلیف مت کیا کر۔

شاگرد کا اُستاد کی دُعا پر بڑا اِعتقاد تھا؛ اُسے لگا کہ وہ واقعی اب اُستاد کی دُعا سے پَکّا ہوگیا ہے۔ خُوشی خُوشی اُستاد سے کمر پر تھپکی لے کر اِجازت طلب کی۔ جانے کا اِذن مل گیا تو اُستاد سے پوچھا کہ تخلّص یہی عاجِز ہی ٹھیک ہے؟ اُستاد نے کہا کہ وارث شاہ اور لُدھیانہ سے تعلق جوڑ، وارث لُدھیانوی تخلّص رکھ لے۔

چُنانچہ اُس دن ، جب وہ اُستاد دامن کی بیٹھک سے نکلا، تو اپنے تئیں وہ ایک پَکّا شاعر تھا؛ وہ ‘وارث لُدھیانوی’ تھا۔

اُردو فلموں کا زمانہ تھا اور یہ وارث لُدھیانوی، پنجابی اَکھّر منظوم کرنے والا ایک گُم نام شاعر تھا۔ جَوہر کو موقع کی تلاش تھی اور یہ موقع ۱۹۵۳ء کی پنجابی فلم ‘شہری بابو’ نے اُسے فراہم کر دیا۔ وہ اس فلم میں اپنے تینوں گِیتوں—‘گَلّاں سُن کے ماہی دے نال میریاں’، ‘راتاں میریاں بنا کے ربّا ہَنیریاں’ اور ‘اِک مُنڈے دی چیز گُواچی’—کے ذریعے ایک پَکّے شاعر کی ٹھاپ کے ساتھ پردۂ گمنامی سے باہر آگیا۔

اگر اُستاد کی پیش گوئی کے مطابق اُسے خود کو پَکّا شاعر منوانے میں کوئی کَسر رہ گئی تھی تو وہ ۱۹۵۸ء کی فلم ‘مُکھڑا’ کے گِیت ‘دِلّا! ٹھہر جا، یار دا نَظارہ لَین دے’ نے پوری کردی۔

اب وہ پنجابی بولنے اور سمجھنے والے ہر عام و خاص کے نزدیک ایک پَکّا شاعر تھا۔ تاہم جب بھی کوئی اُسے نصیب ہونے والی شُہرت اور نام وَری کے بارے میں سوال کرتا، تو وہ یہی کہتا کہ اُستاد کی دُعا ہے، بس!

آج اُستاد کی دُعا سے بھاگ مَند بننے والے پنجابی زبان کے اِسی پَکّے شاعر اور فلمی گِیت نگار ، وارث لُدھیانوی کی چَونتیسویں بَرسی ہے۔

مُحمّد اِسماعیل (وارث لُدھیانوی) ۱۱ اَپریل ۱۹۲۸ء کو لُدھیانہ کے ایک گُجّر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ لُدھیانہ میں میٹرک تک ہی تعلیم حاصل کر پائے تھے کہ ہِندوستان کا بَٹوارہ ہوگیا۔ چنانچہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ نقل مکانی کر کے لاہور آ گئے اور گھوڑے شاہ سے مُلحَق سُلطان پورہ میں اپنا مسکن بنایا۔

ایک روایت کے مطابق، وارث لُدھیانوی نے کچھ عرصہ محکمۂ ریلوے میں بھی ملازمت کی، لیکن نوکری میں دل نہ لگا تو گُزر بَسر کے لیے بھینسوں کا باڑا بنا لیا۔ اُنہیں مور پالنے کا بھی بہت شوق تھا اور اُن کی رہائش گاہ اور باڑے، دونوں ہی میں درجنوں مور پھرتے رہتے تھے۔

وارث لُدھیانوی کا رہن سہن بڑا سادہ تھا۔ عام لباس پہنتے اور سر پر پگڑی باندھتے تھے۔ مالی آسودگی اور شُہرت کے باوجود اُنہوں نے سُلطان پورہ کی سادہ رہائش نہ چھوڑی اور تمام زندگی یہیں بھینسیں پالنے، اُن کا دودھ بیچ کر رِزقِ حلال کمانے اور گیت لکھنے میں گزار دی۔

وارث لُدھیانوی کی اَزدواجی زندگی اور اولاد کے بارے میں قابلِ اعتماد تفصیلات دستیاب نہیں؛ البتہ ایک روایت کے مطابق، اُن کا ایک انجینئر بیٹا آج کل اَمریکا میں مقیم ہے۔

۵ستمبر ۱۹۹۲ء کو اُنہیں دل کا دَورہ پڑا اور اُنہوں نے اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ مقامی روایت کے مطابق، اُنہیں یحییٰ کالونی کے قریب، محلّہ کوٹ خواجہ سعید کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

‘شہری بابو’ اور ‘مُکھڑا’ کی کام یابی نے وارث لُدھیانوی کے لیے فلمی دُنیا کے دروازے کھول دیے۔ اِس کے بعد تقریباً چار دہائیوں تک اُن کے لکھے ہوئے گِیت پنجابی فلموں میں گونجتے رہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق وارث لُدھیانوی نے ۲۷۸ فلموں کے لیے ۵۷۵ گِیت لکھے، جن میں ۲۵۷ پنجابی فلموں کے ۵۶۷ پنجابی گِیت اور پانچ اُردو فلموں کے لیے لکھے گئے پانچ گِیت شامل ہیں۔ یوں اُن کی بنیادی شناخت پنجابی فلمی نغمہ نگاری ہی رہی، لیکن اُن کا قلم اُردو فلموں تک بھی پہنچا۔

۱۹۵۹ء کی فلم ‘کرتار سنگھ’ کے گِیت ‘دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا’ کو نسیم بیگم نے سلیم اقبال کی موسیقی میں گایا۔ یہ محض ایک کام یاب فلمی گِیت نہیں رہا بلکہ شادی بیاہ کی تقریبات، بالخصوص بھائی کی بارات کے موقع پر گایا جانے والا ایسا مقبول گِیت بن گیا جسے رفتہ رفتہ لوک گِیت کا درجہ حاصل ہوگیا۔

۱۹۶۰ء کی فلم ‘مِٹّی دیاں مُورتاں’ میں اُن کا گِیت ‘دِلاں دیاں میلیاں نے، چن جیہیاں صورتاں’ ناہید نیازی اور آصف خان کی الگ الگ آوازوں میں ریکارڈ ہوا، جب کہ عنایت حسین بھٹی نے بھی اِس کے بول گائے۔ ایک ہی گِیت کا مختلف آوازوں میں فلمایا جانا اُس کی غیرمعمولی مقبولیت کی دلیل بنا۔

۱۹۶۸ء کی فلم ‘پگڑی سنبھال جٹا’ کا ‘چن، چن دے سامنے آ گیا’ نذیر بیگم اور مالا نے طفیل فاروقی کی موسیقی میں گایا۔ عید کی خوشی اور چاند کی آمد کو محبوب کے استعارے سے جوڑنے والا یہ گِیت تہواروں کی موسیقی میں اپنی الگ پہچان بنانے میں کام یاب رہا۔

۱۹۶۹ء کی فلم ‘غیرت مند’ میں نسیم بیگم نے بخشی وزیر کی موسیقی میں ‘وے مَیں دل تیرے قدماں وچ رکھیا’ گایا جو بے حدمقبول ہوا۔ وارث لُدھیانوی کی خُوبی یہی تھی کہ وہ رومانی جذبات کے ساتھ ساتھ پنجاب کے خاندانی رشتوں، رسموں اور تہواروں کو بھی فلمی گِیت میں سمو دیتے تھے۔

۱۹۷۰ء کی اُردو فلم ‘رنگیلا’ کے لیے تصوّر خانم نے نذیر علی کی موسیقی میں اُن کا شوخ پنجابی گِیت ‘وے سب توں سوہنیا، ہائے وے من موہنیا’ گایا۔ اُردو فلم میں شامل ہونے کے باوجود یہ گِیت اپنی پنجابی چاشنی کے باعث بے حد مقبول ہوا۔

اِسی سال فلم ‘چن پُتّر’ میں نسیم بیگم کی آواز اور بابا جی اے چشتی کی موسیقی سے سجا ‘سانوں وی لے چل نال وے، باؤ سوہنی گڈی والیا’ سامنے آیا اور اپنی شوخی، سادہ بولوں اور عوامی دُھن کے باعث زبان زدِ عام ہوگیا۔

۱۹۷۲ء کی فلم ‘ٹھاہ’ میں وارث لُدھیانوی کی گِیت نگاری نے ایک اور رنگ اختیار کیا۔ غلام علی نے صفدر حسین کی موسیقی میں ‘پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نے تکیا’ گایا تو اُن کی درد میں ڈوبی آواز نے اِسے فلمی گِیت اور غزل کے درمیان ایک خُوب صورت امتزاج بنا دیا۔ اِسی فلم میں ملکۂ ترنّم نورجہاں کی آواز میں ‘تیرے مِلن نوں آئی بڑے چاؤ کرکے’ بھی مقبول ہوا۔

۱۹۷۳ء کی فلم ‘خُوشیاں’ میں مسعود رانا کی آواز، وجاہت عطرے کی موسیقی اور مُنوّر ظریف کی پُرمزاح اداکاری نے ‘میرے پیراں وچ گھنگھرو پوا دے’ کو ایک یادگار تفریحی گِیت بنا دیا۔

اِس کے کئی برس بعد ۱۹۸۱ء کی بلاک بسٹر فلم ‘شیر خان’ میں ملکۂ ترنّم نورجہاں نے وجاہت عطرے کی موسیقی میں ‘جھانجریاں پہنا دو، بندیا وی چمکا دو’ گایا۔ انجمن پر فلمایا گیا یہ گِیت فلم کی کام یابی کے ساتھ خود بھی پنجاب کے مقبول ترین ناچ گِیتوں میں شامل ہوگیا۔

وارث لُدھیانوی کے دوسرے معروف گیتوں میں ‘اَساں جان کے مِیت لئی اَکھ وے’، ‘پھِکّی پے گئی چن تاریاں دی لَو’، ‘ڈورے کھچ کے نہ کجلا پائیے’، ‘چھم چھم پیلاں پاواں’، ‘ڈاڈھا بھیڑا عِشقے دا روگ’، ‘رَبّا! ایہدے نالوں موت سُکھالی’، ‘چُھپ جاؤ تاریو، پا دیو ہنیر وے’، ‘چنّا، تیری یاد وِچ’، ‘جھانجھر دی پاواں چھنکار’، ‘جے میں ہوندی ڈھولنا، سونے دی تویتڑی’، ‘میں چڑھی چوبارے عِشق دے’، ‘بھاویں مینوں کَمْلی کہہ لے’، ‘مینوں تیرے جیہا سوہنا دلدار مِلیا’، ‘پاگل نیں اوہ، جیڑے سچّا پیار کردے نیں’ اور ‘اَسیں کیہڑے پاسے جائیے، یار تیرے مِلنے نوں’ شامل ہیں۔

اُن کے دیگر مقبول گیتوں میں ‘باریں برسیں کھٹّن گیا سیں’، ‘نی چنبے دیے بند کلیے’، ‘تیری اَکھ دا نئیں جواب’، ‘تِلّے دی تار چنّا’، ‘اَکھاں تیریاں تے راہواں میریاں’، ‘پیار ہُن حدّوں وَدھ گیا وے’، ‘ماں دی اَکھ توں اَج وِچھڑ گیا اے’، ‘اینا سوہنیاں دا دوستو، یارانا بُرا ہوندا جے’، ‘چُپ کرکے گڈّی دے وِچ بہہ جا’، ‘مائے نی، چُنّی کیسری’، ‘مَیں آپ کھڈونا’، ‘میری جھانجھر کَمْلی’، ‘نبیؐ دے اَسیں غلام’، ‘جگ دا میلہ ویکھّی جا’ اور ‘میرے دُکھڑے مُکا دے ربّا میریا’ بھی شامل ہیں۔ یہ گیت فلمی پردے سے نکل کر عام لوگوں کی خُوشی، غم، محبت، جُدائی، خاندانی رشتوں اور شادی بیاہ کی آواز بن گئے۔

وارث لُدھیانوی کی گِیت نگاری کا سب سے بڑا وصف اُن کی زبان کی سادگی، روانی اور خالص پنجابی مزاج تھا۔ اُنہوں نے گِیتوں میں ایسے الفاظ، محاورے، تشبیہیں اور استعارے برتے جو پنجاب کے کھیتوں، میلوں، چوپالوں، گلیوں اور گھروں میں پہلے ہی سے لوگوں کی زبان پر تھے۔

وارث لُدھیانوی کے گیتوں کے مصرعے بناوٹ اور لفظی نمائش سے پاک، مختصر اور ترنّم سے بھرپور ہوتے تھے؛ اِسی لیے موسیقاروں کو اُن کی دُھن بنانے، گلوکاروں کو گانے اور عام لوگوں کو یاد رکھنے میں دُشواری پیش نہیں آتی تھی۔ وہ فلمی صورتِ حال، کردار کے طبقے اور اُس کے جذبات کو سامنے رکھ کر گِیت لکھتے، اِس لیے اُن کے بول پردے پر اجنبی محسوس ہونے کے بجائے کہانی اور کرداروں ہی کی آواز بن جاتے تھے۔

وارث لدھیانوی کی گِیت نگاری کا ایک اور نمایاں وصف موضوعات اور جذبات کی وُسعت تھی۔ وہ محبت کی شوخی، ہجر کی اُداسی، شادی بیاہ کی خُوشی، بہن بھائی کی اپنائیت، ماں کی شفقت، دیہاتی زندگی کی سادگی، مزاح، عقیدت اور وطن سے محبت—ہر جذبے کو یکساں سہولت سے گِیت میں ڈھال لیتے تھے۔

وارث لُدھیانوی کے گِیتوں میں پنجاب کی ثقافت محض پس منظر کے طور پر موجود نہیں ہوتی بلکہ رسموں، رشتوں، لباس، زیورات، موسموں اور روزمرّہ بول چال کی صورت میں پوری طرح سانس لیتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اُن کے بہت سے گِیت اپنی فلموں اور گلوکاروں کی پہچان سے آگے نکل کر لوگوں کی اجتماعی یادداشت کا حصّہ اور پنجاب کی ثقافتی زندگی کی مستقل آواز بن گئے۔

وارث لُدھیانوی پاکستان کے اُن خوش بخت شاعروں میں شامل ہیں جنہیں اپنی زندگی ہی میں وہ شُہرت اور پذیرائی مل گئی جس کے وہ مستحق تھے۔ پاکستانی فلمی گِیت نگاروں کی فہرست اُن کے ذِکر کے بغیر کبھی مکمل نہیں ہوسکتی۔

اُستاد کی دُعا سے ‘پَکّا شاعر’ بننے والا وارث لُدھیانوی اپنے فن کا لوہا منوا کر ہی اِس دُنیا سے رُخصت ہوا۔ مگر اُستاد کی دُعا کی تاثیر دیکھیے کہ آج بھی جب کسی شادی بیاہ والے گھر سے ڈھولک کی تھاپ پر سکھیوں کی آواز میں ‘دیساں دا راجا، میرے بابل دا پیارا’ گایا جاتا ہے تو یوں گُمان ہوتا ہے جیسے وہ بعد از مرگ بھی اپنے فن کا لوہا منوانے پر مُصر ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان