’’کھوجی ‘‘برٹش اِنڈیا کے وہ کردار جنہوں نے اپنی ذِہانت سے اَنگریزوں کو وَرطۂ حیرت میں مُبتلا کیا۔
جائے وارِدات ’آدم کوٹ‘ گاؤں میں زمیندار غلام رسول کی رہائش گاہ کے قریب، گھاس کے بڑے بڑے ڈھیروں اور خشک ببول کی باڑ سے گھرا ہوا ایک مُختصر احاطہ تھا۔
فقیرا کھوجی اُس احاطے کے اندر اور آس پاس قَدموں کے نِشانات کا دیر تک جائزہ لیتا رہا، پھر اپنی قَطعی رائے دیتے ہوئے بولا:
’’صاحب! پاؤں کے نِشانات صِرف ایک ہی شخص کے ہیں۔‘‘
فقیرا کھوجی کی اِسی قَطعی رائے نے اَنگریز پولیس اَفسر کو قَتل کی گُتّھی سُلجھانے کی پہلی اور سب سے اَہم کلید فراہم کردی۔
مقتول کا ایک ہَم شکل جُڑواں بھائی بھی تھا؛ اَنگریز پولیس اَفسر بھانپ گیا کہ باقی اَعضا کی طرح صِرف اُسی بھائی کے پاؤں ہی مقتول کے اِس قدر ہُوبہُو مُماثل ہوسکتے ہیں کہ فقیرا کھوجی اُنہیں قَطعیت کے ساتھ ایک ہی شخص کے پاؤں کے نِشانات قرار دے رہا تھا۔
دوسرے لفظوں میں، قَدموں کے جن نِشانات کو فقیرا کھوجی ایک ہی شخص سے مَنسوب کررہا تھا، اَصل میں اُن دونوں بھائیوں ہی کے تھے، جن میں سے ایک نے چُھپ کر دوسرے بھائی کے سر کے پچھلے حِصّے پر لاٹھی کا وار کرکے اُسے قَتل کیا تھا۔
فقیرا کھوجی کا ذِکر برطانوی ہندوستان کے پولیس اَفسر سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس نے ۱۹۰۵ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب “جان کیروتھرز: اِنڈین پولیس مین” میں کیا ہے۔ یہ کتاب کاکس کے طویل پولیس تَجربے کے پس منظر میں لکھی گئی پولیس داستانوں کا مجموعہ ہے اور فقیرا کا کردار اِسی کتاب کی ’دِی وِیلز آف دِی گاڈز‘ کے عنوان کے تحت لکھی گئی ایک کہانی میں سامنے آتا ہے۔
برٹش اِنڈیا کے اَفسروں کو ہندوستان کے جن مُعاملات نے وَرطۂ حیرت میں مُبتلا کیا، اُن میں ایک یہاں کے مقامی کھوجیوں کی قَدموں کے نِشانات پڑھنے کی غیر مَعمولی مَہارت تھی۔ یہ لوگ رسمی تعلیم سے مَحروم ہونے کے باوجود مَحض قَدموں کے نِشانات دیکھ کر کسی مُشتبہ شخص کی چال، جسمانی ساخت، سَمتِ سَفر اور اُس کے بوجھ اُٹھائے یا خالی ہاتھ ہونے تک کا اَندازہ لگا لیتے تھے۔ اِنہی نِشانات کی بُنیاد پر بعد میں پولیس مُجرم کے دروازے تک پہنچ جاتی تھی۔
صِرف یہی نہیں، کھوجیوں کی قَدموں کے نِشانات پڑھنے کی یہ صلاحیت صِرف اِنسانی پاؤں تک مَحدود نہیں تھی؛ بلکہ وہ اُونٹ، گھوڑے، گائے، بَیل اور دُوسرے جانوروں کے قَدموں کے نِشانات کو بھی الگ الگ پہچاننے کی خُداداد مَہارت رکھتے تھے۔
سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس نے اپنی کتاب میں ٹنڈو غلام محمد کے فقیرا کھوجی کے ساتھ ساتھ شہدادپور کے موسیٰ اور نوشہرو کے عظیم الدین کھوجی کا نام بھی لیا ہے۔ اِن دونوں کی مَہارت کے مُتعلّق مُبالغۃً مشہور تھا کہ وہ آنکھیں بند کرکے بھی کسی نِشان کا تَعاقُب کرسکتے تھے۔ (بحوالہ: سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس، “جان کیروتھرز: اِنڈین پولیس مین”، ۱۹۰۵ء، صفحات ۲۰۸ تا ۲۲۸)
سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس کے مُطابق فقیرا کھوجی، موسیٰ کھوجی اور عظیم الدین کھوجی جیسا ماہر تو نہیں تھا، مگر اِس کے باوجود وہ نہایت باریک فرق کی بُنیاد پر دو اَفراد کے ہُوبہُو اور بظاہر ایک جیسے پاؤں کے نِشانات میں سے ایک کو دوسرے سے مُمتاز کرسکتا تھا۔
فقیرا کھوجی کی اِس مَہارت کا اَندازہ سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس کو اُس وقت ہوا جب جائے وارِدات پر فقیرا کھوجی نے بتایا کہ اُس نے اپنی زندگی میں ہزاروں اَفراد کے پاؤں کے نِشانات دیکھے؛ سبھی ایک دوسرے سے مختلف تھے، تاہم ٹنڈو غلام محمد کے نور احمد اور گڑھی تیغو کے فقیر دین کے پاؤں کے نِشانات ویسے تو بالکل ایک جیسے تھے، لیکن نور احمد کے دائیں پاؤں کے اَنگوٹھے کے نیچے کا اُبھار مَعمولی سا بڑا تھا۔
سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس کے مُطابق فقیرا کھوجی دُبلا پَتلا اور عُمر رَسیدہ شخص تھا، جس کے بال سفید اور اُلجھے ہوئے تھے۔ اُس کے اُلجھے ہوئے بالوں کی لمبی لَٹیں اُس کی بوسیدہ پگڑی کے نیچے سے باہر نکلی ہوئی تھیں۔ غُربت اور خَستہ حالی کے باوجود اُس نے پولیس اَفسر کو نہایت باوَقار اَنداز میں سلام کیا تھا؛ مُصنّف کے بقول اُس کا آداب بجا لانے کا اَنداز ایسا تھا جو کسی شاہی دربار کو بھی زیب دیتا۔
سَر ایڈمنڈ چارلس کاکس نے فقیرا کو اُس کے پیشے کے اِعتبار سے اَنگریزی میں Puggee (پَگّی) لکھا ہے۔ آکسفورڈ اَنگلش ڈکشنری میں اِس کے معنی ’جَنوبی ایشیا میں جانوروں یا اِنسانوں کے نِشانات کا تَعاقُب کرکے اُن کا سُراغ لگانے والا شخص‘ درج ہیں۔
اِس لُغت کے مُطابق اَنگریزی زبان میں اِس لفظ کا قدیم ترین معلوم تحریری اِستعمال ۱۸۲۳ء میں ہوا تھا۔ یہ لفظ گجراتی کے ’پَگّی‘ سے ماخوذ ہے، جس کی بُنیاد ’پَگ‘ ہے اور جس کے معنی پاؤں، قَدم یا پاؤں کے زمین پر پڑنے والے نِشان کے ہیں۔
ہمارے ہاں آج بھی ’پَگڈنڈی‘ لفظ عام طور پر مُستعمل ہے، جو اِسی ’پَگ‘ اور ’ڈنڈی‘ کے ملاپ سے وُجود میں آیا ہے۔
دیگر اَنگریز اَفسروں کی یادداشتوں اور تحریروں میں بھی اِنسانی پاؤں یا جانوروں کے کھُروں کے نِشانات کا کھوج لگانے والوں کے لیے یہی لفظ یا اِس کی قدرے مختلف املائی صورت Puggy لکھی ہوئی ملتی ہے۔
تاہم بعض اَنگریزی تحریروں میں کھوجیوں کے لیے ‘ٹریکرز’، ‘اینیمل ٹریکرز’، ‘فُٹ ٹریکرز’، ‘لوکل ٹریکرز’ اور ‘ٹریسرز’ وغیرہ کی اصطلاحیں بھی استعمال ہوئی ہیں۔
برٹش اِنڈیا کی مقامی زبانوں میں اِنہی ماہرین کو ‘کھوجی’ (جس کا مادّہ ‘کھوج’ ہے)، ‘سُراغی’ (جو فارسی لفظ ‘سُراغ’ سے نکلا ہے)، ‘پَیری’ (پَیر کا نِشان دیکھنے والا) اور ‘پَیرڑی’ (پَیری کی تصغیری صورت) وغیرہ کہا جاتا تھا۔
ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے اَفسروں کی تحریروں میں مقامی ہندوستانی کھوجیوں کی مَہارت کے ابتدائی اور اَہم حوالہ جات میں سے ایک، چارلس میٹکاف کی ۱۸۱۵ء کی اَنتظامی رپورٹ میں ملتا ہے۔
چارلس میٹکاف اُس وقت دہلی میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی کا ریزیڈنٹ اور دہلی کے زیرِ اِنتظام علاقے کا عملی سربراہ تھا۔ وہ شہری، عدالتی اور پولیس اَنتظام کی نگرانی کرتا تھا اور اُسی حیثیت سے اُس نے ۱۸۱۵ء کی اپنی اَنتظامی رپورٹ میں مقامی ہندوستانی کھوجیوں کی غیر مَعمولی مَہارت کا تفصیلی ذِکر کیا۔
میٹکاف کے مُطابق، عام دیکھنے والے کو جہاں کوئی نِشان دکھائی نہیں دیتا تھا، کھوجی وہاں سے بھی سُراغ نکال لیتا تھا۔ دریا، جنگل یا چٹانی زمین پر، جہاں پاؤں کا نقش ثبت نہیں ہوسکتا تھا اور نِشان کا سلسلہ ٹوٹ جاتا تھا، تو بھی کھوجی وہ رُکاوٹ گزرنے کے بعد اُسی پاؤں کے نِشان کو دوبارہ تلاش کرلیتا تھا۔ (بحوالہ: ایڈورڈ تھامسن، ’دِی لائف آف چارلس، لارڈ میٹکاف‘، ۱۹۳۷ء، صفحات ۱۱۷، ۱۲۱)
سِنْدھ کو ایسٹ اِنڈیا کمپنی کی عَمل داری میں لانے والے سَر چارلس نیپئر نے اپنی ایک اَنتظامی یادداشت میں یہاں کے کھوجیوں کا خصوصی طور پر ذِکر کیا ہے۔ اِس یادداشت کو بعد میں اُس کے بھائی سَر ولیم فرانسس پیٹرک نیپئر نے اپنی کتاب میں نقل کیا۔
سَر چارلس نیپئر نے لکھا ہے کہ سِنْدھ میں ایک چور پہلے اُونٹ چُراتا، اُس پر تقریباً سو میل کا سفر کرکے کوئی بھیڑ چُراتا، اگلی رات گوشت سمیت واپس آتا اور اُونٹ کو اُسی جنگل میں چھوڑ دیتا، جہاں سے اُسے چُرایا گیا تھا۔ اگر اُونٹ کا مالک بروقت اپنے جانور کی گم شدگی محسوس کرلیتا، یعنی اُس کے قَدموں کے نِشانات ابھی تازہ ہوتے، تو وہ کسی کھوجی کی خدمات حاصل کرتا۔ کھوجی اُونٹ کے نِشانات کا تَعاقُب کرتے ہوئے چور تک پہنچ جاتا تھا۔
نیپئر کے مُطابق، سِنْدھ کے کھوجی آٹھ سے دس دن اور رات تک کسی اِنسان یا چوپائے کے نِشان کا پیچھا کرسکتے تھے۔ اُن کا تَعاقُب صِرف اُس وقت رُکتا تھا، جب تیز آندھی قَدموں کے نِشانات کو ریت سے ڈھانپ دیتی یا بارش اُنہیں دھو ڈالتی تھی۔ اُس کے خیال میں کسی ماہر کھوجی کو چکمہ دینا تقریباً ناممکن تھا۔ (بحوالہ: سَر ولیم فرانسس پیٹرک نیپئر، ’دِی ہسٹری آف جنرل سَر چارلس نیپئرز ایڈمنسٹریشن آف سِنڈ اینڈ کیمپین اِن دِی کچھی ہلز‘، صفحہ ۳۱۳)
سَر چارلس نیپئر نے اپنی فوج کے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ کچھی کے پہاڑی علاقے میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی کی فوجی مُہم کے دوران، ۹ فروری ۱۸۴۵ء کو، نیپئر کی سرکاری ڈاک پر حملہ ہوا۔ اگرچہ اُس کی حِفاظت پر بارہ گھڑسوار مُقرّر تھے، لیکن دو سو جکھرانی حملہ آوروں نے اچانک دھاوا بول کر ڈاک لُوٹ لی اور محافظ دستے کے کئی سپاہیوں کو ہلاک کردیا۔ بعض حملہ آوروں نے پہلے اپنے آپ کو ایک دوسرے بے قاعدہ گھڑسوار دستے کے سپاہی ظاہر کیا اور محافظوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو شروع کردی؛ پھر اچانک ہر حملہ آور نے اُس سپاہی کو کاٹ ڈالا، جس سے وہ باتیں کررہا تھا۔
۱۱فروری ۱۸۴۵ء کو ڈاک لُوٹنے اور سپاہیوں کو قَتل کرنے والوں کا سُراغ لگانے کے لیے ماہر مقامی کھوجی بلوائے گئے۔ اِبتدا میں شبہ میر علی مُراد کے لشکر سے وابستہ بُردی قبیلے کے سپاہیوں پر کیا جارہا تھا۔ کھوجیوں نے جائے وقوعہ سے قَدموں کے نِشانات کا تَعاقُب شروع کیا، مگر سُراغ میر علی مُراد کے لشکر کی طرف جانے کے بجائے پہاڑوں کے اندر جا نکلا۔ یوں کھوجیوں کی تحقیق سے میر علی مُراد کے آدمیوں پر کیا جانے والا شبہ رفع ہوگیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ حملہ آور پہاڑی علاقے کی طرف لوٹے تھے۔
کتاب میں اِس کھوج کے نتیجے میں کسی مخصوص حملہ آور کی گرفتاری یا لُوٹی ہوئی ڈاک کی بازیابی کا ذِکر نہیں ملتا۔ اِس واقعے میں کھوجیوں کا فوری اور اَہم کارنامہ یہ تھا کہ اُنہوں نے قَدموں کے نِشانات کی بُنیاد پر حملہ آوروں کی سَمت مُتعیّن کردی اور ایک دوسرے گروہ پر کیا جانے والا شبہ غلط ثابت کردیا۔ (ایضاً، صفحات ۲۱۰–۲۱۱)
کھوجیوں کی مَہارت کا شاید سب سے دِل چسپ حوالہ برطانوی فوجی اَفسر، مُستشرِق اور سیّاح سَر رچرڈ فرانسس برٹن کی ۱۸۷۷ء میں شائع ہونے والی کتاب ’سِنْدھ ری وِزِٹڈ‘ میں ملتا ہے۔ برٹن سِنْدھ میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی کی بمبئی فوج میں تَعینات رہ چکا تھا۔
ایک سفر کے دوران برٹن کے قافلے میں سب سے پیچھے چلنے والے ایک بے صبرے اُونٹ نے اپنی نکیل توڑ ڈالی، اپنے اُوپر لدا ہوا سامان جھاڑ دیا اور جنگل کی طرف نکل گیا۔ قریب کے گاؤں سے ایک مقامی ’پَگّی‘ یعنی کھوجی بلایا گیا۔ کھوجی نے زمین پر بیٹھ کر اُونٹ کے پاؤں کے نِشان کا غور سے جائزہ لیا اور فوراً بتایا:
“یہ ایک چھوٹا اُونٹ ہے؛ اِس کے پاؤں ابھی تقریباً تین چوتھائی ہی بڑھے ہیں؛ یہ دائیں اگلی ٹانگ پر ہلکا قَدم رکھتا ہے؛ اِس پاؤں کی اُنگلی اندر کی جانب مُڑتی ہے؛ اِس کے تلوے پر ایک داغ ہے؛ یہ اِس وقت سامان سے لدا ہوا نہیں اور شیخ رادھن کے جنگل کی طرف گیا ہے۔”
کھوجی پھر نِشان کے پیچھے چل پڑا۔ راستے میں شیشے کی طرح ہموار چٹانی سطح، سَخت مِٹّی اور اِنسانوں اور جانوروں کے تازہ اور پُرانے قَدموں کے بے شمار باہم ملے ہوئے نِشانات آئے، مگر کھوجی ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رُکا۔ جنگل کے قریب پہنچ کر اُس نے تازہ دَبی ہوئی گھاس دکھاتے ہوئے بتایا کہ اُونٹ یہاں چَرنے کے لیے رُکا تھا اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی آگے گیا ہے، کیوں کہ اُس کے پاؤں تلے دَبنے والی گھاس اب تک دوبارہ سیدھی نہیں ہوئی تھی۔
بالآخر کھوجی برٹن اور اُس کے ساتھیوں کو سیدھا ایک جھاڑی تک لے گیا، جس کی اُوپری شاخوں کے پیچھے گم شدہ اُونٹ کی لمبی گردن اور چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ کھوجی نے اِطمینان سے اُس کے قریب جاکر ناک میں لگی ہوئی لکڑی پکڑی، اُس کے ساتھ نئی رسّی باندھی اور کسی مُزاحمت کے بغیر اُونٹ کو قابو کرلیا۔
برٹن نے اِسی واقعے کے بعد لکھا کہ سِنْدھ کا کھوجی مَحض گم شدہ جانور ہی تلاش نہیں کرتا تھا بلکہ وہ ملک میں دستیاب واحد اور نہایت مؤثر سُراغ رَساں بھی تھا۔ کوئی سپاہی فرار ہوجائے، کسی گھر میں چوری ہوجائے یا کوئی مُسافر قَتل کردیا جائے تو کھوجی کو صِرف ایک قَدم کا نِشان دکھا دینا کافی تھا۔ وہ نِشان کی بُنیاد پر مطلوب شخص کے حُلیے اور جسمانی ساخت تک کا اَندازہ لگاتا اور طویل فاصلے تک اُس کا تَعاقُب کرسکتا تھا۔
مُجرم اپنے گھوڑے کو اُلٹی نعل لگوائے، پاؤں پر گدّیاں باندھے، جوتے اُتار کر ننگے پاؤں چلنے لگے، دوبارہ جوتے پہن لے، اپنی چال بدل ڈالے، اُچھل اُچھل کر چلے یا کُتّے کی طرح چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے لگے—اگر کھوجی اپنے فن کا تربیت یافتہ ماہر ہو تو، برٹن کے مُطابق، اِن میں سے کوئی تدبیر اُسے سُراغ تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی تھی۔ (بحوالہ: سَر رچرڈ فرانسس برٹن، ’سِنْدھ ری وِزِٹڈ‘، جلد اَوّل، مطبوعہ رچرڈ بینٹلی اینڈ سَن، لندن، ۱۸۷۷ء، صفحات ۱۸۰ تا ۱۸۳)
اَنگریز اَفسر مقامی کھوجیوں کی مَہارت پر صِرف حیران ہی نہیں ہوئے بلکہ اُنہوں نے اِس دِیسی فن کو اپنے قانونی اور پولیس نِظام کا باقاعدہ حِصّہ بھی بنالیا۔
‘پنجاب لاز ایکٹ، ۱۸۷۲ء’ کی دَفعات ۴۱ اور ۴۲ کے تحت کسی اِنسان، جانور یا جُرم سے وابستہ کسی دوسری چیز کے نِشانات کا تَعاقُب کرنے والا کھوجی، اُن نِشانات کے کسی گاؤں کے قریب پہنچنے پر وہاں کے لَمبردار یا چوکیدار سے مدد طلب کرسکتا تھا۔ اگر لَمبردار یا چوکیدار تَعاقُب آگے بڑھانے میں مدد نہ کرتا، گاؤں کے باشندے اپنے گھروں کی تلاشی کا پورا موقع فراہم نہ کرتے یا اُن کے جُرم یا مُجرموں کے فرار میں معاون ہونے کا معقول شبہ ہوتا اور مطلوب اَفراد کا سُراغ گاؤں سے آگے نہ ملتا، تو گاؤں پر جُرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا تھا۔
یوں کھوجی کی نِشان دِہی مَحض اُس کی ذاتی رائے نہیں رہتی تھی بلکہ اُس کی بنیاد پر سرکاری کارروائی کا آغاز بھی ہوسکتا تھا۔ (بحوالہ: ‘پنجاب لاز ایکٹ، ۱۸۷۲ء’، دَفعات ۴۱–۴۲)
‘پنجاب پولیس رولز، ۱۹۳۴ء’ میں بھی کھوجیوں اور قَدموں کے نِشانات سے مُتعلّق باقاعدہ ضابطہ شامل کیا گیا۔
پولیس کو ہدایت تھی کہ جائے وارِدات پر موجود قَدموں کے نِشانات کو لوگوں کی آمدورفت سے مِٹنے یا بگڑنے سے بچایا جائے اور وہاں کم سے کم لوگوں کو جانے دیا جائے۔ کھوجی کو اصل نِشانات کا مُعائنہ کرانے اور مُشتبہ اَفراد کے قَدموں سے اُن کا تقابل کرانے کا طریقۂ کار بھی مقرر کیا گیا۔
اِن قواعد کے بعد ازاں ترمیم شُدہ متن کے مُطابق، قَدموں کی شناختی پریڈ کسی مجسٹریٹ—اور اُس کی عدم دستیابی میں معتبر، آزاد اور تعلیم یافتہ مقامی اَفراد—کی نگرانی میں کرائی جاتی تھی۔ مُشتبہ شخص کو کم از کم پانچ دوسرے اَفراد کے ساتھ تیار کردہ زمین پر چلایا جاتا اور کھوجی کو کارروائی مکمل ہونے تک اُن کے قَدموں کے نِشانات دیکھنے سے دُور رکھا جاتا تھا۔
شناخت کے بعد کھوجی سے یہ بھی بیان کرایا جاتا تھا کہ اُس نے کن پیمائشوں، ساختی علامتوں یا دیگر اِمتیازی نِشانات کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کی۔ جائے وارِدات اور شناختی پریڈ میں بننے والے قَدموں کے سانچے بھی عدالتی مُعائنے اور تقابل کے لیے مَحفوظ رکھے جاتے تھے۔
پولیس ٹریننگ اسکول میں قَدموں کے سانچے بنانے، اُن کے نِشانات مَحفوظ کرنے اور اُن کا ریکارڈ تیار کرنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ یہ ریکارڈ مُجرموں کے قَدموں سے تقابل کے ساتھ ساتھ مقامی کھوجیوں کی مَہارت اور قابلِ اِعتماد ہونے کی جانچ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔ (بحوالہ: ‘پنجاب پولیس رولز، ۱۹۳۴ء’، جلد سوم، باب ۲۵، قواعد ۲۵۔۲۵ اور ۲۵۔۲۶)
قِیامِ پاکستان کے بعد بھی ملک کے بہت سے دیہی علاقوں میں تَواتُر کے ساتھ ایسے کھوجی موجود رہے ہیں جو اِنسانی قَدموں اور جانوروں کے کھُروں کے نِشانات کا میلوں تک تَعاقُب کرکے چوروں کی گرفتاری اور مالِ مَسروقہ کی بَرآمدگی میں پولیس کی مدد کیا کرتے تھے۔
بعض کھوجیوں کا یہ خاندانی پیشہ تھا، جبکہ بعض نام وَر کھوجیوں کے بارے میں شَواہد ملتے ہیں کہ اُنہوں نے مَحض اپنی محنت و لگن سے یہ فن سیکھا اور اِس میں طاق ہوئے۔
بعض کھوجیوں نے مَظلوموں کی داد رَسی کرتے ہوئے اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھوئے، جبکہ بعض نے خوف کے باعث یہ پیشہ ترک بھی کیا۔ تاہم حق و باطل کی اَزل سے جاری کَشمکش میں حق کا ساتھ دینے والا یہ طبقہ عُمومی طور پر نِڈر اور بے باک ہی رہا ہے۔
زمانۂ حال میں کھوجیوں کی تعداد کم ضرور ہوئی ہے، لیکن یہ فن ابھی مَعدوم نہیں ہوا۔ چونکہ اِس فن کا بنیادی مقصد حق دار کی داد رَسی میں مُعاونت فراہم کرنا ہے، جو قُدرتِ اِلٰہیہ کے نزدیک پسندیدہ کاموں میں شمار ہوتا ہے، اِس لیے یہ فن زمین سے مکمل طور پر اُٹھ نہیں سکتا۔
پولیس کے کئی اعلیٰ اَفسروں نے بھی اپنی تحریروں میں کھوجیوں کا ذِکر کرتے ہوئے اُن کی خدمات کو سراہا ہے۔ اِس ضمن میں سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر ایم۔ ایم۔ حسن کی کتاب ’اَین اِنسپکٹر جنرلز ڈائری‘ اور سابق آئی جی سندھ آفتاب نبی کے تحقیقی مقالے کا خُصوصیت سے ذِکر کیا جاسکتا ہے۔
عوام میں بھی کھوجیوں کی مَہارت اور اُن کی قدر دانی سے مُتعلّق اَن گنت مقبول قِصّے موجود ہیں۔ آج بھی سندھ، پنجاب، بلوچستان وغیرہ میں کسی بزرگ کے سامنے لفظ ’کھوجی‘ زبان سے نکالا جائے تو وہ اَڑوس پڑوس کے کسی کھوجی کی ذِہانت اور مالِ مَسروقہ کی بَرآمدگی میں اُس کی مُعاونت کی کوئی نہ کوئی دِل پذیر داستان ضرور سُنائے گا۔
اگرچہ آج جرائم کی تفتیش میں ڈی این اے، موبائل فون ریکارڈ، سی سی ٹی وی، جِیو فینسنگ اور دیگر ڈیجیٹل و فارنزک شَواہد اِستعمال ہوتے ہیں، لیکن پاکستان کے مُتعدّد دیہی اور دُور اُفتادہ علاقوں میں روایتی کھوجی اب بھی زمین پر بکھری ہوئی علامتوں کو جوڑ کر سُراغ لگاتے ہیں۔
فقیرا، موسیٰ اور عظیم الدین جیسے کھوجیوں نے اِنسانی ذِہانت اور مَہارت کی جو داستانیں رقم کیں، وہ آج بھی زندہ ہیں؛ اِس لیے بھی کہ اُن کے فن کا بنیادی مقصد جُرم کی بیخ کَنی اور حق دار کو اُس کی سَرقہ شُدہ چیز واپس دِلوانا تھا۔
ویسے بھی پُرانے بزرگوں سے یہی روایت مشہور چلی آرہی ہے کہ مِٹّی پر لکھی عبارتیں پڑھنے کا فن جاننے والے لوگ، مِٹّی میں مل بھی جائیں تو مِٹّی نہیں ہوتے!
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان