اقوام متحدہ میں پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں کہا کہ بھارت کے انکار سے نہ تو تاریخ بدلی جا سکتی ہے، نہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت ختم کی جا سکتی ہے، اور نہ کشمیری عوام کے خلاف آٹھ دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو چھپایا جا سکتا ہے جن میں انہیں حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا، لیکن آج بھی وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی میں نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر عمل کرنے میں ہے۔