Saturday, 05 September 2026, 10:54:51 am
 
کوہِ نور کو لاہور سے بمبئی تک پہنچانے کی دلچسپ داستان
September 04, 2026

گورنر جنرلِ ہند لارڈ ڈلہوزی کی کوہِ نور کو لاہور سے بمبئی تک پہنچانے کی دلچسپ داستان

کوہِ نور ہیرے کو کہاں اور کیسے چُھپا کر لاہور سے بمبئی تک پہنچایا جائے گا، یہ مُعاملہ صرف تین لوگوں کے عِلم میں تھا: لارڈ ڈلہوزی، اُس کی بیوی لیڈی سُوزنہَے اور ڈاکٹر جان اِسپنسر لاگن۔

لارڈ ڈلہوزی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیرِ اِقتدار ہندوستان کا گورنر جنرل تھا۔اپنے چار پیش روؤں کے مقابلے میں یہ زیادہ طاقت وَر، فیصلہ کُن اور مَرکزیت پسند گورنر جنرل سمجھا جاتا تھا۔اُس کی بیوی لیڈی سُوزنہَے، اسکاٹ لینڈ کے اَشرافیہ خاندان سے تَعلُّق رکھنے والے جارجہَے کی بیٹی تھی، جبکہ ڈاکٹر جان اِسپنسر لاگن کم سِن مہاراجہ دلیپ سنگھ کا کمپنی کی طرف سے مُقرّر کردہ سرپرست اور لاہور کے شاہی توشہ خانے کا نِگران تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہ ہیرا ”معاہدہ لاہور“کی رُو سے سکھ سرکار سے حاصل کیا تھا ۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کیونکہ اسے آخری دفعہ بازو بند کے ساتھ پہنا تھا تو لاہور سے روانگی کی تیاری کے وَقت یہ اُسی بازو بند ہی میں جَڑا ہوا تھا۔

پہلے لیڈی سوزنہے نے اُس بازوبند کے پھُندے کاٹے تاکہ وہ کم جگہ گھیرے۔ پھر ڈاکٹر جان اِسپنسر لاگن نے لیڈی سُوزنہے ہی کی تیار کردہ نرم چمڑے کی تھیلی میں اِسے رکھ کر مضبوطی سے سی دیا۔ ہیرے والی یہ تھیلی ایک بیلٹ میں مَحفوظ کی گئی۔ (بحوالہ :”لیڈی لاگنز ریکلیکشنز”، ص:۸۱–۸۲)

طے یہ ہوا کہ لارڈ ڈلہوزی سارے سفر میں اِس بیلٹ کو اپنے کپڑوں کے نیچے، کمر کے گِرد باندھے رکھے گا۔ اِضافی حِفاظت کے لیے بیلٹ کو ایک زنجیر سے بھی جوڑا گیا، جو اُس کی گردن کے گِرد تھی۔ یوں کوہِ نور کو جِسم کے ساتھ مَحفوظ رکھنے کے لیے کمر کے بیلٹ کے علاوہ گردن کی زنجیر کے سہارے کا ایزاد بھی کیا گیا۔ یعنی اگر بِالفرض کوئی بیلٹ کو کاٹ دے یا بیلٹ ٹوٹ جائے تو تب بھی یہ زمین پر نہ گرے بلکہ اُس زنجیر کے ساتھ لٹکتی رہے۔ (پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی، صفحات ۱۲۴–۱۲۵)

لارڈ ڈلہوزی نے اپنے دو پالتو کُتّے، جن کے نام ’بارون‘ اور ’بانڈا‘ تھے، بھی ساتھ لیے۔ یہ بھی طے ہوا کہ جہاں جہاں رات کا قیام ہوگا ، یہ دونوں اُس کے سَفری بستر کے ساتھ باندھے جائیں گے۔ اِن کی موجودگی ہیرے کی حِفاظت کے لیے ایک اور حِصار تھی؛ سوئے ہوئے ڈلہوزی کے قریب پہنچنے والے کسی اجنبی یا مانوس ، دونوں کو پہلے اِن پہرے داروں کا بھی سامنا کرنا پڑتا۔ (بحوالہ : “دی لائف آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، جلد اوّل، ص: ۲۹۰)

یہ دونوں کُتّے مَسٹِف نسل کے تھے، جن کے بارے میں مشہور یہ تھا کہ اُن کے پہرے میں کوئی چور اپنی جان سے ہاتھ تو دھو سکتا ہے، مگر واردات میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

کوہِ نُور کو لاہور سے بَمبئی اِس لیے پہنچایا جارہا تھا تاکہ اِسے وہاں سے لَندن لے جایا جاسکے۔ پنجاب پر ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے قبضے کے ساتھ ہی طے پاگیا تھا کہ یہ ہیرا ہندوستان میں کمپنی کے کسی توشہ خانے کی زینت نہیں بنے گا بلکہ مَلکۂ اِنگلستان کے حوالے کیا جائے گا۔

مُعاہدے کی دَفعۂ سَوّم میں خاص طور پر لکھا گیا کہ “شاہ شُجاعُ المُلک سے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے حاصل کردہ ’کوہِ نُور‘ نامی ہیرے کو مہاراجۂ لاہور (دُلیپ سنگھ)، مَلکۂ اِنگلستان کے سُپُرد کرے گا۔”

۱۸۴۹ء میں برطانیہ کے تخت پر مَلکہ وِکٹوریہ مُتَمَکِّن تھی؛ لہٰذا سَفَر شروع ہونے سے پہلے ہی کوہِ نُور کی آخری منزل مُتعیّن ہوچکی تھی۔ لاہور سے بَمبئی تک ڈلہوزی کا سَفَر اِسی طے شُدہ شرط کی تکمیل کا پہلا مَرحلہ تھا۔

جب قافلے کیلئے گھوڑوں ، ہاتھیوں ، چیدہ بندوق بردار محافظوں (جن کی تعداد چھ مذکور ملتی ہے) کا انتظام مکمل ہوگیا تو کوہِ نور کو توشہ خانہ کے محفوظ گوشے سے باہر نکال لایا گیا ۔اسی ۷ دسمبر ۱۸۴۹ء کے دن ہی لارڈ ڈلہوزی نے کوہِ نور کی وصولی کی رسید لکھی؛ ہنری لارنس، جان لارنس، سی۔ جی۔ مینسل اور سر ہنری ایلیٹ نے اِس رسید پر بطورِ گواہ دستخط کیے۔

ہنری لارنس اُس وقت پنجاب کے تین رُکنی انتظامی بورڈ کا صدر تھا اور سیاسی و فوجی اُمور کی نگرانی کرتا تھا۔ جان لارنس، ہنری لارنس کا چھوٹا بھائی اور اِسی انتظامی بورڈ کا رُکن تھا، جس کے ذمّے مَحاصل اور مالی اُمور تھے۔

سی۔ جی۔ مینسل، یعنی چارلس گرین وِل مینسل، ایسٹ انڈیا کمپنی کا سول افسر اور پنجاب کے انتظامی بورڈ میں عدالتی اُمور کا نگران رُکن تھا، جبکہ سر ہنری میئرز ایلیٹ، ڈلہوزی کی حکومت میں سیکرٹری برائے خارجہ اُمور تھا اور ہندوستانی تاریخ کے مُحقّق و مؤرّخ کی حیثیت سے بھی معروف تھا۔

کوہِ نور کی قدر و منزلت اور اُس کی تحویل کی ذمّے داری کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ خود گورنر جنرل نے اُس کی وصولی کی رسید دی اور اِس پر گواہوں کے دستخط بھی ہوئے۔

ویسے تو گورنر جنرلِ ہند کی حیثیت سے ڈلہوزی کے پاس یہ اختیار اور وسائل موجود تھے کہ وہ ایک مُنظّم محافظ دستے کے ہمراہ ہیرے کو بمبئی بھجوانے کا بندوبست کرلیتا تاہم اُس نے اِسے اپنی کمر سے باندھ کر خود لے جانے کو صرف اور صرف اس لئے ترجیح دی کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی دوسرے شخص پر اعتبار کرنے کیلئے تیار نہیں تھا۔

لارڈ ڈلہوزی کی غیر معمولی احتیاط سے یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوہِ نور کو برطانیہ پہنچا کر ہندوستانیوں کو نفسیاتی طور پر شکست زدہ بنانا چاہتا تھا ۔اور اس منفرد نفسیاتی جنگ کی کمان وہ کسی دوسرے کے حوالے کرنے کے لیے بالکل آمادہ نہیں تھا۔

اگلے روز، یعنی ۸ دسمبر کو، لارڈ ڈلہوزی اپنے قافلے کے ہمراہ لاہور سے ملتان کی طرف روانہ ہوا۔ ہیرا اُس کے کپڑوں کے نیچے، کمر کے گِرد بندھے ہوئے بیلٹ میں مَحفوظ تھا۔ اُس کی اہلیہ، لیڈی سُوزنہَے، بھی اِس سفر میں اُس کے ساتھ تھی۔اور تیسرا فرد ، جسے یہ معلوم تھا کہ یہ قافلہ کوہِ نور کے ہمراہ لاہور سے نکلا ہے ، ڈاکٹر جان اسپنسر لاگن لاہور کے شاہی قلعے میں ہی موجود رہا۔باقی کسی کو علم نہیں تھا کہ لارڈ ڈلہوزی کا یہ قافلہ کہاں اور کس مقصد کیلئے عازم بہ سفر ہوا ہے ۔

لاہور سے ملتان کا یہ زمینی سفر تقریباً تین ہفتے جاری رہا۔ دستیاب بیان میں راستے کے تمام پڑاؤ کی تفصیل درج نہیں ملتی؛ البتہ ہڑپہ کے گرد و پیش کے مُشاہدے کا تذکرہ موجود ہے، جہاں ڈلہوزی نے علاقے کی ویرانی اور اُجاڑ و اُداس جنگل کا ذکر کیا۔ (بحوالہ : “دی لائف آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، جلد اوّل، ص:۲۸۱)

اِس سفر میں ڈلہوزی نے زیادہ تر اپنے پسندیدہ ذاتی گھوڑے کو سواری کے طور پر استعمال کیا، تاہم کبھی کبھی وہ اس قافلے میں موجود ہاتھی بھی سوار ہوتا رہا۔ راستے میں دو ناخوش گوار واقعات پیش آئے: ایک جگہ اُس کے گھوڑے کا پاؤں چُھپے ہوئے گڑھے میں پڑا اور گھوڑے کے ساتھ وہ بھی گِر پڑا۔ تاہم اُس کے اپنے بیان کے مطابق، اُسے اِس حادثے کا کوئی قابلِ ذکر اثر محسوس نہیں ہوا اور اُس نے سفر جاری رکھا۔ دوسرے واقعے میں اُس کے ایک خدمت گار کو ہاتھی نے ہلاک کردیا۔ (بحوالہ : “پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، صفحہ ۱۰۶)

آخرکار ۲۹ دسمبر ۱۸۴۹ء کو اُفق پر کھجوروں کے جُھنڈ، اِکّا دُکّا مسجدیں اور شِکستہ مقبرے نظر آنے لگے؛ پھر درختوں کے اوپر قلعۂ ملتان نمایاں ہوا۔ شہر پہنچ کر اُس کا کیمپ عیدگاہ کے قریب لگایا گیا۔ (بحوالہ :”دی لائف آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، جلد اوّل، ص:۲۸۱)

ملتان میں ڈلہوزی کا قیام چار راتوں پر مُحیط تھا؛ وہ ۲۹ دسمبر ۱۸۴۹ء کو پہنچا اور ۲ جنوری ۱۸۵۰ء کو یہاں سے روانہ ہوا۔ اُس کا کیمپ ملتان کی تاریخی عیدگاہ کے پہلو میں لگایا گیا، جہاں برطانوی افسر ایگنیو اور اینڈرسن قتل ہوئے تھے۔ عیدگاہ کے دروازے کے سامنے وہ پھانسی گھاٹ بھی اب تک کھڑا تھا، جہاں اُن کے قتل کے ذمّے دار قرار دیے گئے افراد کو سزا دی گئی تھی۔ (بحوالہ :” پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، ص: ۱۰۷–۱۰۸، ۱۱۲)

بریگیڈیئر اسٹاکر، ڈلہوزی کو مُحاصرے اور فوجی کارروائیوں کے مقامات دکھانے لے گیا۔ قلعے کا تفصیلی مُعائنہ بھی کیا گیا۔ ڈلہوزی کے اپنے بیان کے مطابق، گولہ باری کی تباہی اب بھی نمایاں تھی اور قلعہ بکھرتے ہوئے ملبے کی صورت کھڑا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ اندرونی دفاعی حصّہ دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاسکتا ہے، مگر حملے سے پہلے والا قلعہ اپنی سابقہ صورت میں بحال نہیں ہوسکتا۔

ڈلہوزی نے ملتان کا سِکی دروازہ، رام تیرتھ مندر اور نیلی مسجد بھی دیکھے۔ جن مقامات کے نام وہ جنگِ ملتان ( جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج اور دیوان مُولراج کی قیادت میں مقامی ملتانیوں اور سکھوں پر مشتمل فوج کے مابین ہوئی تھی) کی رپورٹوں میں پڑھتا رہا تھا، اُنہیں سامنے دیکھ کر اُسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی کہانی کی کتاب کے مناظر حقیقت بن کر سامنے آگئے ہوں۔

اِسی قیام کے دوران نوابِ بہاولپور، محمد بہاول خان سوم عباسی، اپنے تحائف کے ہمراہ لارڈ ڈلہوزی کو ملنے ملتان پہنچا۔ یہ ۳۱ دسمبر ۱۸۴۹ء کا دن تھا ۔ یعنی ڈلہوزی کی زندگی کا یہ سال ملتان کے خیمے ہی میں اختتام کو پہنچا۔

نئے سال کے پہلے دن، یعنی یکم جنوری ۱۸۵۰ء کو، ڈلہوزی نے نواب بہاول خان سوم سے جوابی ملاقات کی۔اس دفعہ وہ اُس کے تحائف اور جنگِ ملتان میں اس کی امداد آوری کا شکریہ ادا کرنے اس کے خیمے میں پہنچا ۔

نواب بہاول خان سوم نے اپنی صحت کی شکایات بیان کیں تو ڈلہوزی نے ڈاکٹر گرانٹ کو اُس کے لیے اَسّی گولیاں بطورِ تحفہ بھیجنے کو کہا۔ (بحوالہ :” دی لائف آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، جلد اوّل، ص:۲۸۲–۲۸۳)

روانگی سے پہلے ڈلہوزی ایگنیو، اینڈرسن اور اپنے ہم مکتب مونٹیزیمبرٹ کی قبروں پر گیا، جو جنگ ملتان میں ، ملتان کے قلعے کے مُحاصرے کے دوران اپنے جانوں سے ہاتھ دُھو بیٹھے تھے ۔ اُس نے قلعے کے کھلے میدان میں اُن کی قبروں پر مناسب یادگار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اِس کے بعد وہ گھوڑے پر نیلی مسجد گیا اور پھر صبح دس بجے دریائے چناب کے راج گھاٹ پہنچا۔ کوہِ نور اب بھی اُس کی کمر کے ساتھ بندھے بیلٹ میں مَحفوظ تھا۔

۳جنوری ۱۸۵۰ء کو، ڈلہوزی نے راج گھاٹ سے آگے ڈیرہ غازی خان کا مُختصر دورہ کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوہِ نور اُس کے ساتھ نہیں گیا۔ روانگی سے پہلے ڈلہوزی نے ہیرے والا بیلٹ کیپٹن جیمز رَیمزے کے سُپُرد کردیا۔ ہیرا ایک مُقَفَّل صندوق میں رکھا گیا اور رَیمزے کو سخت ہدایت ملی کہ ڈلہوزی کی واپسی تک وہ خود اُس صندوق پر بیٹھا رہے۔ اِس غیر معمولی حکم کا ذکر ڈلہوزی نے بعد میں اپنے ۱۶ مئی ۱۸۵۰ء کے خط میں کیا۔ (بحوالہ : “پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، ص: ۱۲۴–۱۲۵)

دورے سے واپسی پر کوہِ نور کی حِفاظت کی ذمّے داری پھر ڈلہوزی نے خود سنبھال لی۔ اُس کے بیان کے مطابق، لاہور سے بمبئی کے سفر میں ڈیرہ غازی خان کا یہی دورہ وہ اِستثنا تھا، جب ہیرا اُس کے پاس نہیں رہا۔

ڈیرہ غازی خان کے دورے کے بعد دریائے چناب کے راج گھاٹ سے لارڈ ڈلہوزی کے دَریائی سفر کا آغاز ہوا۔ گھوڑوں اور ہاتھیوں کو واپس روانہ کردیا گیا جبکہ چھ محافظوں میں سے بھی صرف دو کو ساتھ لے جایا گیا۔

ڈلہوزی ایک چپٹے پیندے والی کشتی میں سوار ہوا جسے ایک سٹیمر (بھاپ سے چلنے والے انجن پر مشتمل کشتی)کے ساتھ رسوں سے باندھا گیا تھا۔ اِس کشتی کا نام ’بیاس‘ تھا۔ سٹیمر میں بیٹھنے کی بجائے اس کشتی میں بیٹھنے کا فیصلہ بھی ایک اضافی احتیاط کے سبب تھا : اگر سٹیمر کسی دلدل یا کم نشیبی جگہ پر مٹی سے ٹکرا کر اُلٹے تو اس کی کشتی پیچھے ہونے کی وجہ سے اس آفت سے محفوظ رہ سکے۔

پہلے دریائے چناب، پھر پنجند کے مُشترکہ دھارے اور اُس کے بعد دریائے سندھ کا یہ سفر آسان نہ تھا۔ اُتھلا پانی، ریتیلے حصّے اور بدلتی ہوئی گزرگاہیں کشتیوں کی پیش رفت میں رُکاوٹ بنتی تھیں۔

ڈلہوزی نے اپنے خط میں لکھا کہ دریا ایک جانب گہرا تھا، جبکہ دوسرے حصّوں میں ریتیلے اور اپنی جگہ بدلتے ہوئے اُتھلے مقامات تھے۔ کناروں پر بیشتر جنگل اور ریت دکھائی دیتی تھی۔ (بحوالہ: “پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی” ، ص: ۱۰۹)

ڈلہوزی نے ہیرا اپنے جسم کے ساتھ باندھ رکھا تھا اور وہ اِسی کے ساتھ راستے میں مختلف مقامات پر کشتی سے اُتر کر خشکی پر مقامی حکمرانوں، سرداروں اور سرکاری افسروں سے ملاقاتیں کرتا گیا۔ اُس کے دورے کے مقاصد میں انتظامی حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ برطانوی اقتدار کا رُعب قائم کرنا اور حالیہ جنگ کے بعد نئے انتظام پر اعتماد پیدا کرنا بھی شامل تھا۔ بڑے مراکز میں درباروں اور فوجی مُعائنوں کے ذریعے اِسی اقتدار کا اظہار ہوتا رہا۔

دَریائی سفر میں کئی رُکاوٹیں پیش آئیں؛ دو مرتبہ قافلہ اڑتالیس، اڑتالیس گھنٹے رُکا رہا۔ مِٹھن کوٹ کے نزدیک دریائے سندھ میں غلط دھارے کا انتخاب ہونے پر کشتیوں کو پنجند کے مُشترکہ دھارے کی طرف واپس مُڑنا پڑا۔

۱۱جنوری کو ڈلہوزی کا قافلہ کشمور اور ۱۳ جنوری کو سکھر پہنچا۔ سکھر میں سندھ کے کمشنر، مسٹر پرنگل، نے اُس کا استقبال کیا۔ یہاں ڈلہوزی نے دربار لگایا، جہاں خیرپور کے حکمران میر علی مُراد نے اُس سے ملاقات کی۔ اِس کے بعد مقامی وڈیروں سے الگ ملاقات ہوئی۔ ڈلہوزی میر علی مُراد سے جوابی ملاقات کے لیے بھی گیا۔

میر علی مُراد نے ڈلہوزی کو ایک عُمدہ تلوار تحفے میں دی۔ ڈلہوزی نے اپنے خط میں اِس تلوار کو توشہ خانے سے خرید لینے کا ارادہ ظاہر کیا، کیونکہ سرکاری اہلکاروں کو ملنے والے تحائف وہاں جمع ہوتے تھے اور خریدے جاسکتے تھے۔

۱۵جنوری کو سکھر سے روانگی ہوئی۔ ڈلہوزی اپنی کشتی میں اور مسٹر پرنگل دوسری کشتی میں ساتھ روانہ ہوئے۔ سہون کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلہ حیدرآباد پہنچا اور وہاں ایک اور پڑاؤ ہوا۔

حیدرآباد میں ڈلہوزی نے بیرکوں، قلعے اور شہر کا مُعائنہ کیا اور یہاں بھی دربار لگایا، جس میں سندھ کے امیروں کے عزیزوں، مقامی سرداروں، زمین داروں اور قبائل کے سربراہوں نے شرکت کی۔ اُس کے مطابق تقریباً ایک سو تیس افراد اِس دربار میں شریک ہوئے۔

دربار برخاست ہونے پر شرکا نے ڈلہوزی کو دریا تک رُخصت کرنے کی اجازت مانگی۔ اُن میں سے بیشتر سجے ہوئے اُونٹوں پر سوار، اپنے پیروکاروں کے ساتھ، اُس کے پیچھے دریا کے کنارے تک آئے۔ (بحوالہ: “پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، ص:۱۰۹)

ٹھٹھہ کے قریب سے گزرتے ہوئے قافلہ دریائے سندھ کے دہانے کی طرف بڑھا، پھر سمندر میں پہنچ کر کراچی آیا۔ کراچی میں ڈلہوزی ، مسٹر پرنگل کا مہمان رہا اور اُنہی کی رہائش گاہ پر جوکھیا قبیلے کے جام سے ملاقات کی۔

۲۳جنوری تک کراچی میں قیام کے بعد بحری جہاز ’فیروز‘ پر بمبئی کا سفر شروع ہوا۔ (بحوالہ: “دی لائف آف دی مارکیس آف ڈلہوزی”، جلد اوّل، ص: ۲۸۶)

۲۷جنوری ۱۸۵۰ء کو بمبئی کے اَپالو بندر پر گورنر لارڈ فالکلینڈ، فوجی کمانڈر سر وِلوبی کاٹن، رُکنِ کونسل مسٹر وِلوبی اور دوسرے اعلیٰ افسر اُس کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

لاہور سے شروع ہونے والا زمینی، دَریائی اور بحری سفر اب اپنی اِس منزل کو پہنچ چکا تھا۔

بمبئی میں کوہِ نور سرکاری خزانے میں جمع کرادیا گیا۔ ڈلہوزی نے اپنے خط میں اِس ذمّے داری سے نجات پر غیر معمولی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم اُسے انگلستان لے جانے والے جہاز کے انتظار میں ہیرا تقریباً دو ماہ بمبئی ہی میں رہا۔ (بحوالہ: “پرائیویٹ لیٹرز آف دی مارکیس آف ڈلہوزی” ، ص: ۱۲۴–۱۲۵)

اگر کوہِ نور کوئی جاندار شے ہوتا اور وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ، کانوں سے سُن اور عقلِ سلیم سے کوئی رائے قائم کرسکتا، تو شاید اِس سفر میں اُسے اپنی بے وطنی کے اسباب بھی سمجھ میں آجاتے۔

وہ دیکھتا کہ ہندوستانی حکمرانوں کی کوتاہیوں، کوتاہ بینیوں، شخصی اَنا اور ذاتی مفادات کی باہمی جنگوں نے کس طرح بیرونی تسلّط کی راہ ہموار کی تھی۔ سات سمندر پار کی ایک تجارتی کمپنی نے اِن کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے، اپنی فوجی طاقت اور سیاسی چالوں کے ذریعے، ہندوستان کے ایک بڑے حصّے کو اپنا مُطیع بنالیا تھا۔

وہ دیکھ سکتا تو دیکھتا کہ لاہور میں سِکھوں کا اقتدار ختم ہوچکا ہے۔ لاہور سے ملتان تک اب کمپنی کی حکومت ہے ؛ دیوان مُول راج کی مزاحمت کو شکست دے کر انگریز ملتان پر بھی اپنا قبضہ جما چکے ہیں ۔ سندھ میں بھی برطانوی اقتدار پنجاب کی فتح سے کئی برس پہلے، ۱۸۴۳ء سے ہی قائم ہوچکا ہے۔

اُس کا دل ہوتا تو وہ اس بات پر ضرور کُڑھتا کہ اب ہر طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں وارد ہونے والے نئے حاکموں کی خوشنودی حاصل کرنے کی دوڑ دکھائی دیتی ہے ؛ کوئی تحفہ پیش کررہا ہے ، کوئی دربار میں حاضر ہورہا ہے ، تو کوئی گورنر جنرل کو دریا تک رُخصت کرنے آیا ہے۔

اُسے یہ بات بھی بہت تکلیف دیتی کہ کراچی اور بمبئی میں بھی اب کمپنی ہی کا حکم چلتا ہے۔ وہ اس بات بھی حیرت کا اظہار کرتا کہ اِس کے لاہور سے بمبئی تک کے پورے سفر میں اُسے لے جانے والے قافلے کی راہ روکنے والی کوئی طاقت کیوں سامنے نہیں آئی تھی۔

جنوری ۱۸۵۰ء کی سرد شام کو سرزمینِ ہندوستان کی گولکنڈہ کی کان سے نکلا کوہِ نور، اب بمبئی سے لندن روانگی کا مُنتظر تھا۔ مگر اِس رُخصتی کو محض ایک قیمتی پتھر کی منتقلی کیسے کہا جاتا؟

یوں محسوس ہوتا تھا کہ اہلِ ہند کی عظمتِ رفتہ بھی اپنا رُعب اور دَبدبہ سمیٹے، اُسی کے ساتھ بمبئی میں سمندر پار روانگی کی مُنتظر بیٹھی تھی۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان