وزیراعظم محمد شہبازشریف نے شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
وہ اسلامی جمہوریہ شام کے وزیرخارجہ اسعد حسن الشیبانی سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے آج اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے شامی وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر احمد الشرع کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ان سے اپنی حالیہ ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان گولان کی پہاڑیوں کے معاملے پر شام کے موقف کی بھرپور حمایت کرے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور شام کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سیاسی، دفاعی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی سے عوامی روابط میں اضافہ ہوگا اور بڑی تعداد میں پاکستان سے شام آنے والے زائرین کو بھی سہولت ملے گی۔
وزیراعظم نے صدر احمد الشرع کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
شامی وزیر خارجہ نے صدر احمد الشرع کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا اور انہیں شام کی سیاسی صورتحال اور تعمیر نو کی کوششوں سے آگاہ کیا۔
شامی وزیر خارجہ نے گزشتہ برسوں کے دوران شام کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ انہوں نے تعاون کے لیے جلد باقاعدہ ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی موجود تھے۔