پاکستان اور گوگل نے قومی ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے فروغ کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔
سیکریٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ضرار ہاشم خان اور گوگل کے جنوب مشرقی ایشیاء کیلئے حکومتی امور اور پبلک پالیسی کے سینئر ڈائریکٹر ڈیوڈ ویلر (David Weller) نے آج اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں ایم او یو پر دستخط کئے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر اور وفاقی کابینہ کے ارکان بھی دستخط کی تقریب میں موجود تھے۔
ایم او یو پر دستخط پاکستان میں گوگل کے دفتر کے قیام کیلئے ایک اہم پیشرفت ہے۔ حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان تعاون پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت کے نئے دور کی بنیاد بنے گا۔
ایم او یو کا مقصد پاکستان میں ڈیجیٹل مہارتوں، آئی ٹی برآمدات اور جدت کے فروغ کیلئے تعاون کو وسعت دینا ہے۔
ایم او یو کے تحت، پاکستان میں ڈیجیٹل اسکلز کے فروغ کیلئے گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس پروگرام کو وسعت دینے پر تعاون کیا جائے گا، جبکہ گوگل کی جانب سے پاکستان میں گوگل کیریئر سرٹیفکیٹس کے سال 2026ء کیلئے 1 لاکھ 50 ہزار سرٹیفکیٹس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پاکستان اور گوگل نے پاکستانی طلبہ کیلئے گوگل کے جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک رسائی بڑھانے کیلئے تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت پاکستانی طلبہ کو ایک سال تک گوگل اے آئی پلس اور جیمنی سمیت جدید اے آئی ٹولز تک مفت رسائی حاصل ہوگی۔
پاکستان اور گوگل کے درمیان اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کے قیام کیلئے تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں اور انسانی وسائل کو عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائیگی۔پاکستان اور گوگل نے موبائل ایپلی کیشنز اور گیمنگ انڈسٹری کی عالمی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل تجارت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کیلئے بھی تعاون کیا جائے گا۔
پاکستان میں سرکاری خدمات کی فراہمی اور حکومتی امور کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی تعاون کیا جائیگا۔
ایم او یو کے تحت، ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن کے منصوبے میں ڈیٹا اینالیٹکس میں اے آئی کا استعمال کیا جائے گا۔
زراعت کے شعبے میں فصلوں کی نگرانی، پیش گوئی اور پائیدار زرعی طریقوں کیلئے مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے پر تعاون کیا جائے گا، جبکہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلانے کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادہ کیا جائے گا۔
ایم او یو کے تحت آئی ٹی برآمدات میں حائل رکاوٹوں اور ترقی کے امکانات کی نشاندہی کیلئے حکومت، گوگل اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی، جو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مسابقتی صلاحیت کا روڈ میپ تیار کریگی۔
پاکستان اور گوگل کے درمیان تعاون سے نوجوانوں کی ڈیجیٹل مہارتوں، اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں مواقع بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ یہ تعاون پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو سال 2030ء تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے وزیراعظم کے وژن کی جانب اہم پیشرفت ہے۔