وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری ملک کو علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کے مرکز کے طور پر پوزیشن دینے میں معاون ثابت ہوگی۔
وہ آج اسلام آباد میں پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری کیلئے سب سے کم لاگت اور مؤثر ذریعہ نقل و حمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید اور مؤثر ریلوے نظام ملکی معیشت، تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں میں اعلیٰ معیار یقینی بناتے ہوئے ان کی مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے مین ریلوے لائن ون کے روہڑی، ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو ایم ایل ون اور ایم ایل تھری اپ گریڈیشن، تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی اور دیگر منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایم ایل ـ ون کے کراچی ـ روہڑی سیکشن کیلئے تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کرلیا گیا ہے، جبکہ ایم ایل ـ تھری، روہڑی ـ نوکنڈی کی اپ گریڈیشن پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام اور برج فنانسنگ کے تحت کی جائے گی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کا 112 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تھر کول تا چھور ریلوے اسٹیشن پر 60 فیصد کام ہو چکا ہے اور یہ منصوبہ رواں سال دسمبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔