Friday, 04 September 2026, 11:08:58 am
 
باندھا ہے میں نے پیڑ کو زنجیرِدل کے ساتھ ، درختوں سے محبت کا چشم دیدہ، منفرد احوال
September 03, 2026

“باندھا ہے میں نے پیڑ کو زنجیرِدل کے ساتھ”

درختوں سے محبت کا چشم دیدہ، منفرد احوال

پاکستان، شنگھائی تعاون تنظیم کا فعّال رکن ہے اور ریڈیو پاکستان، عوامی جمہوریہ چین کی شنہوا نیوز ایجنسی کا ایک نیا، مگر سرگرم ساتھی۔

ان دونوں اُمور کے ثمرات کے پیشِ نظر، ‘شنگھائی تعاون تنظیم: میڈیا اینڈ تھنک ٹینک سمٹ’ میں شرکت کے لیے چین پہنچنے پر آج ۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کے دن یہاں کے ‘ڈونگ گوان’ اور ‘شنجن’ شہروں میں یکساں نظر آنے والے ایک منظر نے خاص طور پر متوجہ کیا: سڑک کنارے درختوں کو آندھیوں اور طوفانوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دھاتی پائپوں کے سہاروں سے تھاما گیا تھا۔

عام درختوں کی رکھوالی کا یہ منفرد انداز دیکھ کر دل کو حقیقی معنوں میں مسرت محسوس ہوئی۔یہ پائپ محض دھات کے ٹکڑے نہیں تھے؛ یہ اس سوچ کی علامت تھے کہ سبزہ لگا دینا کافی نہیں، اس کے ممکنہ حد تک زندہ رہنے کو یقینی بنانا بھی برابر اہمیت رکھتا ہے۔

ہمارا دینِ متین بھی درخت لگانے کو نفعِ عام کا عمل قرار دیتا ہے اور درختوں کی حفاظت کو پسندیدہ کاموں میں سے گردانتا ہے۔

‘چینی ترقی کا ماڈل’ ویسے تو اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ متاثر کن ہے، لیکن اس پہلو نے دل ہی جیت لیا۔ کلورو فلورو کاربنز (عام لفظوں میں کرۂ ارض کے لیے مہلک گیسوں) کے منفی اور مُضِر اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک ایک درخت چینی قوم کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے، اس کا اندازہ ان تصاویر سے ہی بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

درختوں کو لوہے کے ان پائپوں کا سہارا دے کر محفوظ بنانا چینی قوم نے اس لیے ضروری سمجھا ہے کہ اگر بالفرضِ محال کسی درخت کی جڑیں زمین میں کسی وجہ سے پوری طرح نہ جمی ہوں تو کسی آندھی یا طوفان میں اس کے گرنے کا امکان کم سے کم کیا جا سکے۔

ہمارے ہاں اس طرح کی کسی حفاظتی تدبیر کے نہ ہونے کے سبب ہر سال آندھی اور طوفان ہزاروں درختوں کو اُجاڑ کر چلے جاتے ہیں۔

چین میں لوہے کے پائپوں کے یہ سہارے ہوا کے زور سے جڑوں کے ہلنے اور نقصان پہنچنے کا امکان کم، بلکہ قریب قریب ختم کرتے ہیں، تاکہ درخت اپنی مضبوط گرفت کے ساتھ قائم و دائم رہ کر آکسیجن پیدا کرتا رہے۔

چینی ادب میں اس طریقے سے درختوں کو آندھیوں اور طوفانوں سے محفوظ بنانے کی تحریری شہادت تین صدیوں سے بھی پرانی ملتی ہے۔ ساحلی شہروں میں تو یہ نگہداشت خصوصیت کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے۔ چین کے باقی شہروں کے حکام تو ان سہاروں کے ساتھ ساتھ مٹی کی بہتری، نکاسیِ آب اور جڑوں کی نشوونما پر بھی زور دیتے ہیں۔

چینی باغبانی کی ایک کہاوت کا مفہوم ہے: ‘تین حصے شجرکاری، سات حصے نگہداشت’۔ یعنی درخت لگانے کے بعد اس کی پرورش کی ذمّہ داری، درخت لگانے سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ منظر ایک پاکستانی کے لیے درخت سے محبت کا استعارہ کچھ ان الفاظ کے ساتھ بنا ہے:

آنگن کا یہ سِنگھار، نہ آندھی چلے اُجاڑ۔۔۔۔

باندھا ہے میں نے پیڑ کو زنجیرِ دل کے ساتھ

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان