اپنے فلمی سٹوڈیو کے احاطے میں مدفون فلم ہدایت کار شوکت حسین رضوی کی داستان
سعادت حسن منٹو نہایت زُود رَنج شخصیت تھے، اور دوسروں کی تعریف کے معاملے میں سخت کَنجوس بھی۔
تاہم تمام عُمر اپنے جس ’شوکت‘ سے منٹو نہ کبھی ناراض ہوئے اور نہ ہی جس کی تعریف کے معاملے میں انہوں نے اپنی روایتی کنجوسی کا مظاہرہ کیا ، وہ اُن کے مضمون “نورِ جہاں، سُرورِ جہاں” میں کچھ اِن الفاظ کے ساتھ مذکور دکھائی دیتا ہے:
’’اَصلاً شوکت گھڑی ساز تھا اور اپنے فَن میں مَہارتِ تامّہ رکھتا تھا۔ اِس لیے وہ ہر شے کی نوک پَلک دُرست کرتا رہتا تھا۔ اُس کی طبیعت کسی اُکھڑے ہوئے پُرزے، کسی ٹیڑھی کیل، کسی غَلَط وقت دینے والی گھڑی، کپڑے میں کسی شِکن اور سَلوٹ کو برداشت نہیں کرسکتی۔ اُس کی جِبلّت میں ایک نَظم ہے، وہی نَظم جو ایک اچھی گھڑی میں ہوتا ہے۔
آپ میں سے بہت کم حَضرات جانتے ہوں گے کہ شاہ نور اسٹوڈیو میں جو بھی کیل ٹھکی ہے، اُس میں شوکت حسین رضوی کا ہاتھ ہے۔ جو پیچ لگا ہے، اُس پر شوکت کے پیچ کَس کا نشان ہے۔ وہاں چھوٹے سے بُوٹے سے لے کر لیبارٹری کی بھاری بھرکم مشینری تک سب اُس کے ہاتھ کی لگی ہے۔‘
منٹو نے اپنے ’شوکت‘ کے ہاتھوں جس شاہ نور اسٹوڈیو کی تعمیر کا ذِکر کیا ہے، وہ بَٹوارے سے پہلے “شوری اسٹوڈیو” ہوا کرتا تھا؛ اِسے ۱۹۴۵ء میں لاہور کی اِبتدائی فلمی صَنعت کے معروف فلم ساز روشن لال شوری (R. L. Shorey) نے تعمیر کیا تھا۔ روشن لال شوری، معروف فلم ساز و ہدایت کار روپ کشور شوری کے والد تھے۔
“شوری اسٹوڈیو” صِرف دو شوٹنگ فلورز پر مُشتمل تھا۔ ۱۹۴۷ء کے بَٹوارے کے فَسادات کے دوران جب اسٹوڈیو کو لُوٹ لیا گیا اور یہ بڑی حد تک تباہ ہوگیا تو اسے ۱۹۴۸ء میں بمبئی سے لاہور آنے والی جوڑی سیّد شوکت حسین رضوی اور میڈم نورجہاں کو الاٹ کردیا گیا۔
دونوں نے اپنے ناموں کے حِصّوں کی مُناسبت سے اِسے “شاہ نور اسٹوڈیو” کا نام دیا۔ شوکت رضوی کو ’شوکت شاہ‘ بھی کہا جاتا تھا۔ مُلتان روڈ پر قائم ہونے والا یہ پہلا فلم اسٹوڈیو تھا۔ منٹو کے ’شوکت‘نے شوٹنگ فلورز کی تعداد دو سے بڑھا کر پانچ کرنے کے علاوہ یہاں سَتّر (۷۰) کمرے بھی تعمیر کروائے، جن میں فلمی صَنعت سے وابستہ مُختلف اَفراد کے دَفاتر قائم ہوئے۔
سیّد شوکت حسین رضوی ۱۹۱۴ء میں اُتر پردیش کے علاقے اَعظم گڑھ میں سیّد منوّر حسین رضوی کے گھر پیدا ہوئے۔ رَسمی تعلیم میں اُن کا دِل زیادہ نہ لگا۔ زِندگی کے اِبتدائی دَور میں گھڑی سازی سیکھی، ایک چھوٹی سی دُکان بھی چلائی اور پھر ایک گھومنے پھرنے والی سَرکس کمپنی سے وابستہ ہوگئے۔ سَرکس کے ساتھ ہندوستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں گھومنے پھرنے کے دوران اُنہیں زِندگی، اِنسانوں اور مختلف سماجی طبقوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
بعدازاں وہ کلکتہ پہنچے، جہاں فلمی دُنیا سے اُن کا تعلق پہلے پروجیکشن اور پھر تدوین کے ذریعے قائم ہوا۔ میڈن تھیٹرز میں کام کرتے ہوئے اُنہوں نے فلم ایڈیٹنگ میں خاصی مَہارت حاصل کی۔ یہی ہُنر اُنہیں لاہور لے آیا، جہاں سیٹھ دِل سُکھ پنچولی کے اِدارے سے وابستہ ہوکر اُنہوں نے ’گُل بکاؤلی‘، ’یَملا جٹ‘، ’خزانچی‘ اور ’چودھری‘ جیسی فلموں کی تدوین کی۔
۱۹۴۲ء میں دِل سُکھ پنچولی نے اُنہیں ’خاندان‘ کی ہدایت کاری سونپی۔ اِمتیاز علی تاج کی لکھی ہوئی اِس فلم میں نورجہاں اور پران مرکزی کرداروں میں تھے اور اِس کی کام یابی نے شوکت رضوی کو صَفِ اوّل کے ہدایت کاروں میں لاکھڑا کیا۔
اِسی زمانے میں شوکت اور نورجہاں ایک دوسرے کے قریب آئے اور بعدازاں شادی کرلی۔ شادی کے سال کے بارے میں مآخذ میں اِختلاف ہے؛ بعض ۱۹۴۲ء اور بعض ۱۹۴۴ء بتاتے ہیں۔ اِس شادی سے اُن کے دو بیٹے، اکبر حسین رضوی اور اَصغر حسین رضوی، اور ایک بیٹی، ظِلِّ ہُما، پیدا ہوئے۔
شوکت رضوی نے اپنی فلم کمپنی ’شوکت آرٹ پروڈکشنز‘ بھی قائم کی اور ’نوکر‘ (۱۹۴۳ء)، ’دوست‘ (۱۹۴۴ء)، ’زینت‘ (۱۹۴۵ء) اور ’جگنو‘ (۱۹۴۷ء) جیسی کام یاب فلمیں بنائیں۔ ’جگنو‘ میں نورجہاں کے مقابل دِلیپ کمار تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد شوکت رضوی، نورجہاں اور اپنے بچّوں کے ساتھ لاہور آگئے اور تباہ حال شوری اسٹوڈیو کو اَزسرِنو آباد کرکے ’شاہ نور اسٹوڈیو‘ کی صورت دی۔ پاکستان میں اُن کی پہلی بڑی پیش کش ’چن وے‘ (۱۹۵۱ء) تھی، جس پر ہدایت کار کی حیثیت سے نورجہاں کا نام آیا۔ اِس کے بعد ’گُلنار‘ (۱۹۵۳ء) اور ’جانِ بہار‘ (۱۹۵۸ء) سمیت مزید فلمیں اُن کے فلمی سفر کا حصّہ بنیں۔
نورجہاں سے اُن کی اَزدواجی زِندگی بالآخر علیحدگی پر ختم ہوئی؛ بعض مآخذ ۱۹۵۳ء جبکہ بعض ۱۹۵۵ء کو طلاق کا سال بتاتے ہیں۔ بعدازاں شوکت رضوی نے معروف اداکارہ یاسمین سے شادی کی، جن سے اُن کے دو بیٹے شہنشاہ حسین رضوی اور علی حسین رضوی ہوئے۔
شوکت رضوی کا لگایا پودا، ’شاہ نور اسٹوڈیو‘، وَقت کے ساتھ ساتھ ایک تَن آور دَرخت بنتا چلا گیا۔ ۱۹۵۱ء کی پنجابی فلم ’چَن وَے‘ شاہ نور کی پہلی بڑی کام یاب پیش کَش ثابت ہوئی۔ بعد کے بَرسوں میں ’دُوپٹّہ‘ (۱۹۵۲ء)، ’گُلنار‘ (۱۹۵۳ء) اور دُوسری مُتعدّد فلموں کا تَعلُّق بھی شاہ نور کی فلمی سَرگرمیوں سے رہا۔
آغا جی اے گُل اور اَنور کمال پاشا کی معروف فلم ’گُمنام‘ بھی شاہ نور میں فلمائی گئی، جب کہ کراچی میں شروع ہونے والی فلم ’مَنڈی‘ (۱۹۵۶ء) کو وہاں تِکنیکی سَہولتیں مُیسّر نہ آنے کے باعث تَکمیل کے لیے شاہ نور مُنتقل کرنا پڑا۔ اِس سے اُس دَور میں شاہ نور کی تِکنیکی اَہمیت کا اَندازہ کیا جاسکتا ہے۔
پہلی مُلتانی/ سَرائیکی فلم ’دِھیاں نِمانیاں‘ بھی اِسی شاہ نور اسٹوڈیو میں بنی۔ یُوں شاہ نور کی تاریخ صِرف اُردو اور پنجابی سِنیما تک مَحدود نہ رہی بلکہ سَرائیکی فلم کی اِبتدائی تاریخ سے بھی اِس کا نام جُڑ گیا۔
شاہ نور کی اَہمیت اِس اِعتبار سے بھی غَیرمَعمولی تھی کہ پاکستان بننے کے بعد جب لاہور کی فلمی صَنعت اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشِش کررہی تھی، یہ اسٹوڈیو اُس کے لیے ایک مَضبوط تِکنیکی مَرکز بن گیا۔ مَشرقی پاکستان میں بننے والی اِبتدائی بَنگالی فلموں تک کی رِیلیں ایڈیٹنگ اور پِرنٹنگ کے لیے شاہ نور، لاہور بھیجی جاتی تھیں۔
ایک زَمانے میں اِس نِگار خانے کی رَونق اور شُہرت ایسی تھی کہ یہ صِرف فلمیں بنانے کی جگہ نہیں بلکہ لاہور کی فلمی تَہذیب کی ایک پَہچان بن گیا تھا۔ مگر شوکت رضوی کی زِندگی ہی میں اُن کے بیٹوں کے باہمی اِختلافات نے شاہ نور کو بھی اپنی لَپیٹ میں لے لیا اور اسٹوڈیو اُن کے درمیان تَقسیم ہوگیا۔ اِس تَقسیم کے بعد اِس کے مُختلف حِصّوں کا اِستعمال بھی بدلتا چلا گیا اور فلم سازی کے ایک مُربوط مَرکز کی حَیثیت سے شاہ نور کی پُرانی صُورت بَرقَرار نہ رہ سکی۔
وَقت کے ساتھ پاکستانی فلمی صَنعت زَوال کا شِکار ہوئی تو شاہ نور کی رَونقیں بھی ماند پڑتی گئیں۔ کبھی جِن شوٹنگ فلورز پر فلمی دُنیا کے بڑے بڑے ناموں کی آمدورَفت رہتی تھی اور جِن راہ دَاریوں میں نئی فلموں کے مَنصوبے بنتے تھے، وہاں آہِستہ آہِستہ خاموشی اُترتی چلی گئی اور ایک عَہد کی یہ تاب ناک نِشانی اپنے گُزرے ہوئے عُروج کی یادوں میں سِمٹتی گئی۔
شوکت رضوی نے اپنے اِس اسٹوڈیو کی رَونقیں بھی دیکھیں اور اِس کا اُجاڑ پَن بھی۔ یقیناً یہ اُن کی اِس اسٹوڈیو سے دِلی وابستگی ہی تھی کہ اُنہوں نے وَصیّت کی کہ اُنہیں شاہ نور اسٹوڈیو ہی کے اَحاطے میں، اپنے والد سیّد منوّر حسین رضوی کے پَہلو میں دَفن کیا جائے۔
۱۹اگست ۱۹۹۹ء کو تقریباً ۸۵ برس کی عُمر میں شوکت حسین رضوی اِنتقال کرگئے تو اُن کی وَصیّت کے مُطابق اُنہیں یہیں دَفن کیا گیا۔ یہاں خاندان کے دیگر اَفراد کی قَبریں بھی موجود ہیں، جِن میں نورجہاں کے بَطن سے پیدا ہونے والی شوکت رضوی کی بیٹی ظِلِّ ہُما کی قَبر بھی شامل ہے۔
آج منٹو کے اِسی ’شوکت‘ کی ستائیسویں بَرسی ہے؛ وہ شوکت، جِس کی شخصیت اور جس کے ’شاہ نور اسٹوڈیو‘ کے تَذکرے کے بغیر پاکستانی فلمی صَنعت کی داستان مُکمّل ہی نہیں ہوسکتی۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان