قیامِ پاکستان کے عینی شاہد اور معروف اداکار مصطفی قریشی نے آزادی پاکستان سے جڑی بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کی آرزو ان کے دل میں بچپن ہی سے رچ بس گئی تھی، جبکہ قائداعظم محمد علی جناح کا نام ان کے دل و دماغ پر نقش تھا۔
مصطفی قریشی کے مطابق حیدرآباد میں اس وقت کے پرتشدد حالات اور مسلمانوں پر حملوں نے آزادی اور پاکستان کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کے باوجود مسلمانوں کے اندر ایک آزاد وطن کے حصول کی خواہش کم نہیں ہوئی بلکہ مزید شدت اختیار کر گئی۔انہوں نے بتایا کہ بچپن میں وہ ہاتھ میں چھوٹا سا پاکستانی پرچم تھام کر گلیوں میں گھومتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے تھے، جو آج بھی ان کی خوبصورت یادوں کا حصہ ہے۔
مصطفی قریشی نے کہا کہ غلامی کے بعد ایک آزاد وطن کا خواب حقیقت بننے جا رہا تھا اور آزادی کی خواہش بچپن ہی سے ان کے دل میں موجود تھی۔ ان کے بقول قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت اور ان کا پیغام اس دور کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے تحریک کا باعث تھا۔
معروف اداکار نے قائداعظم کے ڈھاکہ یونیورسٹی سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ آزادی حاصل ہوچکی ہے، تاہم اسے حقیقی معنوں میں مضبوط اور برقرار رکھنا ہماری اصل ذمہ داری ہے۔
مصطفی قریشی کا کہنا تھا کہ ہمارے اسلاف اور مہاجرین کی بے مثال قربانیاں پاکستان کی بنیاد ہیں، ان کی عظیم جدوجہد اور قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔