ملتان کے گنجان آباد علاقے ڈیرہ اڈّا میں، جنرل پوسٹ آفس کی پچھلی سڑک پر، کبھی روزنامہ ”حق“ کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ قیصر ملک مرحوم اِس اخبار کے چیف ایڈیٹر تھے، مگر ملتان کے باسیوں میں سے خال خال ہی کو عِلم ہوگا کہ ملتانی زبان میں بننے والی پہلی فلم ”دِھیاں نِمانیاں“ کے کہانی نویس، ہدایت کار اور فلم ساز—یعنی سب کچھ—یہی قیصر ملک تھے۔
۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کی دہائیوں میں لاہور کے مختلف فلمی اِسٹوڈیوز میں دھڑا دھڑ اُردو اور پنجابی فلمیں بن رہی تھیں۔ فلمی صنعت کی چکاچوند پورے پنجاب کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور فلم سازی، بحیثیتِ مجموعی، ایک منفعت بخش کاروبار بن چکی تھی۔ پنجاب کے ہر بڑے شہر میں کئی کئی سینما گھر قائم ہوچکے تھے، جب کہ قصبوں اور دیہات تک عارضی سینما، جنہیں ”کچّی ٹاکی“ کہا جاتا تھا، علیحدہ سے لوگوں کو فلمی تفریح فراہم کررہے تھے۔
قیصر ملک نے بھی فلم سازی میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے ۱۹۷۰ء کی دہائی کے اوائل ہی سے ملتان اور لاہور کے درمیان آمدورفت شروع کر رکھی تھی۔ ۱۹۷۳ء میں جب وہ لاہور گئے تو اِس مرتبہ ”دِھیاں نِمانیاں“ کا اِسکرپٹ، جسے اُنہوں نے ملتان میں روزنامہ ”حق“ کے دفتر میں بیٹھ کر خود لکھا تھا، اُن کے ہاتھ میں تھا۔
قیصر ملک کے پاس سرمایہ تو محدود تھا، مگر وہ بلا کے چرب زبان تھے۔ اُنہوں نے اپنی لچھے دار باتوں سے عنایت حسین بھٹی کو اِس فلم میں بطور ہیرو کام کرنے اور ہدایت کار کی حیثیت سے فلم کو اپنا نام دینے پر آمادہ کرلیا۔
عنایت حسین بھٹی اُن دنوں پنجاب کے نام وَر ترین گلوکاروں اور اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کا نام فلم کے ساتھ جُڑنے کا مطلب یہ تھا کہ فلم کے گیت بھی لوگوں تک پہنچیں گے اور پنجاب کے دُور دراز علاقوں میں موجود اُن کے مدّاح سینما گھروں کا رُخ بھی کریں گے۔
”دِھیاں نِمانیاں“ لاہور کے شاہ نور اِسٹوڈیو میں سات آٹھ ماہ کے دوران تیار ہوگئی اور ۷ دسمبر ۱۹۷۳ء کو سینما کے پردے پر نمائش کے لیے پیش کردی گئی۔
قیصر ملک اپنا سرمایہ ڈبونا نہیں چاہتے تھے، اِس لیے اُنہوں نے اِس فلم میں وہ سب کچھ دِکھانے اور سُنوانے کی کوشش کی جو جنوبی پنجاب کے لوگ دیکھنا اور سُننا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے خطّۂ ملتان کی زمین، ثقافت، رُوحانیت اور عوامی زندگی کے ہر اُس رنگ کو فلم میں سمیٹا جو اُنہیں اہم، پُرکشش اور فلم کی تجارتی کامیابی کے لیے مفید نظر آیا۔
مثال کے طور پر ”دِھیاں نِمانیاں“ کا فلمی قافلہ عَمداً کوٹ مِٹھن شریف میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے مزارِ مُبارک پر بھی پہنچا۔ جنوبی پنجاب کے لوگ اِس مزار سے خاص عقیدت رکھتے ہیں اور یہاں سارا سال زائرین کا جمگھٹا لگا رہتا ہے۔
مزار کے اَحاطے میں، چشمے کے ساتھ، فلم کا عارضی سیٹ لگایا گیا اور یہاں عنایت حسین بھٹی کی آواز میں ”دِھیاں نِمانیاں“ کا ایک گیت فلمایا گیا۔ آس پاس موجود عام لوگ بھی خودبخود فلم کے اِن مناظر کا حصّہ بن گئے۔
بعد میں جس شخص کو پردۂ سیمیں پر اپنی جھلک دکھائی دیتی، وہ فخر سے دوسروں کو بتاتا:
”دیکھو! یہ مَیں کھڑا ہوں… یہ سامنے، عنایت حسین بھٹی کے پیچھے، دائیں طرف…!“
یوں ”دِھیاں نِمانیاں“ میں دکھائی دینے والے یہی سیکڑوں لوگ اِس فلم کے بے معاوضہ تشہیرکار بن گئے۔ وہ اپنے عزیزوں، دوستوں اور واقف کاروں کو سینما لے جاتے اور بڑے فخر کے ساتھ اُنہیں پردے پر اپنی چند لمحوں کی موجودگی دکھاتے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے عقیدت مند اور اُن کے مزار کی زیارت کے شائق علیحدہ سے سینما گھروں میں پہنچے۔
قیصر ملک نے وسیب کی عقیدت، ثقافت اور عوامی نفسیات—تینوں کو فلم کی تجارتی کامیابی سے جوڑ دیا تھا۔ تاہم اُن کی ایک بڑی کارروائی ابھی باقی تھی۔
اور وہ کارروائی یہ تھی کہ قیصر ملک نے اہلِ ملتان کا ایک پسندیدہ گیت، ایک طرح سے نئے سازوں کے ساتھ دوبارہ ترتیب دے کر، ”دِھیاں نِمانیاں“ میں شامل کیا۔ یہ پُرانے ملتانیوں کے لیے ایک منفرد قسم کی کشش تھی۔
پُرانے ملتانی بخوبی جانتے تھے کہ ”دِھیاں نِمانیاں“ میں شامل یہ گیت جس پُرانے گیت کی بازگشت ہے، اُسے کئی دہائیاں پہلے خطّۂ ملتان کی نام وَر ترین گلوکارہ “بَدْرُو مُلتانی” نے اپنی آواز میں گراموفون کی تھالی پر محفوظ کرایا تھا۔
اُس گیت کے بول تھے:
”دِل تانگھ تانگھے، اللہ جوڑے سانگھے…“
(ترجمہ: دِل منتظر ہے کہ اللہ جلَّ شانہٗ کب میرے محبوب سے میرا ناتا جوڑے…)
اِس گیت کو گلوکارہ افشاں نے ”دِھیاں نِمانیاں“ کے لیے نئے سرے سے گایا۔ ماسٹر عاشق حسین نے نئے آلاتِ موسیقی کے ساتھ اِس گیت کی موسیقی ترتیب دی، تاہم اِس کی دُھن اور لَے بَدْرُو مُلتانی کے پُرانے گراموفون ریکارڈ جیسی رکھی گئی۔
فلم میں شامل ہونے کے بعد یہ گیت، بَدْرُو مُلتانی کے پُرانے گیت ہی کی مانند، غیرمعمولی طور پر مقبول ہوا۔ جنوبی پنجاب ہی نہیں، پورے پنجاب میں شادی بیاہ کے موقع پر جہاں کہیں لاؤڈ اِسپیکر لگتا، وہاں اِس گیت کی آواز ضرور سُنائی دیتی:
”دِل تانگھ تانگھے، اللہ جوڑے سانگھے…“
سَتّر اور اَسّی کی دہائیوں کی نئی نسل اِسے افشاں کے گیت کے طور پر سُنتی رہی، مگر پُرانے ملتانی جانتے تھے کہ یہ گیت بَدْرُو مُلتانی کے گراموفون ریکارڈ کی نقل ہے؛ وہ اِس کی پُرانی دُھن اور لَے کو فوراً پہچان لیتے تھے۔
گویا بَدْرُو مُلتانی کی گائی ہوئی دُھن میں ایسی کشش موجود تھی کہ اُن کا گراموفون ریکارڈ بننے کے کئی دہائیوں بعد بھی ”دِھیاں نِمانیاں“ کی تخلیقی ٹیم نے اُسی گیت کو افشاں کی آواز میں نئے سرے سے پیش کرنا فلم کے لیے مفید سمجھا۔
اُن کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ فلم کو پردۂ سیمیں پر آئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پنجاب کے میلوں ٹھیلوں کے لاؤڈ سپیکروں پر آج بھی ”دِل تانگھ تانگھے، اللہ جوڑے سانگھے“ سُنائی دیتا ہے—اور اِس مقبول دُھن کے پسِ منظر میں بَدْرُو مُلتانی کی وہ آواز موجود ہے جو گراموفون کے عہد میں ملتان کی پہچان بنی تھی۔
بَدْرُو مُلتانی کا اَصل نام ”بَدْرُالنِّساء“ تھا۔ گراموفون کمپنیوں کے ریکارڈوں اور موسیقی کی بعض بعد کی فہرستوں میں اُن کا نام ”بَدْرُالنِّساء مُلتانی“، ”مِس بَدْرُو مُلتانی“ اور ”بَدْرُو بائی مُلتانی“ جیسی مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔
تاہم ایک اہم معاصر تحریری شہادت، آل اِنڈیا ریڈیو کے سرکاری انگریزی پندرہ روزہ جریدے ”دی اِنڈین لِسنر“ کی جلد ششم، شمارہ نمبر ۲۴، مؤرّخہ ۷ دسمبر ۱۹۴۱ء، کے صفحہ ۹۳ پر شائع ہونے والے لاہور ریڈیو کے پروگرام نامے میں بَدْرُو مُلتانی کا نام واضح طور پر ”بَدر بائی آف ملتان“ درج ہے۔ مقامی طور پر البتہ وہ ”بَدْرُو مُلتانی“ ہی کے نام سے معروف رہیں اور یہی نام اُن کی مستقل عوامی شناخت بنا۔
بَدْرُو مُلتانی کے والدین، خاندان اور اِبتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ سچ پوچھیں تو اِن معلومات کو کھوجنے اور محفوظ کرنے کی سنجیدہ کوشش ہی کبھی نہیں کی گئی۔
بَدْرُو مُلتانی کا صحیح سنِ پیدائش بھی یقینی طور پر معلوم نہیں۔ تاہم ۱۹۴۱ء کے ریڈیو پروگرام نامے میں اُن کی متعدد پیش کشوں کا اندراج اور دسمبر ۱۹۴۹ء کی ایک چشم دید تحریر میں اُنہیں ”متوسّط عمر کی خاتون“ قرار دیا جانا، اُن کی زندگی اور فن کے زمانی تعیّن میں اِس حد تک ضرور مدد دیتا ہے کہ اُن کی پیدائش غالباً ۱۸۹۰ء کی دہائی میں ہوئی ہوگی۔
ریڈیو پاکستان کے شعبۂ پروگرام کے ایک ریٹائرڈ افسر، علی تنہا، نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بَدْرُو مُلتانی نے موسیقی کی اِبتدائی تعلیم پنڈت گنپت سے حاصل کی، جب کہ اُستاد امیر خان مُلتانی نے اُنہیں فنِ موسیقی کی باقاعدہ تربیت دی۔ بَدْرُو مُلتانی کے اِبتدائی اُستادوں کے بارے میں فی الحال یہی واضح تحریری حوالہ سامنے آیا ہے۔
علی تنہا کے مطابق، بَدْرُو مُلتانی اپنے عہد کے بڑے گَوَیّوں کی محفلوں میں بھی شریک ہوتی تھیں۔ اُنہوں نے اُستاد عاشق علی خان، اُستاد توکّل حسین خان، اُستاد بڑے غلام علی خان اور اُستاد اُمید علی خان جیسے نام وَر گَوَیّوں کو قریب سے سُنا۔ اِن فن کاروں کو بَدْرُو مُلتانی کے باقاعدہ اُستادوں میں شمار نہیں کیا گیا؛ البتہ اُن کی محفلوں میں شرکت سے بَدْرُو کو مختلف راگوں، سُروں کے اُتار چڑھاؤ، راگ کی بَڑھت اور کلام کی ادائیگی کے الگ الگ طریقے سُننے کا موقع ملتا رہا۔
بَدْرُو مُلتانی کا نام ملتان کے قدیم مرکزِ موسیقی ”تکیہ بھیڈی پوتراں“ پر گانے والی فن کاراؤں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ موسیقی کے اِن تکیوں میں گَوَیّے، اُستاد اور موسیقی کا فہم رکھنے والے سامعین جمع ہوتے تھے۔ یہاں کسی گلوکار کی سُر، لَے، تال، راگ اور ادائیگی کو باقاعدہ پرکھا جاتا تھا۔
تکیہ بھیڈی پوتراں سے بَدْرُو مُلتانی کی نسبت سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی گائیکی صرف میلوں، شادی بیاہ کی تقریبات اور نجی محفلوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ موسیقی کے تربیت یافتہ اور فن شناس حلقوں کے سامنے بھی گاتی تھیں۔
بَدْرُو مُلتانی کسی ایک صنفِ موسیقی تک محدود نہیں تھیں۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی کافیاں اُن کی اَصل وجہِ شُہرت بنیں، مگر اُنہوں نے غزل، نعت، ہجر و فِراق کے گیت، سوہنی مہینوال کی لوک داستان سے متعلق کلام، شادی بیاہ کے گیت، پنجابی ٹپّے اور واقعۂ کربلا سے متعلق سوز و نوحے بھی گائے۔
بَدْرُو ملتانی ، ملتانی زبان کے لفظوں کو اُن کے صحیح تلفظ، مقامی آہنگ اور کامل جذباتی تاثیر کے ساتھ ادا کرتی تھیں۔وہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی کافی کو کلاسیکی موسیقی کی غیرضروری پیچیدگیوں میں اُلجھانے کے بجائے اُس کے مرکزی خیال، سوز اور عارفانہ کیفیت کو نمایاں رکھتی تھیں۔ مُرکی، تان اور پَلٹے اُن کے ہاں محض فَنّی نمائش کے لیے نہیں آتے تھے؛ وہ اِنہیں کلام کے مفہوم اور دُھن کی ضرورت کے مطابق استعمال کرتی تھیں۔
راگ جوگ میں گائی گئی بَدْرُو ملتانی کی کافی خاص طور پر اہلِ فن کو متأثر کرتی تھی۔ اُن کی پاٹ دار آواز کسی لاؤڈ اِسپیکر کے بغیر بھی دُور تک پہنچتی، مگر آواز کے زور میں نہ سُر متزلزل ہوتا اور نہ لفظ دھندلاتا تھا۔
تاہم اُن کی لسانی اور فنّی دسترس صرف ملتانی زبان تک محدود نہیں تھی۔ ”دی اِنڈین لِسنر“ کے مذکورہ بالا شمارے میں شائع ہونے والے لاہور ریڈیو کے ۳۱ دسمبر کے پروگراموں میں “بَدْرُو بائی آف مُلتان” کا نام متعدد مرتبہ درج ہے۔
پروگرام نامے کے مطابق، اُنہوں نے صبح غزل و نعت اور غزل و ملتانی کافی، جب کہ شام کو ملتانی کافی اور غزل پیش کی۔ شام ۷ بج کر ۳۰ منٹ پر اُن کی آواز میں ”غزلیاتِ حالی“ نشر ہوئیں، جب کہ رات ۱۰ بج کر ۲۵ منٹ پر مولانا الطاف حسین حالی کی یاد میں پیش کیے جانے والے خصوصی پروگرام ”سخنِ حالی“ میں اُنہیں نسیم اختر اور شمشاد بیگم کے ساتھ شامل کیا گیا۔
اِسی جریدے کے اگلے شمارے ( یعنی شمارہ نمبر ۲۵) کے صفحہ ۳۳ پر شائع ہونے والے یکم جنوری ۱۹۴۲ء کے لاہور ریڈیو پروگرام میں صبح ۹ بج کر ۳۸ منٹ پر ”بَدر بائی آف ملتان“ کی آواز میں ”سندھی اور ملتانی کافی“ نشر کیے جانے کا اندراج بھی موجود ہے۔ یہ حوالہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ملتانی کے ساتھ سندھی کافی بھی گاتی تھیں۔
یہ پروگرام نامے بَدْرُو مُلتانی کے فن کے بارے میں تین اہم باتوں کی دستاویزی تصدیق کرتے ہیں: اوّل، یہ کہ وہ ۱۹۴۱ء میں آل اِنڈیا ریڈیو لاہور سے باقاعدہ نشر ہو رہی تھیں؛ دوم، یہ کہ اُن کا گایا ہوا کلام صرف ملتانی کافی اور لوک گیتوں تک محدود نہیں تھا؛ اور سوم، یہ کہ وہ ملتانی اور سندھی کے ساتھ شستہ اُردو میں غزل، نعت اور حالی جیسے شاعر کا کلام بھی گاتی تھیں۔
اور صرف یہی نہیں ، آل انڈیا ریڈیو بَدْرُو ملتانی کو نسیم اختر اور شمشاد بیگم جیسی نام وَر گلوکاراؤں کے ساتھ ایک ہی خصوصی پروگرام میں پیش کررہا تھا۔(بحوالہ: ”دی اِنڈین لِسنر“، جلد ششم، شمارہ نمبر ۲۴، مؤرّخہ ۷ دسمبر ۱۹۴۱ء، صفحہ ۹۳؛ نیز جلد ششم، شمارہ نمبر ۲۵، مؤرّخہ ۲۲ دسمبر ۱۹۴۱ء، صفحہ ۳۳)
۱۹۴۰ء کی دہائی کے معاصر اور قریب العہد ماخذوں سے بَدْرُو مُلتانی کی فنّی سرگرمی کے، آل اِنڈیا ریڈیو کے لاہور اِسٹیشن سے نشر ہونے کے علاوہ، دو مزید دائرے بھی سامنے آتے ہیں؛ اوّل، برطانوی ہند کی نام وَر گراموفون کمپنیوں کا اُن کی آواز کو تجارتی بنیادوں پر ریکارڈ کرنا؛ اور دوم، اُن کا مقامی شادی بیاہ کی تقریبات اور نجی محفلوں میں کسی لاؤڈ اِسپیکر کے بغیر گانا۔
دستیاب شواہد کے مطابق، بَدْرُو مُلتانی کے بعض محفوظ ریکارڈ ”دی ٹوِن“ (The Twin) کے لیبل پر ملتے ہیں، جسے ”دی ٹوِن ریکارڈ کمپنی لمیٹڈ“ (The Twin Record Company Limited) چلاتی تھی؛ جب کہ بعض دوسرے ریکارڈوں اور بعد کے تذکروں کے ساتھ ”ہِز ماسٹرز وائس“ (His Master’s Voice—HMV) کا نام بھی آتا ہے۔
”دی ٹوِن“ کے لیے گائی ہوئی اُن کی ایک غزل کے ریکارڈ پر اُن کا نام ”بَدْرُالنِّساء بائی آف ملتان“ درج ہے۔ ملتانی کافی، پنجابی اور اُردو غزل، گیت، سوز اور نوحے کی متعدد گراموفون تھالیاں اُن کی آواز میں محفوظ ہوئی تھیں۔ تاہم اِن کمپنیوں کے مکمل کیٹلاگ اور ریکارڈنگ رجسٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اُن کے تمام ریکارڈوں کی حتمی تعداد ابھی متعیّن نہیں ہوسکی۔
جہاں تک مقامی شادی بیاہ کی تقریبات اور نجی محفلوں میں بَدْرُو مُلتانی کے کسی لاؤڈ اِسپیکر کے بغیر گانے کا تعلق ہے، اکرام اللہ نے اپنی کتاب ”ملتان ما“ میں دسمبر ۱۹۴۹ء کی ایک محفل کا آنکھوں دیکھا حال کچھ اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
”جب میں ملتان پہنچا تھا ان دنوں وہاں پر بدرو نامی گائیکہ کافی گانے کے لیے بہت مشہور تھی۔ یہ محض ایک اتفاق تھا کہ میں 1949ء کے ماہ دسمبر میں ایک بجے دوپہر کے قریب درمیانے درجے کے زمیندار پٹھانوں کی بستی میں سے سائیکل پر سوار گزر رہا تھا۔ بستی کے درمیان میں ایک خاصا کھلا میدان تھا، جس میں اس روز ہجوم لگ رہا تھا۔ رک کر اجتماع کی وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ یہاں شادی ہے اور آج دو بجے بدرو یہاں گانے کے لئے آ رہی ہے۔
میں اپنی مصروفیت بھول بھال کر وہیں پسر گیا۔ سائیکل دیوار کے ساتھ لگا کر کھڑی کر دی اور خود دوسروں کی طرح کچی دیوار پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ پورے دو بجے واقعی وہ آ گئی۔ بدرو خاصی لمبی چوڑی متوسط عمر کی عورت تھی۔ پہلے چند اشعار موقع کی مناسبت سے تہنیتی گانے پھر کافی گانے کے لیے آواز اٹھائی تو پتہ چلا کہ یہ ہوتی ہے پاٹ دار آواز جو آسمان تک بلاتکان اٹھتی چلی جاتی ہے۔
مجمع یوں چپ ہو گیا جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ خامشی ایسی کہ سوئی فرش پر گرے تو آواز آئے۔ سُر اور سوز میں بسی، خوبصورتی اور دلپذیری میں رچی آواز ہے کہ چلی آ رہی ہے اور لگ بھگ ہزار افراد کا مجمع مبہوت ہوا بیٹھا سن رہا ہے۔ کوئی لاؤڈ سپیکر نہیں اور دور بیٹھے افراد کو خواجہ فرید کی کافی ’کیا حال سناواں دل دا‘ کا ایک ایک لفظ نہایت واضح اور صاف سنائی دے رہا تھا۔
اردگرد کی سب چھتوں پر عورتیں، مرد چھوٹے اور بڑے عقیدت و احترام سے بیٹھے سن رہے تھے اور محظوظ ہو رہے تھے۔” (بحوالہ: اکرام اللہ، ”ملتان ما“، سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۲۱ء، صفحہ ۶۵)
لاہور ریڈیو اِسٹیشن سے نشر ہونے والے پروگراموں، گراموفون ریکارڈوں اور نجی محفل کی چشم دید شہادت کو یکجا کیا جائے تو بَدْرُو مُلتانی کی آواز میں گائے گئے نمایاں کلام کی فہرست کچھ یوں مرتب ہوتی ہے:
”تُوں بِن موت بھلی“ — کافی
”وِچ روہی دے“ — کافی
”درد اَندر دی پیڑ“ — کافی
”کیا حال سُناواں دِل دا“ — کافی
”جَڈاں جائِیم، پا کر جھولی کر وَین ڈِتّی، ماں لولی“ — کافی
”دِلڑی اُچاک ہے، جیڑا اُداس ہے“ — کافی
”اُس بے پَرواہ دِیاں زُلفاں“ — پنجابی گیت
”سانول تیڈے کُراڑ نِت دے“ — ملتانی گیت
”دِل تانگھ تانگھے، اللہ جوڑے سانگھے“ — ملتانی گیت
”ساز یہ کینہ ساز، کیا جانیں“ — اُردو غزل
”کسی سے ہے وعدہ، کسی سے ہے یاری“ — اُردو غزل
”تَینوں بہناں مِلن نوں آئیاں، تَینوں بہناں رَج نہ تکّیا“ — ملتانی نوحہ
”واہ رے حُسینؑ دا وَنج بَپار ہویا، جِتھے بَچّڑے تے نَہ کوئی اُدھار ہویا“ — ملتانی مرثیہ
”سوہنی مہینوال“، اُردو زبان میں گایا ہوا ”کلامِ حالی“ اور لاہور ریڈیو اِسٹیشن سے نشر ہونے والی سندھی کافیاں اِس کے علاوہ ہیں۔
بَدْرُو مُلتانی پر قدرت کا ایک فیض یہ ہوا کہ اُن کی آواز حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے عارفانہ کلام کے اُردو ترجمے کی بھی سبیل بنی۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہفت روزہ ”ریاست“ دہلی کے مدیر، دیوان سنگھ مفتون، ملتان سینٹرل جیل میں قید تھے۔ اُنہوں نے اپنے ایک ساتھی قیدی، چودھری سلطان محمود—جو منٹگمری کا ایک ذیل دار تھا—کے گراموفون پر بَدْرُو مُلتانی کی آواز میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی ایک کافی سُنی۔
مفتون ملتانی زبان نہیں جانتے تھے، اِس لیے کلام کے الفاظ اور مفہوم اُن کی پوری گرفت میں نہ آسکے، لیکن آواز، دُھن اور کلام کی مجموعی تاثیر نے اُنہیں غیرمعمولی طور پر متوجّہ کیا۔ اُنہوں نے دُکھ اور حیرت کا اظہار کیا کہ خواجہ غلام فریدؒ کا کلام اُردو ترجمے اور تشریح کے ساتھ اب تک کیوں شائع نہیں ہوا۔ ساتھ ہی اُنہوں نے عزم ظاہر کیا کہ رہائی کے بعد وہ کوشش کریں گے کہ اِس کلام کا اُردو ترجمہ کیا جائے، تاکہ ملتانی زبان نہ جاننے والے لوگ بھی اُس کے معانی اور عارفانہ مضامین سے واقف ہوسکیں۔
دیوان سنگھ مفتون نے رہائی کے بعد اپنے ہفت روزہ ”ریاست“ میں ایک اداریہ لکھا اور نوابِ بہاول پور سے استدعا کی کہ کلامِ فریدؒ کے اُردو ترجمے کا بندوبست کیا جائے۔ اُن کی یہ خواہش اور تحریک نوابِ بہاول پور تک پہنچی۔ ریاست کی سرپرستی میں اہلِ علم کی ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس کے سپرد خواجہ غلام فریدؒ کے کلام کی تدوین، تشریح اور اُردو ترجمے کا کام کیا گیا۔ اِس علمی کاوش کے نتیجے میں ۱۹۴۴ء میں کلامِ فریدؒ کا تشریحی اُردو ترجمہ شائع ہوا۔
یوں ملتان سینٹرل جیل میں گراموفون کی ایک تھالی پر بَدْرُو مُلتانی کی آواز میں سُنی جانے والی کافی، خواجہ غلام فریدؒ کے کلام کو اُردو خواں دنیا تک پہنچانے کی ایک باقاعدہ علمی کوشش کا محرّک بن گئی۔
بَدْرُو مُلتانی کے فنّی مقام و مرتبے کی ایک اور اہم شہادت نام وَر موسیقار ماسٹر غلام حیدر کے ملتان آنے سے ملتی ہے۔ علی تنہا کے تحریری بیان کے مطابق، ماسٹر غلام حیدر بعض دوسرے موسیقی شناسوں کے ساتھ بَدْرُو مُلتانی کا گانا سُننے ملتان آئے۔ بَدْرُو مُلتانی نے اُن کے سامنے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی ایک کافی راگ جوگ میں پیش کی۔ ماسٹر غلام حیدر اُن کی پیش کش سے اِس قدر متأثّر ہوئے کہ اُنہوں نے اُسی نشست میں اُن سے مزید کافیاں سُنانے کی فرمائش کی۔ اِس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کی شہرت صرف ملتان کی نجی محفلوں تک محدود نہیں تھی؛ لاہور کی فلمی موسیقی سے وابستہ بڑے موسیقار بھی اُنہیں سُننے کے لیے ملتان آتے تھے۔
بَدْرُو مُلتانی کے بارے میں پُرانے ملتان کی روایات یہ ہیں کہ اُن کے پاس ایک بڑی، مُرصّع اور نہایت شان دار ذاتی بگھی تھی۔ ملتان میں کہیں جانا ہوتا یا کسی محفل میں شرکت کرنا ہوتی تو وہ اِسی بگھی پر سوار ہوکر جاتیں۔ اُن کے سازندے بھی موسمی یا دیہاڑی دار نہیں تھے؛ طبلہ نواز، ہارمونیم نواز اور دوسرے ہم نوا اُنہوں نے مستقل ماہانہ تنخواہ پر رکھے ہوئے تھے۔ لاہور اور دہلی کے سفر بھی وہ ریل کے اوّل درجے کے ڈبّے میں کرتی تھیں۔
نام وَر گلوکارہ شمشاد بیگم سے بَدْرُو مُلتانی کا گہرا یارانہ تھا۔ بَدْرُو لاہور میں شمشاد بیگم ہی کے ہاں قیام کرتی تھیں۔ دونوں ایک ساتھ دہلی کی محافلِ موسیقی میں بھی شریک ہوتیں، جہاں بَدْرُو مُلتانی کافیاں اور شمشاد بیگم اُردو غزلیں پیش کرتی تھیں۔ ایک لوک روایت کے مطابق، دہلی کا ایک نواب بَدْرُو مُلتانی کو کثیر نقد انعامات سے نوازتا رہا، جن سے بَدْرُو سونے کے گہنے بنواتی رہیں۔ چند برسوں میں اِن گہنوں کا مجموعی وزن تولوں سے بڑھتے بڑھتے تقریباً ایک سیر تک جا پہنچا۔ بعدازاں بَدْرُو کے کسی قریبی رشتے دار نے یہ گہنے چُرا لیے۔ اِس چوری کا احوال امجد کلیار نے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بھی درج کیا ہے۔
زمینداروں اور نوابوں کی محفلوں میں گانے کی مستند شہادتوں کے باوجود، ہم عصر روایات بَدْرُو مُلتانی کو ایک باحیا خاتون قرار دیتی ہیں، جو ہر وقت اپنا سر دوپٹے یا چادر سے ڈھانپے رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے زندگی میں ایک ہی شادی کی، جس سے کوئی اولاد نہ ہوسکی۔ کسی زمیندار یا نواب کے ساتھ اُن کے کسی معاشقے کا بھی کوئی اشارہ نہیں ملتا۔
نام وَر گلوکارہ ثریا ملتانیکر نے ایک انٹرویو میں بَدْرُو مُلتانی سے اپنی قریبی خاندانی نسبت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ بَدْرُو اُن کی والدہ کی ماموں زاد بہن تھیں اور وہ اِسی نسبت سے اُنہیں اپنی خالہ سمجھتی تھیں۔
ثریا ملتانیکر کے مطابق، وہ بچپن میں بَدْرُو بی بی سے گانا سُنا کرتی تھیں۔ اُن کے بقول، صرف اُن کا خاندان ہی نہیں بلکہ ایک پورا زمانہ بَدْرُو مُلتانی کی آواز کا اسیر تھا۔ قدرت نے اُنہیں دل نشیں آواز کے ساتھ غیرمعمولی حُسن بھی عطا کیا تھا۔
ثریا ملتانیکر کو بَدْرُو مُلتانی کا وسیع و عریض گھر بھی یاد تھا، جس کی دیواروں پر ملتانی کاشی گری کے خوب صورت پھول، بوٹے اور نقش بنے ہوئے تھے۔ وقت گزرا، محفلیں اُجڑیں اور وہ پُرشکوہ مکان بھی ویران ہوگیا۔ ثریا ملتانیکر نے اپنے انٹرویو میں اُس گھر کا ذکر کرتے ہوئے حسرت سے کہا:
”اَڄ بَدْرُو مُلتانی دا گھر ویران اے، دِل کوں اَرمان لگدے۔“
یعنی آج بَدْرُو مُلتانی کا گھر ویران ہے اور اُسے دیکھ کر دل میں کسک پیدا ہوتی ہے۔
بَدْرُو مُلتانی کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ زندگی کے آخری حصّے میں اُنہیں اِس بات کا شدید قَلَق رہنے لگا تھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوجائیں گی تو اُن کے بعد نہ کوئی براہِ راست وارث ہوگا اور نہ اُن کے منفرد اندازِ گائیکی کو اُسی صورت میں آگے بڑھانے والا کوئی جانشین۔ اِسی زمانے میں طویل علالت نے اُن کے جسم اور ذہن، دونوں کو کمزور کردیا۔ رفتہ رفتہ اُن کا حافظہ بھی جواب دے گیا۔
وہ گلوکارہ، جسے کبھی خواجہ غلام فریدؒ کی طویل کافیاں، اُن کے سُر، راگ اور لفظی نزاکتیں ازبر تھیں، بالآخر اپنی یادداشت سے محروم ہوگئی۔ بیماری، تنہائی اور بے اولادی نے اُن کی زندگی کے آخری برسوں کو مزید دشوار بنادیا۔
بَدْرُو مُلتانی نے تقریباً اَسّی برس کی عمر میں، اغلب قیاس کے مطابق، ۱۹۷۰ء کی دہائی میں وفات پائی اور ملتان کے پاک مائی قبرستان میں مدفون ہوئیں۔
وقت کے ساتھ بَدْرُو مُلتانی کے بیشتر گراموفون ریکارڈ نایاب ہوتے چلے گئے۔ مقامی موسیقی کے محقّق اور لوک گلوکار ڈاکٹر رفیق، المعروف سندھی فقیر، نے سرائیکی وسیب کے مختلف مقامات سے اُن کے بعض پُرانے ریکارڈ تلاش کیے اور تقریباً دس گیت کیسٹ پر منتقل کیے۔
بعد میں اِنہی نقول کے ذریعے بَدْرُو مُلتانی کی آواز کیسٹ سے رقمی صورت اور پھر انٹرنیٹ تک پہنچی۔ اگرچہ اُن کے حالاتِ زندگی پر مشتمل کوئی جامع اور مستند سوانحی ریکارڈ مرتب نہ ہوسکا، تاہم گراموفون کی تھالیوں، ریڈیو کے پروگرام ناموں، چند تحریری تذکروں اور اہلِ ملتان کی یادداشت نے اُن کی زندگی، آواز اور شخصیت کے متعدد نقوش مٹنے سے بچالیے۔
بَدْرُو مُلتانی کی زندگی کے دستیاب نقوش کو یکجا کیا جائے تو اُن کا فَنّی سفر برصغیر میں موسیقی کی ترسیل کے کئی اَدوار پر پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اُنہوں نے لاؤڈ اِسپیکر کے بغیر شادی بیاہ کی محفلوں میں گایا؛ اُن کی آواز گراموفون کی تھالیوں پر محفوظ ہوئی؛ آل اِنڈیا ریڈیو لاہور سے اُن کی کافیاں، غزلیں، نعتیں اور کلامِ حالی نشر ہوا؛ اور اُن کے گائے ہوئے ایک ملتانی گیت ”دِل تانگھ تانگھے“ کے بول اور دُھن، قیصر ملک کی فلم ”دِھیاں نِمانیاں“ کے ذریعے، کئی دہائیوں بعد سینما کے پردے تک بھی پہنچے۔
ملتان کی ادبی اور ثقافتی تاریخ لکھنے والے، چاہ کر بھی، بَدْرُو مُلتانی کے ذکر سے پہلو تہی نہیں کر پائے۔ اور کچھ ہو نہ ہو، حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے تذکرے کے ساتھ اُن کا ذکر بھی کسی نہ کسی صورت اور کسی نہ کسی حیلے بہانے سے ضرور اُمڈ آتا ہے۔
بَدْرُو مُلتانی صاحبِ اولاد نہ تھیں، لیکن صاحبِ درد ضرور تھیں۔ اُن کا گایا ہوا گیت:
”دِل تانگھ تانگھے، اللہ جوڑے سَانگھے…
سَجّناں دا مِلنڑاں مُشکل تے مَہانگھے…“
ہڈیوں میں سرایت کرجانے والے سوز و گداز کی وجہ سے آج بھی سُننے والوں پر سحر طاری کردیتا ہے۔ ایسا گمان ہوتا ہے جیسے اِس گیت کے بولوں میں وہ جس ہستی سے اپنا سَانگا—یعنی رشتہ—جُڑنے اور اُس سے ملاقات و ملاپ کو مشکل اور مہنگا قرار دے رہی ہیں، اور جس کے انتظار میں اپنے دِل کی بے قراری کا احوال سُنا رہی ہیں، وہ ہستی شاید اُن کے رُوحانی مُربّی حضرت خواجہ غلام فریدؒ ہی کی تھی۔
اہلِ دل کہتے ہیں کہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے ذکر کے ساتھ بَدْرُو ملتانی کا ذکر آنا اِس اَمر کی طرف اشارہ ہے کہ بَدْرُو کی پکار مالکِ لَمْ یَزَلْ وَلَا یَزَالُ نے سُن لی اور اُن کا سَانگا واقعی حضرت خواجہ غلام فریدؒ سے ٹھیک ٹھاک جُڑ چکا ہے۔
اور اہلِ دل سے یہ بھی سُنا ہے کہ جن کا سَانگا اہلِ اللہ سے جُڑ جائے، اُن کا معاملہ سَہل ہی رہتا ہے۔
خود حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے بھی تو اپنے کلام میں یہی فرمایا ہے:
”کَیں پایا ۔۔باجھ فقیراں
جذبۂ عشق دی لذّت کو“
(عشق کے جذبے کی لذّت کو ، فقیروں کے سوا کون پا سکا ہے)
تحریر: سعید احمد شیخ ، ڈی جی ریڈیو پاکستان