ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) کی اوور سائٹ اینڈ انٹر پروونشل کوآرڈینیشن (IPC) کمیٹی کا تیسرا اجلاس ورکرز ویلفیئر فنڈ، اسلام آباد کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین کمیٹی فرخ شہزاد نے کی۔
اجلاس میں جوائنٹ سیکرٹری عذرا جمالی، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ ذوالفقار احمد، سیکرٹری لیبر اینڈ ہیومین ریسورس ڈیپارٹمنٹ پنجاب دانش افضل ، سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ بلوچستان صالح محمد نصر، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ بلوچستان، سیکرٹری لیبر ڈیپاٹمنٹ خیبر پختونخوا کیپٹن ریٹائرڈ میاں عادل اقبال، شیخ محسن الیاس،زاہد حسین بھٹو اور پیر محمد کاکڑ سمیت کمیٹی کے دیگر معزز اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق ورکرز ویلفیئر فنڈ کے زیرِ کفالت بچوں کے لیے کتب، یونیفارم، اسٹیشنری، ٹرانسپورٹ اور وظیفہ (Stipend) کی مونیٹائزیشن اور مالی معاونت میں اضافے کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مختلف صوبوں کے ورکرز ویلفیئر بورڈز اور متعلقہ اداروں کی سفارشات پر غور کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جہاں ضرورت اور جواز موجود ہو، وہاں ان سہولیات اور مالی معاونت میں مناسب اضافہ کیا جائے تاکہ صنعتی مزدوروں کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں مزدوروں اور ان کے بچوں کی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن سے ملک بھر کے صنعتی مزدوروں کے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔ شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تعلیمی اسکیموں کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی، چوہدری سالک حسین کے اس وژن پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی کہ رواں سال صنعتی مزدوروں کے ایک لاکھ بچوں کو معیاری اسکولوں میں داخل کیا جائے۔
کمیٹی کے تمام اراکین نے اس وژن کو نہایت قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں ایک جامع اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کیا جائے گا تاکہ وفاقی وزیر کے اس قومی وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ مزدور خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی سہولت میسر آسکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ گورننگ باڈی کے اجلاس سے قبل تمام متعلقہ تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کرتے ہوئے ٹھوس، قابلِ عمل اور متفقہ سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی، تاکہ انہیں گورننگ باڈی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔
کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام فیصلے عملی ضروریات، مالی استعداد اور مزدوروں کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیے جائیں گے، تاکہ منظوری کے بعد ان پر موثر اور بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین کمیٹی فرخ شہزاد نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون سے مزدوروں کے بچوں کی تعلیمی و فلاحی سہولیات میں مزید بہتری لائی جائے گی اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے مزدوروں کے ایک لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخلے کے خواب کو ہر صورت میں تمام وسائل بروئے کار لا کر پورا کیا جائے گا۔