آزاد جموں و کشمیر کے عوام نے کالعدم ایکشن کمیٹی کی غیرقانونی اور انتشاری سرگرمیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غریب اور متوسط طبقے کے معاشی نقصان کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
مقامی شہریوں کے مطابق اس گروہ کی سرگرمیوں کے باعث خطے میں کاروباری ماحول بری طرح متاثر ہوا ہے، جبکہ چھوٹے تاجروں اور دیہاڑی دار مزدور طبقے کا روزگار بھی خطرات سے دوچار ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے گمراہ کن بیانیے کو تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں اور شہری اس کے پیدا کردہ انتشار سے تنگ آ چکے ہیں۔
شہریوں نے کہا کہ ایسے اقدامات جن سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوں، کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق پرامن عوام ترقی اور استحکام کے خواہاں ہیں اور کسی بھی انتشار پسند ایجنڈے کی حمایت نہیں کرتے۔
مقامی لوگوں نے تاجروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے عناصر کے دبا میں آئے بغیر اپنی کاروباری سرگرمیاں بحال رکھیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے متعدد مطالبات پورے کیے جانے کے باوجود گروہ کی جانب سے انتشار پھیلانے کی کوششیں جاری ہیں، جو قابل افسوس ہے۔
ماہرین کے مطابق عوام کی جانب سے اس گروہ کو مسترد کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ لوگ اس کے عوام دشمن عزائم کو پہچان چکے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی ایسے عناصر کی سرگرمیوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔