وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مقصد برآمدات پر مبنی، پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کا حصول ہے۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں اگلے مالی سال کے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ اس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکومت نے ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور مستحکم کرنے پر توجہ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس نظام میں مساوات اور شفافیت کے فروغ کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس حوالے سے انہوں نے تنخواہ دار طبقے، چھوٹے کاروباراور برآمدی اور تعمیراتی شعبے کو دیے گئے ٹیکس ریلیف کا بھی ذکر کیا۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ میں برآمدات اور زرعی شعبے کے لیے رعایتی مالی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹیلرز کو ایک سادہ ٹیکس نظام کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ زرخیزسکیم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت چھوٹے کسانوں کو بغیر سود اور بغیر ضمانت کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم سے سات لاکھ پچاس ہزار کسان مستفید ہوں گے اور اس کیلئے تین سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی استحکام کے بعد عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ بجٹ میں پورا کیا گیا ہے۔
انہوں نے معاشی اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے کی صنعت میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ 4.25 ارب ڈالر ترسیلات زر موصول ہوئیں اور توقع ہے کہ مالی سال کے دوران یہ 41 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے، خاص طور پر ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچیں گی جو ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔