وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بنیادی مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے، قرضوں میں کمی اور سماجی اخراجات کا تحفظ کرتے ہوئے معاشی نمو کے لیے مؤثر ٹیکس اصلاحات آگے بڑھانے سے متعلق پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازعور سے ملاقات کے دوران کہی۔
فریقین نے محصولات، مہنگائی، معاشی نمو اور حساباتِ جاریہ کی صورتِ حال میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور علاقائی تنازع کے باوجود پاکستان کے معاشی استحکام کو سراہا۔
انہوں نے توانائی مصنوعات کی خریداری اور موسمِ سرما کی تیاریوں کے اقدامات کرنے کے علاوہ غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے کھاد کی مناسب فراہمی پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
وزیرِ خزانہ نے بینکاک میں اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایڈمنسٹریٹر اور اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر ڈی کرو سے بھی ملاقات کی۔
محمد اورنگزیب نے عمل درآمد کی صلاحیت مستحکم کرنے کے لیے دستیاب مالی وسائل اور پالیسی طریقۂ کار کو منافع بخش منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا۔
ادھر، وزیرِ خزانہ نے بینکاک میں ابوظبہبی کمرشل بینک اور شارجہ اسلامک بینک کے وفود سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کی معاشی صورتِ حال، مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا۔