سندھ کا آئندہ مالی سال کا تین ہزار پانچ سو باسٹھ ارب روپے کا بجٹ آج پیش کردیا گیا۔
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔
انہوں نے تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے اور 2022 اور 2025 کے ایڈہاک الاؤنسز کو سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز دی۔
وزیراعلیٰ نے مزدور کی کم از کم اجرت چالیس ہزار روپے سے بڑھا کر تینتالیس ہزار روپے ماہانہ کرنے کا اعلان کیا۔
تعلیم کے شعبے کے لیے چھ سو بیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اٹھارہ ارب روپے کی لاگت سے دو لاکھ پچھتہر ہزار گھرانوں میں مفت سولر سسٹم تقسیم کیے جائیں گے۔
دریں اثنا ، بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا ایک ہزار نواسی ارب روپے کا بجٹ آج اسمبلی میں پیش کیا گیا۔
صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے سات سو ستانوے ارب روپے جبکہ ترقیاتی اخراجات کے لیے دوسوچھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے فراہم کئے گئے فنڈز سے متعلق منصوبوں کیلئے پینتالیس ارب روپے جبکہ غیر ملکی منصوبوں کی معاونت کیلئے چالیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ تعلیمی شعبے کے سکولز سیکشن کے لیے 127 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔