۱۸۰۹ء کے سال کی سَردیوں کا مَوسم تھا کہ جِہلم (موجودہ ضلع چکوال) کے کَٹاس راج مَندروں کے قریب واقِع ’کَہان‘ نامی گاؤں سے مِشَر دِیوان چَند نامی ایک بَرَہمَن اپنے بیٹوں بیلی رام، رُوپ لال، رام کِشَن، میگھراج، سُکھراج، خاندان کی عَورتوں اور مال و اَسباب کے ہَمراہ عَرابوں (دو بَیلوں سے کھینچے جانے والے چھکڑوں) پر لاہورنقل مکانی کی غرض سے عازمِ سَفَر ہوا۔
مِشَر دِیوان چَند کا خاندان اُن سیکڑوں بَرَہمَن خاندانوں میں شامِل تھا جو مُختَلِف اَدوار میں کَٹاس راج کے سات مَندروں، مُقَدَّس تالاب، غاروں، سَمادھیوں، حَویلیوں اور بُدھ مَت کی قَدیم یادگار (سٹوپا)کے اَطراف میں آن آباد ہوئے تھے۔
آنکھوں میں بَہتر مُستَقبِل کے خواب سَجائے لاہور کیلئے عازم سفر مِشَر دِیوان چَند کا مَقصَد وہاں مُستَقِل اِقامَت اِختیار کرکے مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ کی رِیاست میں اپنے اور اپنے بیٹوں کے لیے بَہتر روزگار تَلاش کرنا تھا۔
کَٹاس راج مَندروں کے گِرد آباد ایک بَرَہمَن خاندان کے لیے اپنے آبائی عِلاقے اور اس مُقَدَّس مَقام کو چھوڑ کر پورے خاندان سَمیت لاہور مُنتَقِل ہونے کا فَیصلہ یَقیناً غیر مَعمولی تھا۔ قَرینِ قِیاس یہی ہے کہ اِس عِلاقے میں دَستیاب وَسائل اور آمدَن اُس کے بڑھتے ہوئے خاندان کی ضَروریات پوری کرنے کیلئے کافی نہیں رہے تھے، جَبکہ لاہور میں اُبھرتی ہوئی سِکھ رِیاست روزگار اور تَرَقّی کے کہیں زیادہ مَواقِع پیش کررہی تھی۔
لاہور اُس زَمانے میں مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ کی تیزی سے اُبھرتی ہوئی سِکھ سَلطَنَت کا دارُالحُکومت تھا۔ پَنجاب کے مُختَلِف عِلاقوں سے لوگ روزگار، تِجارَت اور دَربار میں مُلازَمَت کے اِمکانات کے باعِث اِس شَہر کا رُخ کررہے تھے۔
دِیوان چَند کے لیے لاہور بِالکُل اَجنَبی شَہر بھی نہیں تھا۔ اُس کے اپنے خاندان کا ایک بُزُرگ مِشَر بَستی رام پہلے ہی سکھ ریاست کے خَزانے کے محکمے سے وابَستہ تھا۔ وہ رَنجیت سِنگھ کا خَزانچی اور قابل اعتماد درباری تھا۔ ایک تاریخی ماخَذ میں یہ بھی لکھا ملتا ہے کہ مشر بَستی رام ، رشتے میں مشر دِیوان چَند کا چَچا لگتا تھا۔
کُچھ تاریخی ماخَذ دِیوان چَند کے اِس خاندان کا تَعَلُّق ’کَہان‘ کے بَجائے ضِلع جِہلم کے ایک دُوسرے گاؤں ’دَلوال‘ سے بھی جوڑتے ہیں۔
“مِشَر” بھی اِس خاندان کے اَفراد کے ناموں کے ساتھ بَطَور لَقَب اِستِعمال ہوتا تھا۔ یہ ہِندوستان میں بَرَہمَنوں کے ہاں اِستِعمال ہونے والا ایک قَدیم اِعزازی لَقَب تھا۔ اِسی لیے اِس خاندان کے اَفراد کے نام تاریخی کِتابوں میں مِشَر بَستی رام، مِشَر دِیوان چَند، مِشَر بیلی رام، مِشَر رُوپ لال، مشر سُکھراج اور مِشَر میگھراج وَغَیرہ کی صُورت میں مِلتے ہیں۔
دِیوان چَند کے بیٹوں میں بیلی رام اُس وَقت صِرف گیارہ بَرس کا تھا۔ لاہور پَہنچنے کے بَعد مِشَر بَستی رام نے اُسے اپنے ماتَحت ، خَزانے کے دفتر میں کام پر لَگا لیا۔ بیلی رام نے کم عمری میں حِساب کِتاب اور شاہی اَملاک کی نِگرانی کا کام سیکھنا شُروع کیا؛ وہ بلحاظ عہدہ بَستی رام کا مُعاوِن تھا۔
بیلی رام کو بَستی رام کے ماتَحت کام کرتے تَقریباً سات بَرس گُزرے تھے کہ ۱۸۱۶ء میں مِشَر بَستی رام کا اِنتِقال ہوگیا۔ اُس وَقت بیلی رام کی عُمر صِرف اُنّیس بَرس تھی۔
راجہ دِھیان سِنگھ کی مُخالَفَت کے باوُجود مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ نے بیلی رام پر اِعتِماد کیا اور اُسے بَستی رام کی جَگہ توشَہ خانے کا سَربَراہ مُقَرَّر کردیا۔ بَعد کے زَمانے میں اُس کے پاس شاہی لِباس، جَواہِرات، قِیمتی اَشیا اور رِیاستی توشَہ خانے کی دُوسری نادِر اَشیا کی نِگرانی بھی تھی۔
راجہ دھیان سنگھ ڈوگرہ، مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد کا نہایت طاقت ور درباری اور جموں کے ڈوگرہ خاندان کا اہم ترین فرد تھا۔ وہ گلاب سنگھ اور سُچیت سنگھ کا بھائی تھا اور رنجیت سنگھ اسے اپنا معتمد خاص سمجھتا تھا ۔ دھیان سنگھ کی مخالفت کے باوجود بیلی رام کا شاہی خزانچی مقرر کیا جانا اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کم عمر برہمن اپنی عادات و اطوار کی وجہ سے بہت پہلے ہی سے مہاراجہ کا دل اور اعتماد جیت چُکا تھا ۔
دِیوان چَند کے دُوسرے بیٹے بھی رَفتہ رَفتہ سِکھ سَرکار میں اَہَم عُہدوں تک پَہنچ گئے۔ رُوپ لال جالَندھر دُوآب کا ناظِم بنا، رام کِشَن مَہاراجہ کی ذاتی خِدمَت اور دَرباری اِنتِظام سے وابَستہ ہوا، جَبکہ سَب سے چھوٹے بھائی سُکھ راج نے فَوج میں مُلازَمَت اِختیار کی۔ یُوں چَند ہی بَرسوں میں جِہلم کے عِلاقے سے لاہور آنے والا یہ بَرَہمَن خاندان سِکھ دَربار کے بااَثَر خاندانوں میں شُمار ہونے لگا۔
اِن پانچ بھائیوں میں ایک مِشَر میگھراج بھی تھا۔ اُسے لاہور کے شاہی توشَہ خانے کے بَجائے اَمرتسَر کے قِلعہ گوبِند گَڑھ کے خَزانے کی نِگرانی سَونپی گئی۔ تاریخی ماخَذ اُسے باقاعدہ گوبِند گَڑھ کے شاہی خَزانے کا نِگران قَرار دیتے ہیں۔
یُوں ایک بھائی، مِشَر بیلی رام، لاہور کے شاہی توشَہ خانے کا سَربَراہ تھا اور دُوسرا، مِشَر میگھراج، اَمرتسَر کے قِلعہ گوبِند گَڑھ کے خَزانے کی نِگرانی پر معمور ہوا۔
مِشَر بیلی رام کی عُمر ابھی چودہ پندرہ بَرس کی تھی جب مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ کے شاہی توشَہ خانے میں “کوہِ نُور” نامی ہیرا داخِل ہوا۔
بیلی رام کو اپنی کَم عُمری کے سَبب اَندازہ ہی نہیں تھا کہ توشَہ خانے میں آنے والا یہ ہیرا کِس قَدر قِیمتی، ناموَر اور پورے ہندوستان میں شُہرت کا حامِل ہے۔ وَیسے بھی وہ چُونکہ مِشَر بَستی رام کا مُعاوِن تھا، تو اُسے شاہی خَزانے میں داخِل ہونے والی کِسی بھی چیز کی ٹوہ لگانے کی ضَرورت بھی نہیں تھی۔ اَصل ذِمّہ داری بَستی رام کی تھی، جِسے وہ بَخُوبی سَرانجام دے رہا تھا۔
کوہِ نُور ہیرا رَنجیت سِنگھ نے اَفغانستان کے مَعزول بادشاہ شاہ شُجاع دُرّانی سے لیا تھا۔ یہ اَحمد شاہ اَبدالی کا پوتا اور تَیمور شاہ کا بیٹا تھا؛ اُس نے بھی یہ ہیرا اپنے بھائیوں، بالخصوص زَمان شاہ اور مَحمود شاہ کے ساتھ ہونے والی خُون ریز خانہ جَنگی کے بعد حاصِل کیا تھا۔
اِبتدا میں تَیمور شاہ کے تَختِ کابُل پر زَمان شاہ بیٹھا تھا اور کوہِ نُور بھی اُس کے قَبضے میں آیا۔ مَگر اُس کے بھائی مَحمود شاہ نے لَشکر کَشی کے بعد اُسے شِکست دے کر گِرفتار کیا، اُسے اَندھا کروایا اور کابُل کے بالاحِصار میں قَید کردیا۔
لیکن زَمان شاہ نے گِرفتار ہونے سے پہلے یا قَید کے دَوران کوہِ نُور اپنے بھائی کے ہاتھ نہیں لگنے دیا۔ قَید خانے کے وَفادار مُحافِظ کی مَدد سے اُس نے ہیرا اپنی کوٹھڑی کی دِیوار کے پَلستر کے پیچھے چُھپا دیا۔ مَحمود شاہ نے تَخت تو حاصِل کرلیا، مَگر کوہِ نُور اُس کے ہاتھ نہ آسکا۔
اَفغانستان کی اِس خانہ جَنگی کے اَگلے مَرحلے میں ۱۸۰۳ء میں تیسرے بھائی شاہ شُجاع نے مَحمود شاہ کو شِکست دے کر اِقتدار حاصِل کرلیا۔ شاہ شُجاع نے اپنے نابِینا بھائی زَمان شاہ کو قَید سے آزاد کیا۔
زَمان شاہ نے قَید سے رِہائی کے اِس اِحسان کے صِلے میں دِیوار کے اَندر چُھپائے گئے کوہِ نُور کا راز اپنے بھائی کو بتادیا اور ہیرا بالآخِر شاہ شُجاع کے قَبضے میں آگیا۔
شاہ شجاع یا اسُ کے بھائیوں سے پہلے یہ ہیرا اُن کے باپ تیمور شاہ اور دادا احمد شاہ ابدالی کے پاس رہا تھا۔ اس سے پہلے یہ ایرانی افشار خاندان کے پاس تھا جو نادر شاہ افشار نے ۱۷۳۹ء میں ہندوستان کے مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کو شکست دیگر بطور مال غنیمت اس سے لیا تھا۔ مغلوں کے پاس یہ ہندوستانی علاقے گولکنڈہ سے بطور تحفہ یا جنگی غنیم کے طور پر آیا تھا۔
گولکنڈہ بنیادی طور پر ہیروں کی منڈی، تراش گاہ اور بین الاقوامی تجارتی مرکز تھا۔ ہیرے زیادہ تر موجودہ بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں دریائے کرشنا کی وادی کے کان کنی علاقوں سے آتے تھے۔یہاں کی کولّور، پریتالہ اور گوداوری کی کانیں زیادہ مشہور تھیں ۔کوہِ نور کو عموماً گولکنڈہ کی کولّور کان سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن اس کی اصل کان قطعی طور پر ثابت نہیں۔
شاہ شُجاع نے ۱۸۱۳ء میں کوہِ نُور بہت مَجبوری اور بے بسی کے عالَم میں رَنجیت سِنگھ کے حَوالے کیا تھا؛ اَفغانستان کا تَخت ہاتھ سے نِکلنے کے بعد اُس نے اِقتدار دوبارہ حاصِل کرنے کی کئی کوششیں کیں، لیکن حالات اُس کے حَق میں نہ رہے۔ اِسی دَوران وہ کَشمیر پہنچا، جہاں کَشمیر کے حاکِم عَطا مُحَمَّد خان نے اُسے گِرفتار کرکے قَید کردیا۔
شاہ شُجاع کی بیوی وَفا بیگم اُس وقت پَنجاب میں تھی۔ اپنے شَوہر کی قَید کی خَبر مِلنے پر اُس نے مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ سے مَدد مانگی اور وَعدہ کیا کہ اگر شاہ شُجاع کو کَشمیر کی قَید سے آزاد کراکے بَحفاظت لاہور پہنچا دیا جائے تو اِس کے عِوض کوہِ نُور رَنجیت سِنگھ کے حَوالے کردیا جائے گا۔
رَنجیت سِنگھ نے اِس پیش کش کو قَبول کرلیا اور سِکھ فَوج کَشمیر کی مُہم میں شامِل ہوئی۔ دِیوان مُحکَم چَند شاہ شُجاع کو کَشمیر سے نِکال کر مارچ ۱۸۱۳ء میں لاہور لے آیا۔
شاہ شُجاع لاہور تو پہنچ گیا لیکن اِس بیش قِیمت ہیرے سے اِتنی آسانی سے دَست بَردار ہونے کے لیے آمادہ نہ ہوا۔ وہ ہیرے کی حَوالگی میں ٹال مٹول کرنے لگا ؛ کبھی کہتا کہ کوہِ نُور قَندھار میں ایک صَرّاف کے پاس رَہن رکھا جاچکا ہے اور کبھی کوئی دوسری وجہ بیان کردیتا ۔ دوسری طرف رَنجیت سِنگھ کا اِصرار تھا کہ شاہ شُجاع کو کَشمیر سے نِکالنے سے پہلے کیا گیا وَعدہ پورا کیا جائے۔
اَب دونوں طَرف سے بات چیت اور وَعدے وعید شروع ہوئے۔ رَنجیت سِنگھ کوہِ نُور چاہتا تھا اور شاہ شُجاع اپنی اور اپنے خاندان کی آئندہ زِندگی اور سِیاسی مُستَقبِل کے لیے ضمانتیں چاہتا تھا۔ ہیرے کے عِوض نَقد رَقم اور جاگیر کی بات بھی ہوئی۔ اَنگریز نُمائندے سَر ڈیوڈ اوکٹرلونی کی ۲۳ اپریل ۱۸۱۳ء کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ مُذاکرات کے ایک مَرحلے پر دو لاکھ روپے نَقد اور پَچاس ہزار روپے کی جاگیر کی پیش کش زیرِ بحث تھی۔ (بحوالہ : “کوہ نور:دی ہسٹری آف ورلڈ موسٹ ان فیمس ڈائمنڈ” ، ص: ۹۵)
شاہ شُجاع یہ بھی چاہتا تھا کہ رَنجیت سِنگھ اُس کے تَحَفُّظ کی ضمانت دے اور اَفغانستان کا تَخت دوبارہ حاصِل کرنے کی کوشش میں اُس کی مَدد کرے۔
مُذاکرات طُول پکڑتے گئے تو رَنجیت سِنگھ نے دَباؤ بڑھانا شروع کردیا۔ شاہ شُجاع کی رہائش کے گِرد سِکھ فَوجیوں کا پَہرہ بِٹھا دیا گیا، آنے جانے والوں کی نِگرانی اور تلاشی ہونے لگی اور بعض روایات کے مُطابق خوراک کی رَسَد تک محدود کردی گئی۔
شاہ شُجاع کو یہ خَطرہ بھی دِکھائی دینے لگا کہ اگر اُس نے مزید اِنکار کیا تو اُسے اَمرتسَر کے قِلعہ گوبِند گَڑھ میں قَید کیا جاسکتا ہے۔ یُوں ایک طرف وہ اپنا تَخت اور مُلک پہلے ہی کھو چکا تھا، دوسری طرف لاہور میں اُس کی آزادی بھی محدود ہوتی جارہی تھی اور تیسری طرف اُس کے پاس موجود کوہِ نُور ہی وہ چیز تھی جس کے ذریعے وہ اپنے اور اپنے خاندان کے مُستَقبِل کے لیے کچھ شَرائط مَنوا سکتا تھا۔
تقریباً دو ماہ کی اِس کَشَمکَش کے بعد شاہ شُجاع کوہِ نُور دینے پر آمادہ ہوگیا، لیکن اُس نے بھی اپنی شَرائط رکھیں۔ وہ اپنے لیے تَحَفُّظ اور دوستی کی پُختہ یقین دہانی چاہتا تھا اور یہ وَعدہ بھی کہ اُسے اَفغانستان کا تَخت دوبارہ حاصِل کرنے میں مَدد دی جائے گی۔ بعض پُرانے تاریخی بیانات میں اِس موقع پر تحریری یقین دہانی، اُس کے گُزارے کے لیے جاگیر اور کابل میں دوبارہ اِقتدار حاصِل کرنے میں مَدد کے وَعدے کا ذِکر بھی مِلتا ہے۔
بالآخِر یکم جون ۱۸۱۳ء کا دن مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ اپنے چَند خاص دَرباریوں کے ہَمراہ لاہور کی مُبارَک حَویلی پہنچا۔ شاہ شُجاع نے اُس کا اِستِقبال کیا اور دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ لیکن کوہِ نُور سامنے نہیں آیا۔ کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ ایک طرف پَنجاب کا طاقت وَر مَہاراجہ تھا اور دوسری طرف اَفغانستان کا بے تَخت بادشاہ، جو جانتا تھا کہ اُس کے پاس موجود یہ ہیرا اب اُس کی آخری بڑی سودے بازیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
تقریباً ایک گھنٹہ اِسی خاموشی میں گُزر گیا۔ بالآخِر رَنجیت سِنگھ کی طرف سے شاہ شُجاع کو ملاقات کا مَقصَد یاد دِلایا گیا۔ شاہ شُجاع نے جواب میں اپنے ایک خادِم کو اِشارہ کیا۔ خادِم اندر گیا اور کچھ دیر بعد کپڑے میں لِپٹی ہوئی ایک چھوٹی سی پوٹلی لے کر واپس آیا۔ اُس نے وہ پوٹلی دونوں حُکمرانوں کے درمیان رکھ دی۔ کپڑا کھولا گیا تو اَندر کوہِ نُور تھا۔
کئی بَرس تک اَفغان بادشاہوں کی مِلکیت رہنے والا یہ ہیرا اب شاہ شُجاع کے ہاتھ سے نِکل کر مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ کے ہاتھ میں آچکا تھا۔ مگر رَنجیت سِنگھ کے سامنے اب ایک نیا سوال تھا: کیا شاہ شُجاع نے واقعی اصلی کوہِ نُور ہی اُس کے حَوالے کیا تھا؟
رَنجیت سِنگھ نے محض شاہ شُجاع کے کہنے پر یہ یقین نہیں کرلیا کہ کپڑے کی پوٹلی سے نِکلنے والا ہیرا واقعی کوہِ نُور ہی ہے۔ برسوں سے اِس ہیرے کے چرچے سُننے اور اِسے حاصِل کرنے کے لیے اِتنی کوشش کرنے کے بعد وہ کسی دھوکے کا خَطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ چُنانچہ ہیرے کو لاہور کے ماہر جَوہریوں کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ وہ اِس کی اصلیت کی جانچ کریں۔
جَوہریوں نے ہیرے کو دیکھا اور پَرکھا۔ جب اِس اَمر کی تَصدیق ہوگئی کہ شاہ شُجاع نے کوئی دوسرا پتھر نہیں بلکہ واقعی کوہِ نُور ہی حَوالے کیا ہے تو رَنجیت سِنگھ کو اِطمینان ہوا۔
کوہِ نُور، رَنجیت سِنگھ کے خاندان میں کیا آیا، گویا ایک مُصیبت بھی ساتھ ہی آگئی۔ اِتنی قِیمتی چیز حاصِل کرنا ایک بات تھی، لیکن اُسے ہر وَقت مَحفوظ رکھنا ایک بڑی ذِمّہ داری اور بوجھ تھا۔ اب اُسے چُھپانا پڑتا تھا، اُس کی اِضافی نِگرانی کرنا پڑتی تھی اور یہ بھی سوچنا پڑتا تھا کہ مَہاراجہ اُسے پہنے تو کِس طرح پہنے اور نہ پہنے تو کہاں رکھا جائے؟
۱۸۱۶ء میں مِشَر بَستی رام کے اِنتقال کے بعد جب مِشَر بیلی رام صرف اُنیس بَرس کی عُمر میں سِکھ رِیاست کے شاہی توشَہ خانے کا سربراہ مُقَرَّر ہوا تو کوہِ نُور کی حِفاظت بھی اُس کی اہم ذِمّہ داریوں میں شامِل ہوگئی۔ بیلی رام اِس ہیرے کی لاہور آمد کے وَقت خود توشَہ خانے میں اپنے بزرگ بَستی رام کے ماتَحت کام کررہا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے تھے۔ جِس ہیرے کو اُس نے ایک کم عُمر مُعاوِن کی حَیثیت سے توشَہ خانے میں آتے دیکھا تھا، اب اُس کی حِفاظت کا بوجھ خود اُس کے کَندھوں پر آگیا تھا۔
پہلے مَرحلے میں سِکھ رِیاست کے وَفادار ترین دَرباریوں کی طرف سے بیلی رام کو اِس نادِر ہیرے کی اَہمیت، اِس کے حُصول کی پوری داستان سے آگاہ کیا گیا تاکہ اُس کے حُصول کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اُسے کَماحَقُّہٗ اَندازہ ہوسکے۔ دوسرے مَرحلے میں اُسے یہ باوَر کروایا گیا کہ اِس نادِر شے کی حِفاظت عام شاہی جَواہِرات کی طرح نہیں ہوسکتی؛ اِس کے لیے اُسے ہر وَقت کچھ اِضافی جَتن کرنا ہوں گے۔
شاہ شُجاع کے پاس یہ ہیرا بازُوبَند کی صُورت میں تھا اور رَنجیت سِنگھ نے بھی اِبتدا میں اُسے اِسی طرح اپنے بازو پر پہننا شروع کیا۔ مَہاراجہ کوہِ نُور کو ہر وَقت نہیں پہنتا تھا؛ بڑے دَرباروں، دِیوالی، دَسہرہ اور دوسری خاص تقریبات کے مَوقع پر ہی اُسے بازو پر باندھ کر لوگوں کے سامنے آتا تھا۔ خاص طور پر اہم مہمانوں اور اَنگریز اَفسروں کی آمد پر بھی یہ ہیرا دِکھایا جاتا تھا۔
تقریباً پانچ بَرس بعد کوہِ نُور کو بازُوبَند سے نِکال کر سَرپیش میں جَڑ دیا گیا۔ سَرپیش پَگڑی کے سامنے لگایا جانے والا شاہی زیور تھا۔ کوہِ نُور کے ساتھ تقریباً ایک تولہ وَزن کا ایک اور لٹکتا ہوا ہیرا بھی لگایا گیا۔ یُوں کچھ عَرصے تک کوہِ نُور رَنجیت سِنگھ کی پَگڑی کی زینت بنا رہا۔
لیکن یہ اِنتظام بھی زیادہ عَرصہ قائم نہ رہا۔ تقریباً ایک بَرس بعد کوہِ نُور کو پَگڑی سے نِکال کر مَہاراجہ کے گھوڑے کے ساز کے ایک حِصّے میں جَڑ دیا گیا۔ بعد میں اُسے وہاں سے بھی نِکال لیا گیا اور ایک مرتبہ پھر بازُوبَند میں جَڑ دیا گیا۔ اِس مرتبہ کوہِ نُور کے دونوں طرف ایک ایک دوسرا ہیرا لگایا گیا، جو کوہِ نُور سے نسبتاً چھوٹے تھے۔ یہی وہ صُورت تھی جس میں کوہِ نُور اگلے تقریباً بیس بَرس تک رہا، اور اَنگریزوں کے قبضے میں جانے کے وَقت بھی ہیرا اِسی بازُوبَند میں جَڑا ہوا تھا۔
مَگر اَصل مَسئلہ اُس وَقت پیدا ہوتا تھا جب مَہاراجہ کوہِ نُور پہنے ہوئے نہ ہوتا۔ رَنجیت سِنگھ کو اِس ہیرے کے چوری ہوجانے کا اِس قَدر اَندیشہ رہتا تھا کہ جب کوہِ نُور اِستِعمال میں نہ ہوتا تو اُسے عام جَواہِرات کے ساتھ رکھنے کے بجائے اَمرتسَر کے مضبوط قِلعہ گوبِند گَڑھ کے شاہی خَزانے میں سخت پَہرے میں رکھا جاتا تھا۔
قِلعہ گوبِند گَڑھ کے خَزانے کی نِگرانی مِشَر بیلی رام کے چھوٹے بھائی مِشَر میگھ راج کے سُپرد تھی۔ لاہور عجائب گھر کے قدیم فہرست نامے میں بھی میگھ راج کو رَنجیت سِنگھ کی ملازمت میں گوبِند گَڑھ کے خزانچی کی حیثیت سے درج کیا گیا ہے۔ گویا لاہور میں شاہی توشَہ خانے کا سربراہ مِشَر بیلی رام تھا اور اَمرتسَر میں اُس قِلعے کے خَزانے کی نِگرانی اُس کا بھائی میگھ راج کررہا تھا جہاں کوہِ نُور کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔
لیکن مَہاراجہ جب لاہور یا اَمرتسَر سے باہر جاتا تو مَسئلہ اور بھی پَیچیدہ ہوجاتا۔ رَنجیت سِنگھ کوہِ نُور کو اپنے پیچھے چھوڑنے کے بجائے عموماً ساتھ لے جاتا تھا۔ مُلتان، پِشاور اور دوسری مُہمّات اور اَسفار میں بھی یہ ہیرا اُس کے ساتھ جاتا رہا۔ اب بیلی رام کے سامنے سوال یہ تھا کہ راستے میں کسی کو معلوم ہی نہ ہونے دیا جائے کہ اتنی قِیمتی چیز آخر ہے کہاں۔
اِس کے لیے ایک نہایت دِلچسپ طریقہ اختیار کیا گیا۔ کوہِ نُور کو ایک بڑے صندوق میں بند کرکے اُونٹ پر لادا جاتا، لیکن قافلے میں دوسرے اُونٹوں پر بھی ویسے ہی صندوق اور سامان موجود ہوتے۔ جدید تحقیق میں چالیس ایک جیسے اُونٹوں کے اِس اِنتظام کا ذِکر ملتا ہے، جبکہ ایک پُرانی روایت پورے شاہی قافلے میں عموماً تقریباً سو اُونٹ بتاتی ہے۔ راز یہ تھا کہ کوہِ نُور حقیقت میں کِس اُونٹ پر ہے۔ یہ بات انتہائی محدود لوگوں کو معلوم ہوتی اور بعد کے زمانے میں اِس راز کا اَصل اَمین خود مِشَر بیلی رام تھا۔
حِفاظت کا طریقہ بھی کمال کا تھا۔ ہیرا عموماً قافلے کے اَگلے اُونٹ پر، مُحافظوں کے فوراً پیچھے رکھا جاتا، مگر باہر سے تمام صندوق ایک جیسے نظر آتے۔ چنانچہ اگر کوئی قافلے پر حملہ بھی کردیتا تو اُس کے لیے یہ جاننا آسان نہیں تھا کہ کوہِ نُور کس صندوق میں ہے۔
رات کو قافلہ کہیں پڑاؤ ڈالتا تو حِفاظت کا ایک اور مَرحلہ شروع ہوجاتا۔ کوہِ نُور والا صندوق دو بالکل ویسے ہی صندوقوں کے درمیان رکھا جاتا اور تینوں مِشَر بیلی رام کے خیمے میں اُس کے بستر کے بالکل قریب ہوتے۔ اُس جگہ تک بیلی رام کے رِشتہ داروں اور انتہائی قابلِ اعتماد خادِموں کے سِوا کسی کو رسائی نہیں تھی۔ بعض بعد کی روایات میں یہاں تک آتا ہے کہ یہ صندوق رات کو بیلی رام کے بستر کے ساتھ باندھ یا زنجیر سے جکڑ دیے جاتے تھے۔
یُوں کوہِ نُور کی حِفاظت اب صرف شاہی توشَہ خانے کی ایک دَفتری ذِمّہ داری نہیں رہی تھی۔ سَفر میں ہیرا کِس اُونٹ پر ہے، رات کو کِس صندوق میں ہے اور اُس صندوق تک کون پہنچ سکتا ہے—اِن رازوں کا اَمین مِشَر بیلی رام بن چکا تھا۔
یہ ذِمّہ داری مِشَر بیلی رام تقریباً دو دَہائیوں تک نِبھاتا رہا۔ پھر ۱۸۳۹ء میں رَنجیت سِنگھ سخت بیمار ہوگیا۔ جون کے آخری دنوں میں جب اُس کی زِندگی کی اُمید کم ہونے لگی تو اُس کے جَواہِرات، گھوڑوں اور دوسری قِیمتی اَشیا کو مذہبی مقامات اور خَیرات میں دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔
اِسی دَوران مَہاراجہ کے مذہبی مُشیر بھائی گوبِند رام نے کوہِ نُور اُڑیسا کے جَگَن ناتھ پُوری مَندر کو دینے کی تجویز پیش کی۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق رَنجیت سِنگھ اُس وَقت بولنے کے قابل نہیں تھا اور اُس نے اِشارے سے اِس کی منظوری دی، تاہم اِس واقعے کی روایات میں اِختلاف پایا جاتا ہے۔
کوہِ نُور اُس وَقت مِشَر بیلی رام کی تحویل میں تھا۔ اُس سے ہیرا طلب کیا گیا تو اُس نے دینے سے اِنکار کردیا۔ بیلی رام کا مُؤقف تھا کہ کوہِ نُور مَہاراجہ کی ذاتی مِلکیت نہیں بلکہ رِیاست کی مِلکیت ہے، اِس لیے شاہی توشَہ خانے سے اِتنی قِیمتی چیز اِس طرح نہیں نکالی جاسکتی۔
۲۷جون ۱۸۳۹ء کو مَہاراجہ رَنجیت سِنگھ وَفات پاگیا، مگر کوہِ نُور جَگَن ناتھ پُوری نہ جاسکا۔ وہ لاہور کے شاہی خَزانے میں موجود رہا۔
رَنجیت سِنگھ کی وَفات کے بعد لاہور دَربار میں اِقتدار کی کَشَمَکَش شروع ہوگئی۔ پہلے اُس کا بیٹا کھڑک سِنگھ تَخت پر بیٹھا، لیکن جلد ہی اُس کے بیٹے نَونہال سِنگھ اور دَربار کے طاقت وَر ڈوگرہ وَزیر راجہ دِھیان سِنگھ نے اِقتدار کے بیشتر معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور کھڑک سِنگھ عَملاً بے اِختیار ہوگیا۔ اکتوبر ۱۸۳۹ء میں اُسے اِقتدار سے الگ کردیا گیا اور نَونہال سِنگھ عَملاً رِیاست کا حُکمران بن گیا۔
مِشَر بیلی رام پر اِلزام تھا کہ اُس نے کھڑک سِنگھ کے منظورِ نظر چیت سِنگھ کا ساتھ دیا تھا، چُنانچہ نَونہال سِنگھ نے اِسی رَنجش کے سبب جنوری ۱۸۴۰ء میں بیلی رام پر پانچ لاکھ روپے جُرمانہ عائد کیا اور اُسے اُس کے بھائیوں سمیت قَید میں ڈلوا دیا۔
۵نومبر ۱۸۴۰ء کو کھڑک سِنگھ کی وَفات ہوگئی۔ اِسی روز باپ کی آخری رُسومات سے واپس آتے ہوئے نَونہال سِنگھ، جب لاہور کے قِلعے کے دروازے کے نیچے سے گزر رہا تھا، تو پتھر اور ملبہ اُس پر آن گِرا۔ وہ شدید زَخمی ہوا اور بعد میں وَفات پاگیا۔
باپ اور بیٹے کی وَفات کے بعد لاہور کے تَخت کے لیے ایک نئی کَشَمَکَش شروع ہوئی اور بالآخِر جنوری ۱۸۴۱ء میں رَنجیت سِنگھ کا ایک اور بیٹا شیر سِنگھ مَہاراجہ بن گیا۔ شیر سِنگھ نے مِشَر خاندان کو دوبارہ اُن کے پُرانے عُہدوں پر بحال کردیا۔ بیلی رام پھر لاہور کے شاہی توشَہ خانے کا سربراہ بن گیا، جبکہ اُس کا چھوٹا بھائی مِشَر میگھ راج دوبارہ اَمرتسَر کے قِلعہ گوبِند گَڑھ کے خَزانے کا نِگران مُقَرَّر ہوا۔
لیکن لاہور میں خُون ریزی کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ ۱۵ ستمبر ۱۸۴۳ء کو سَندھانوالیہ سرداروں اَجیت سِنگھ اور لَہنا سِنگھ نے مَہاراجہ شیر سِنگھ اور اُس کے بیٹے پَرتاپ سِنگھ کو قتل کردیا۔ اِسی سازش میں کچھ ہی دیر بعد وَزیر راجہ دِھیان سِنگھ کو بھی قتل کردیا گیا۔ یُوں شیر سِنگھ اور دِھیان سِنگھ دونوں ایک ہی دن مارے گئے۔
دِھیان سِنگھ کے قتل کے بعد اُس کے بیٹے راجہ ہِیرا سِنگھ نے جوابی کارروائی کی، سَندھانوالیہ سرداروں کو قتل کروایا اور کم سِن مَہاراجہ دَلیپ سِنگھ کو تَخت پر بٹھا کر خود طاقت وَر ترین وَزیر بن گیا۔
ہِیرا سِنگھ کو شُبہ تھا کہ بیلی رام نے اُس کے باپ کے قتل کی سازش میں کردار ادا کیا ہے۔ ہِیرا سِنگھ نے بیلی رام اور اُس کے بھائیوں کو گِرفتار کروا دیا۔ بیلی رام کو شیخ اِمامُ الدّین کے حوالے کیا گیا، جس نے اُسے زنجیروں میں قَید رکھا اور ۱۷ ستمبر ۱۸۴۳ء کو گلا گھونٹ کر قتل کروا دیا۔
مِشَر بیلی رام کی موت کے بعد شاہی توشَہ خانے کے سربراہ کا عُہدہ اُس کے چھوٹے بھائی مِشَر میگھ راج کے پاس آگیا۔ تاریخی تحقیق میں درج ہے کہ بیلی رام کی موت کے بعد میگھ راج نے سربراہِ توشَہ خانہ کی حیثیت سے اُس کی جگہ لی۔ مِشَر میگھراج اب محض قِلعہ گوبِند گَڑھ کے خَزانے کا نِگران نہیں رہا تھا۔ جس شاہی توشَہ خانے، نادِر جَواہِرات اور کوہِ نُور کی حِفاظت اُس کا بڑا بھائی بیلی رام کرتا آیا تھا، اُن کی ذِمّہ داری اب میگھراج کے کَندھوں پر آچکی تھی۔
مِشَر میگھراج نے یہ ذِمّہ داری ایسے وَقت سنبھالی تھی جب لاہور دَربار مسلسل سِیاسی ہَلچَل کا شِکار تھا۔ کم سِن مَہاراجہ دَلیپ سِنگھ تَخت پر بیٹھا تھا، لیکن اَصل اِقتدار کبھی وَزیروں، کبھی فَوج اور کبھی دَربار کے طاقت وَر گروہوں کے ہاتھ میں چلا جاتا۔ اِس اُتھل پُتھل کے باوُجود شاہی توشَہ خانہ اور اُس میں موجود کوہِ نُور میگھراج کی نِگرانی میں رہا۔
اَگلے چند بَرسوں میں حالات مزید خراب ہوگئے۔ ۱۸۴۵ء میں سِکھ رِیاست اور ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔ سِکھوں کی شِکست کے بعد ۱۸۴۶ء میں لاہور میں اَنگریزوں کا اَثر و رُسوخ بہت بڑھ گیا۔ کم سِن دَلیپ سِنگھ بدستور مَہاراجہ تھا اور اُس کی والدہ مَہارانی جِند کَور کچھ عَرصہ اُس کی نائِب کی حیثیت سے اُمورِ رِیاست چلاتی رہیں، لیکن دسمبر ۱۸۴۶ء کے معاہدۂ بھَیرووال کے بعد اُنہیں اِقتدار سے الگ کرکے مجلسِ نیابت کو اَنگریز ریزیڈنٹ کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ لاہور دَربار کی آزادی رفتہ رفتہ محدود ہوتی چلی گئی۔
اِسی دَور میں مِشَر میگھراج کی ذِمّہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔ پہلی اَنگریز سِکھ جنگ کے بعد ۱۸۴۶ء میں اُسے لاہور دَربار کا خزانچی مُقَرَّر کردیا گیا۔ یُوں وہ اب محض قِلعہ گوبِند گَڑھ کے خَزانے کا سابق نِگران یا اپنے بھائی بیلی رام کا جانشین نہیں تھا بلکہ لاہور دَربار کے خَزانے سے باقاعدہ وابستہ ایک اہم عُہدے پر فائز تھا۔
پھر ۱۸۴۸ء میں سِکھوں اور اَنگریزوں کے درمیان دوسری جنگ شروع ہوگئی۔ ۲۱ فروری ۱۸۴۹ء کو گُجرات کے میدان میں سِکھ فَوج کی فیصلہ کُن شِکست نے لاہور دَربار کی باقی ماندہ طاقت بھی توڑ دی۔ مارچ تک سِکھ فَوجیں ہتھیار ڈال چکی تھیں اور اَنگریز پنجاب کو اپنی سَلطنت میں شامِل کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔
۲۹مارچ ۱۸۴۹ء کو لاہور کے شاہی قِلعے میں کم سِن مَہاراجہ دَلیپ سِنگھ کی حُکومت کے خاتمے اور پنجاب کو ایسٹ اِنڈیا کمپنی کی قلمرو میں شامِل کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ دَلیپ سِنگھ تَخت سے اُتر گیا اور لاہور کا شاہی قِلعہ، توشَہ خانہ اور رِیاستی اَملاک اَنگریزوں کے قبضے میں آنے لگیں۔
اَنگریزوں کے لیے اب ایک بہت بڑا کام لاہور کے شاہی خَزانے اور توشَہ خانے میں موجود اَشیا کی فہرست تیار کرنا، اُن کی جانچ کرنا اور اُنہیں باقاعدہ اپنی تحویل میں لینا تھا۔ برسوں سے اِن اَشیا کے حساب کتاب، مقامات اور حِفاظتی اِنتظامات سے واقف لوگوں کی ضرورت پڑی، اور اِن میں سب سے اہم نام مِشَر میگھراج کا تھا۔
پنجاب پر قبضے کے بعد اَنگریز حُکومت نے ڈاکٹر جان اِسپینسر لاگن کو لاہور کے شاہی قِلعے اور اُس میں موجود اَشیا کی ذِمّہ داری سونپی۔ ۶ اپریل ۱۸۴۹ء تک لاگن قِلعۂ لاہور اور ’اُس میں موجود تمام چیزوں‘ کا نگران مقرر ہوچکا تھا، اور شاہی توشَہ خانے کے جَواہِرات اور دوسری اَشیا کی باقاعدہ فہرست سازی بھی اُس کی ذِمّہ داریوں میں شامل تھی۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے لاہور پر قابض ہوجانے کے بعد ہونےوالی توشَہ خانے میں موجود نَوادر کی فہرستوں کی تیاری، بالخصوص کوہِ نُور کی ایسٹ اِنڈیا کمپنی کو حوالگی کا سب سے تفصیلی اَحوال سَر جان لاگن کی اہلیہ لیڈی لینا لاگن کی ۱۸۹۰ء میں لندن سے شائع ہونے والی کتاب “سَر جان لاگن اینڈ دَلیپ سِنگھ” میں ملتا ہے۔
لیڈی لاگن نے یہ کتاب اپنے شوہر کے خطوط، یادداشتوں اور سرکاری کاغذات کی مدد سے مرتب کی اور لاہور کے شاہی توشَہ خانے، کوہِ نُور اور مَہاراجہ دَلیپ سِنگھ سے متعلق کئی ایسے واقعات محفوظ کردیے جو شاید دوسری صورت میں تاریخ کی گرد میں گم ہوجاتے۔
کتاب کے مندرجات میں باقاعدہ ۶ مئی ۱۸۴۹ء کو کوہِ نُور ڈاکٹر لاگن کے حوالے کرتے وقت مِشَر میگھراج کے بیان کا ذکر بھی موجود ہے۔
لیڈی لاگن کی کتاب کے مطابق لاہور کے شاہی توشَہ خانے میں بیش قِیمت ہیرے، انگوٹھیاں، زیورات اور دوسرے جَواہِرات کا حیرت انگیز ذخیرہ موجود تھا۔ بعض نَوادر کپڑوں میں لپٹے ہوئے اور تھیلیوں میں ایسی جگہوں پر رکھے تھے کہ اُنہیں دیکھ کر خود لاگن حیران ہوا۔ اُس نے ایک ایک شے نکلوائی، اُس کی شناخت کروائی اور باقاعدہ فہرستیں تیار کرنا شروع کیں۔ بعد میں لاگن نے اِن جَواہِرات کو نئے صندوقوں میں ترتیب سے محفوظ بھی کیا۔
اِس کام میں لاگن کے ساتھ قدم بہ قدم موجود مقامی شخص مِشَر میگھراج تھا۔ تین دَہائیوں سے زیادہ عَرصہ شاہی توشَہ خانے سے وابستہ رہنے کے باعث وہ اِن اَشیا، اُن کی تاریخ اور اُن کے حِفاظتی اِنتظامات سے واقف تھا۔ خود لاگن نے اپنی اہلیہ کو لکھے گئے خط میں میگھراج کو پُرانا ریاستی خزانچی کہ کر اُسے اپنا ’بڑا مددگار اور مُعاون‘ قرار دیا۔
اِن تمام نَوادر میں سب سے زیادہ اَہمیت یقیناً کوہِ نُور کی تھی۔ پنجاب پر اَنگریزوں کا قبضہ ہوچکا تھا، لیکن ہیرے کی عملی تحویل کا مرحلہ ابھی باقی تھا۔ بالآخِر ۶ مئی ۱۸۴۹ء کو وہ دن آیا جب مِشَر میگھراج نے کوہِ نُور ڈاکٹر جان اِسپینسر لاگن کے حوالے کردیا۔ اِس موقع پر میگھراج نے ہیرے کے بارے میں ایک تفصیلی بیان بھی دیا، جسے لاگن نے محفوظ کرلیا اور بعد میں لیڈی لاگن نے اپنی کتاب میں شامل کردیا۔
یہ وہی میگھراج تھا جس نے رَنجیت سِنگھ، کھڑک سِنگھ، نَونہال سِنگھ، شیر سِنگھ اور دَلیپ سِنگھ کے اَدوار میں لاہور دَربار کے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اِقتدار اب ہاتھ بدل چکا تھا اور جس کوہِ نُور کی حِفاظت اُس کے خاندان نے کئی دَہائیوں تک کی تھی، اُسے اب فاتح حُکومت کے نمائندے کے حوالے کرنا پڑ رہا تھا۔
میگھراج نے کوہِ نُور حوالے تو کردیا، لیکن جاتے جاتے نئے نِگران کو اُس کی حِفاظت کا طریقہ بھی سمجھایا۔ جب کبھی کوہِ نُور کسی کو دِکھایا جائے تو بازُوبَند کی ڈوریاں اپنی اُنگلیوں کے گرد لپیٹ لی جائیں، تاکہ دیکھنے والا ہیرے کو دیکھ سکے، مگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی نِگران کے ہاتھ سے مکمل طور پر الگ نہ ہو۔
کوہِ نُور کی ذِمّہ داری سے آزاد ہونے کے بعد میگھراج نے جو بات کہی، اُس میں شاید کئی دَہائیوں کا بوجھ چھپا ہوا تھا۔ اُس نے اِطمینان ظاہر کیا کہ وہ اِس ذِمّہ داری سے زندہ سلامت نکل آیا ہے۔ اُس کے اپنے خاندان نے اِس ہیرے اور شاہی خَزانے کی نِگرانی کی بڑی قیمت چکائی تھی؛ اُس کا بڑا بھائی مِشَر بیلی رام سیاسی سازشوں کی نذر ہوکر قتل ہوچکا تھا۔
لیکن کہانی کا ایک دِلچسپ پہلو یہ ہے کہ کوہِ نُور تو میگھراج کے ہاتھ سے نکل گیا، مگر خود میگھراج اَنگریزوں کے پسندیدوں کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ جان لاگن اُس کی دیانت اور قابلیت سے اِس قدر متاثر ہوا کہ جب دسمبر ۱۸۴۹ء میں گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی لاہور آیا تو لاگن نے اُس سے اپنے اِس “بڑے مددگار” اور”ایمان دار آدمی” کے لیے کسی اِعزاز کی درخواست کی۔(بحوالہ: “سَر جان لاگن اینڈ دَلیپ سِنگھ” ، ص ۱۵۶، ۱۵۹، ۱۸۱–۱۸۳)
اور یہ سفارش رائیگاں نہیں گئی۔ “دی پنجاب چیفس” کے مطابق گورنر جنرل کے دورۂ لاہور کے موقع پر مِشَر میگھراج کو ’رائے بہادر‘ کا خطاب دیا گیا۔ اُسی ۱۸۴۹ء میں اَنگریز حُکومت نے اُسے لاہور ڈویژن کا خزانچی مقرر کردیا۔ گویا جس شخص نے چند ماہ پہلے ختم ہونے والی سِکھ رِیاست کے شاہی توشَہ خانے کی سب سے قِیمتی اَمانت اَنگریزوں کے حوالے کی تھی، نئی حُکومت نے بھی اپنے خَزانے کی ذِمّہ داری اُسی کے سپرد کردی۔
یہ اعتماد چند ماہ یا چند بَرس کا نہیں تھا۔ میگھراج یکم اگست ۱۸۶۴ء کو اپنی وَفات تک لاہور ڈویژن کا خزانچی رہا۔ ۱۸۶۲ء میں اُسے اِعزازی مجسٹریٹ بھی مقرر کیا گیا۔ اُس وقت اُس کے پاس ۳،۸۲۵ روپے مالیت کی جاگیریں تھیں، جن میں سے ایک حِصّہ اُس کے مرد وارثوں کے لیے مستقل کردیا گیا تھا۔(بحوالہ: “دی پنجاب چیفس” جلد اوّل، ص : ۱۲۳–۱۲۶)
یوں کوہِ نُور میگھراج کے ہاتھ سے نکل کر اَنگریزوں کے پاس چلا گیا، مگر اُس کی دیانت کا شاید سب سے بڑا ثبوت یہی تھا کہ فاتح حُکومت نے بھی خَزانے کی چابیاں اُسی کے ہاتھ میں رہنے دیں۔ سِکھ سلطنت ختم ہوگئی، سِکھ شاہی توشَہ خانے کا پُرانا نظام ختم ہوگیا اور کوہِ نُور بھی لاہور سے رُخصت ہوگیا، لیکن مِشَر میگھراج مزید پندرہ بَرس لاہور میں خزانچی رہا۔
گولکُنڈہ سے نِکل کر مغل بادشاہوں، نادِر شاہ اَفشار، اَحمد شاہ اَبدالی، شاہ شُجاع اور مہاراجہ رَنجیت سِنگھ سے ہوتا ہوا برطانیہ کے شاہی جَواہِرات تک پہنچنے والے کوہِ نُور نے اپنی داستان کے تمام بڑے کرداروں کو کسی نہ کسی طور اَمر کر رکھا ہے۔
مگر لاہور میں آج شاید کوئی بھی نہ جانتا ہو کہ اِس ہیرے کی حِفاظت کے لیے برسوں جَتن کرنے والے، جہلم کے ایک برہمن خاندان کے دو بھائی، مِشَر بیلی رام اور مِشَر میگھراج کون تھے اور کس طرح اِس نادِر نگینے کی نگہبانی میں اپنے اَیّامِ حیات صَرف کرتے رہے۔ ایک بھائی قتل ہوگیا اور دوسرے نے وہ دن بھی دیکھا جب اُس کے سامنے کوہِ نُور ہمیشہ کے لیے لاہور سے نِکل کر سات سمندر پار کے دیس روانہ ہوگیا۔
مِشَر میگھراج یکم اگست ۱۸۶۴ء کو فوت ہوا؛ لیکن اُس کی آخری رسومات کہاں ادا ہوئیں، اُس کی سَمادھی کہاں بنی اور آج اُس کا کوئی نشان باقی ہے یا نہیں—کسی کو علم نہیں۔
جہلم کے کہان اور دَلوال کے آج کے باشندوں کو تو شاید سرے سے علم ہی نہ ہو کہ اُن کے علاقے سے لاہور آنے والے اِس خاندان کے دو بھائی کبھی دنیا کے مشہور ترین ہیرے کے نِگہبان رہے تھے۔
کوہِ نُور آج بھی موجود ہے، مگر لاہور میں اُس کے آخری مقامی نِگہبان مِشَر میگھراج بے نام و نشان ہوچکا ہے ۔ وہ جو کبھی اِس ہیرے کا نِگہبان اور اُس کی وجہ سے معروف تھا، آج گُم نام اور غیر معروف ہے۔
رہے ربّ کا نام!
اس مضمون کی تیاری میں درجِ ذیل مآخذ سے استفادہ کیا گیا ہے:
* لیڈی لینا کیمبل لاگن، ’سَر جان لاگن اینڈ دَلیپ سنگھ‘، ۱۸۹۰ء۔
* سر لیپل ایچ گرفن اور سی۔ ایف۔ میسی، ’دی پنجاب چیفس‘، جلد اوّل، ۱۸۹۰ء۔
* ولیم ڈیل رمپل اور انیتا آنند، ’کوہِ نُور: دی ہسٹری آف دی ورلڈز موسٹ اِن فیمس ڈائمنڈ‘، ۲۰۱۷ء۔
* میجر جارج کارمائیکل اسمتھ، ’اے ہسٹری آف دی ریننگ فیملی آف لاہور‘، ۱۸۴۷ء۔
* شہامت علی، ’دی سِکھس اینڈ افغانز‘، ۱۸۴۷ء۔
* مفتی علی الدین، ’عبرت نامہ‘، ۱۹۶۱ء۔
* سیتا رام کوہلی، ’کیٹلاگ آف خالصہ دربار ریکارڈز‘، جلد اوّل، ۱۹۱۹ء۔
* سیتا رام کوہلی، ’کیٹلاگ آف خالصہ دربار ریکارڈز‘، جلد دوم، ۱۹۲۷ء۔
* حکومتِ پنجاب، ’لاہور پولیٹیکل ڈائریز‘، جلد سوم، ۱۹۰۹ء۔
* حکومتِ پنجاب، ’لاہور پولیٹیکل ڈائریز‘، جلد چہارم، ۱۹۱۱ء۔
* حکومتِ پنجاب، ’لاہور پولیٹیکل ڈائریز‘، جلد پنجم، ۱۹۱۱ء۔
* حکومتِ پنجاب، ’لاہور پولیٹیکل ڈائریز‘، جلد ششم، ۱۹۱۵ء۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان