Tuesday, 01 September 2026, 10:51:45 am
 
کرنل عبدالرحمٰن میسی کی داستان، مغالطوں سے تاریخی حقائق تک
August 31, 2026

کَرنل عَبدُالرَّحمٰن میسی

’جَلیانوالہ باغ‘ اَمرتسر سے ’یارے پیارے‘ قَبرستان اَحمدپور شَرقیہ تک

کچھ مُغالطے، کچھ حقائق

پہلی جنگِ عظیم جولائی ۱۹۱۴ء میں شروع ہوئی۔ چار سال جاری رہنے والی اس بڑی لڑائی میں بَرطانیہ، فرانس، رُوس اور اُن کے اِتّحادی جَرمنی، آسٹریاہنگری، سَلطنتِ عُثمانیہ سمیت کئی دیگر طاقتوں کے خلاف نَبرد آزما رہے۔

بَرِٹش اِنڈیا، تاجِ بَرطانیہ کا ایک اَہم انتظامی جزو تھا اور بَرطانیہ کے ۴ اگست ۱۹۱۴ء کو جنگ میں شامل ہوتے ہی یہ خطہ بھی اس عالمی جنگ کا حِصّہ بن گیا۔

بَرطانوی حکومت کو تَوَقُّع تھی کہ بَرِٹش اِنڈیا اس جنگ میں اسے مَقامی سپاہیوں کی صورت میں اَفرادی فوجی قُوّت اور ’وار فَنڈ‘ کی صورت میں مالی وسائل، دونوں فراہم کرے گا۔ تاہم اَنگریزوں کو یہ خَدشہ بھی تھا کہ کہیں ہندوستان میں موجود بَرطانیہ مخالف عَناصر جَرمنی کی مدد اور سَلطنتِ عُثمانیہ کی شَہ پر بغاوت کا جھنڈا ہی نہ بلند کردیں۔

یہی وجہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران تاجِ بَرطانیہ کا بَرِٹش اِنڈیا میں غیرمعمولی اِختیارات کے حُصول کی غَرَض سے ۱۹۱۵ء کا ’ڈیفنس آف اِنڈیا ایکٹ‘ مُتعارف کروانا، اَنگریزوں کی ایک اِنتظامی مجبوری سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تاج اس معاملے میں کسی حد تک حَق بجانب تھا۔

تاجِ بَرطانیہ اگر ’غَدَر تحریک‘ اور اس جیسے مُسلّح بغاوت کے کسی اور منصوبے کو قابلِ تَوَجُّہ نہ سمجھتا اور ’ڈیفنس آف اِنڈیا ایکٹ‘ کی شکل میں پیش بندی کی کوشش نہ کرتا، اور پھر شُومئی قِسمت جنگ کے نتائج بھی اس کے حق میں نہ آتے، جس کا اَندیشہ بہرحال موجود تھا، تو یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اُن کی بے وقوفی شمار ہوتا رہتا۔

دَرحقیقت جدید تحقیق بھی ’ڈیفنس آف اِنڈیا ایکٹ‘ کو اُس وقت کی اِنقلابی سرگرمیوں اور جَرمن مفادات کے لیے کام کرنے والے عَناصر کے خلاف ایک غیرمعمولی طور پر مُؤثّر قانون قرار دیتی ہے، جس نے بَرِٹش اِنڈیا میں بغاوت کے اِمکانات کو کم سے کم تر کیا۔

تاہم ’ڈیفنس آف اِنڈیا ایکٹ‘ کے بعد کے قوانین، بالخصوص ’رولٹ ایکٹ ۱۹۱۹ء‘، کے نَفاذ اور اُس پر ڈٹ جانے کو خود اَنگریز مُؤرِّخین بھی ’حُدود سے تَجاوُز‘ ہی سمجھتے ہیں؛ ایک ایسا تَجاوُز، جس کی کوکھ سے پیدا ہونے والی بے چینی نے ’جَلیانوالہ باغ‘ جیسے سانحے کو جنم دیا، جسے بہرحال ہندوستانی تاریخ کا ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔

تاہم اسے بَرطانوی حکومت کی ہَٹ دَھرمی کہیں یا کچھ اور، جَلیانوالہ باغ کے سانحے کے بعد بھی وہ رولٹ ایکٹ کی شکل میں سیاسی جلسوں، جُلوسوں اور اَنگریز حکومت کے خلاف مُظاہروں پر پابندی کی پالیسی سے دَستبردار نہیں ہوئی؛ بلکہ مختلف شاہی رِیاستوں پر بھی زور دیا جاتا رہا کہ وہ بھی ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین بنائیں۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے میدان میں آنے والی شاہی رِیاست، مَملکتِ خُداداد رِیاستِ بہاولپور تھی۔ ۱۴ مئی ۱۹۲۴ء کو یہاں عوامی جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں کو مَحدود کرنے کے لیے ایک سخت حُکم تیار اور نافذ کیا گیا۔ ۱۹۲۴ء کے اس قانون کے مُسوَّدے کی تیاری اور اِجرا ’صادِق گڑھ مَحَل‘ میں قائم رِیاستی اِنتظام سے ہوا، جہاں تقریباً دو ماہ قبل ہی نواب صادِق مُحمَّد خان پنجم رِیاست کے مُکمّل اِختیارات ملنے کے بعد آکر بَراجمان ہوئے تھے۔

صادِق گڑھ مَحَل، بہاولپور سے قریب قریب ستّر کِلومیٹر کی دُوری پر واقع ایک وسیع شاہی اور اِنتظامی مرکز تھا، جس میں رِیاستِ بہاولپور کے نواب کی نِشست گاہ کے علاوہ دَربار ہال، اَفسرشاہی کے دَفاتر، ٹَکسال، اَسلحہ خانہ، بجلی گھر، سِینما، شاہی موٹر گاڑیوں کے لیے ’موٹر خانہ‘ اور وَرکشاپیں موجود تھیں۔

صادِق گڑھ مَحَل اور اس سے مُتَّصِل رہائشی مکانات، جن میں زیادہ تر وہی لوگ رہائش پذیر تھے جو مَحَل اور رِیاستی اِنتظام میں اپنے سَرکاری فرائض سَرانجام دیتے تھے، پر مشتمل علاقہ مَقامی لوگوں میں ’ڈیرہ نواب صاحِب‘ کے نام سے مشہور تھا۔

’ڈیرہ نواب صاحِب‘ کے مَقامی زَبان میں مَعنی نواب صاحِب کے بیٹھنے اور قِیام کے مَقام کے بنتے ہیں۔ رِیاستی زَبان میں کسی آدمی کی نِشست گاہ کو ’ڈیرہ‘ کہا جاتا ہے۔

ڈیرہ نواب صاحِب سے تقریباً چار سے پانچ کِلومیٹر کے فاصلے پر ایک شہر، جسے نواب صادِق مُحمَّد خان عباسی اوّل کے قریبی عزیز اَحمد خان پِرجانی کی نِسبت سے ’اَحمدپور‘ کا نام دیا گیا تھا، یہاں کا ایک اَہم اور گنجان آباد شہر تھا۔

اس شہر کو ایک دوسرے اَحمدپور، یعنی صادِق آباد کے قریب واقع ’اَحمدپور غَربیہ‘ یا ’اَحمدپور لَمّہ‘، سے مُمتاز کرنے کے لیے اس کے نام کے ساتھ ’شَرقیہ‘ کا اضافہ بھی کیا گیا تھا، اور یوں یہ ’اَحمدپور شَرقیہ‘ کے نام سے موسوم تھا۔

صادِق گڑھ مَحَل کی تعمیر ۱۸۸۲ء میں شروع ہوئی اور ۱۸۹۵ء میں مُکمَّل ہوئی۔ اسی سال ڈیرہ نواب صاحِب سے اَحمدپور شَرقیہ کے راستے میں، موجودہ ’قَینچی موڑ‘ سے ذرا پہلے، سڑک کے دائیں ہاتھ پر کچھ زَرعی رقبہ رِیاستی سپاہ کے فوت شُدگان کے قَبرستان کے لیے بھی مُختص کردیا گیا۔ اس قَبرستان کو آج کل ’یارے پیارے قَبرستان‘ کہا جاتا ہے۔ مَقامی رِوایت کے مطابق ’یارے‘ اور ’پیارے‘ نامی دو بھائیوں کی قَبریں یہاں ہونے کی وجہ سے یہ قَبرستان اِس منفرد نام سے موسوم ہوا ہے۔

اس قَبرستان کے بارے میں یہ تو سب کو معلوم ہے کہ یہاں شروع شروع میں رِیاستی سپاہیوں کی تَدفین ہوتی رہی، تاہم بہت کم لوگوں کے عِلم میں یہ بات ہے کہ یہاں بَرطانوی فوج کا ایک ایسا سابق اَفسر بھی دَفن ہے، جو نہ صرف جَلیانوالہ باغ کے سانحے کے وقت اَمرتسر میں بِنَفسِ نَفیس موجود تھا بلکہ جس کے بیانات ’ہَنٹر کَمیشن رپورٹ‘ کا بھی حِصّہ بنے۔

صرف یہی نہیں، اس اَفسر نے بوجوہ بَرطانوی فوج کی نوکری چھوڑنے کے بعد اپنے وَطن بَرطانیہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خَیرآباد کہنے کے علاوہ اپنے مَذہب عیسائیت کو چھوڑ کر اِسلام بھی قبول کیا۔

۱۹۳۵ء یا ۱۹۳۶ء کی اس قَبر کے کتبے پر ’کَرنل عَبدُالرَّحمٰن میسی‘ کے اَلفاظ دَرج ہیں۔ عَبدُالرَّحمٰن اس کا اِسلامی نام تھا، جبکہ ’میسی‘ کو اس کے پَیدائشی نام ’جیمز وِلیم میسی‘ کے آخری حِصّے سے لیا گیا ہے۔

رِیاستِ بہاولپور کے اپنے ۱۹۲۴ء کے سِیاسی جَلسوں اور سَرگرمیوں پر قَدغَن لگانے والے سَخت قانون سے لے کر ۱۹۳۵ء یا ۱۹۳۶ء میں اس سابق بَرطانوی فوجی اَفسر کو تَزَک و اِحتشام کے ساتھ یہاں دَفن کرنے کے گیارہ یا بارہ بَرسوں کے دوران ایک ایسی سادہ مگر پُرتاثیر داستان جَنم لیتی ہے، جو کئی حَوالوں سے بَرِٹش اِنڈیا کے اِنتظامی اِستبداد، شاہی رِیاستوں کی لاچاریوں اور تاجِ بَرطانیہ اور رِیاستوں کے اُن بظاہر دوستانہ باہمی تَعلُّقات کو آشکار کرتی ہے، جن میں طاقت کا پلڑا ہمیشہ تاجِ بَرطانیہ کے حق میں جھکا رہتا تھا۔

’یارے پیارے قَبرستان‘ میں آسودۂ خاک کَرنل عَبدُالرَّحمٰن میسی کے بارے میں اَحمدپور شَرقیہ، بہاولپور اور اس سے باہر کئی کہانیاں، داستانیں یا اَفسانہ ہائے عامّہ مشہور ہیں۔ قَبرستان کی دائیں دیوار سے مُتَّصِل ایک پینا فلیکس بورڈ بھی اِن میں سے ایک داستان کو نَقل کرتا دکھائی دیتا ہے۔

ایک داستان تو یہ ہے کہ جب یہ جیمز وِلیم میسی تھا (یعنی جب یہ مُشرَّف بہ اِسلام نہیں ہوا تھا)، تب اس نے ۱۳ اپریل ۱۹۱۹ء کی شام اپنے کمانڈنگ اَفسر بریگیڈیئر جنرل ریجنلڈ ڈائر کے حُکم سے رُوگردانی کرتے ہوئے اَمرتسر کے جَلیانوالہ باغ کے مُظاہرین پر گولی چلانے سے اِنکار کردیا تھا۔

اِسی نافرمانی کی پاداش میں جیمز وِلیم میسی کا کورٹ مارشل ہوا، اسے بَرطانوی فوج سے نکال دیا گیا، اس کا پاسپورٹ ضبط ہوا، مَراعات چھین لی گئیں اور یہ بے وَسیلہ ہوکر رہ گیا۔

دوسری تفصیلی داستان، جو جنوری ۱۹۳۴ء میں فرسٹ بہاولپور اِنفنٹری میں تَعینات رہنے والے سیکنڈ لیفٹیننٹ مَلِک مُحَمَّد خان اعوان سے مَنسوب کی جاتی ہے، کے مطابق جَلیانوالہ باغ میں گولی چلانے سے اِنکار پر میسی کا کورٹ مارشل ہوا، اس کی تَنزُّلی کرکے اسے لیفٹیننٹ بنادیا گیا اور اسے اس کی یونٹ کے ساتھ بَرطانیہ واپس بھیج دیا گیا۔

دس سال بعد ۱۹۳۰ء میں جیمز وِلیم میسی کی اپنی یونٹ کے ہمراہ دوبارہ ہندوستان میں تَقرُّری ہوئی، اور یہاں اَٹک کے قلعے میں ایک مَقامی مسلمان قیدی کی روزے کی حالت میں سَخت مَشقّت، اس کے صبر اور مَذہبِ اِسلام پر اُس کی اِستقامت نے جیمز وِلیم میسی کو اس قدر مُتأثر کیا کہ اس نے مَقامی مسجد کے امام کے پاس جاکر کلمہ پڑھ کر اِسلام قبول کرلیا۔

جیمز وِلیم میسی کے مسلمان ہونے کی خبر ملنے پر ایک مرتبہ پھر اس کا کورٹ مارشل ہوا، ایک کھلے میدان میں سب سپاہیوں کے سامنے اس کی بیلٹ اُتاری گئی، فوجی اَعزازات چھین لیے گئے اور وہ مَفلوکُ الحال ہوکر رہ گیا۔

تاہم یہ دونوں کہانیاں اس جیمز وِلیم میسی کو لاہور لے جاتی ہیں، جہاں ۲۶ دسمبر ۱۹۳۰ء کو اَنجمنِ حِمایتِ اِسلام کے سالانہ جلسے میں وہ تقریر کرتا ہے؛ اپنے قبولِ اِسلام اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والی مشکلات کا ذِکر کرتا ہے؛ اپنے روزگار کے سلسلے میں معروف مُترجمِ قرآن اور اُس وقت اِسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل علّامہ عَبدُاللہ یوسف علی سے مدد مانگتا ہے؛ اَنجمنِ حِمایتِ اِسلام کے صدر سَر عَبدُالقادر جلسے کی صدارت کے لیے آنے والے نواب صادِق مُحمَّد خان عباسی پنجم سے میسی کا تعارف کراتے ہیں اور اس نومُسلم بَرطانوی اَفسر کے لیے رِیاستِ بہاولپور میں ملازمت کی سفارش کرتے ہیں۔

رِوایت کے مطابق نواب اس کی داستان سے اس قدر مُتأثر ہوتے ہیں کہ اسے تین دن بعد رِیاستِ بہاولپور کی فوج میں ملازمت دے دی جاتی ہے، جہاں تَرقّی کرتے کرتے وہ کَرنل کے عُہدے تک پہنچ جاتا ہے۔

نواب صادِق پنجم اس کی شادی بھی ایک مَقامی عِزّت دار خاندان میں کروا دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، ۱۹۳۵ء یا ۱۹۳۶ء کے بعد جب بھی اس قَبرستان کے قریب سے گزرتے ہیں، اپنی رولز رائس گاڑی کو سڑک کے کنارے رکوا کر کَرنل عَبدُالرَّحمٰن میسی کی قَبر پر فاتحہ بھی پڑھتے ہیں۔

لیکن کیا اِن میں سے کوئی کہانی واقعی اِسی طرح پیش آئی تھی؟ یا یہ سب داستانیں بلاوجہ ایک تاریخی کردار کو ایک اَفسانوی روپ دینے کا سبب بنتی ہیں؟

آئیے! دیکھتے ہیں کہ تاریخی دستاویزات کَرنل عَبدُالرَّحمٰن میسی کے بارے میں کیا حقائق آشکار کرتی ہیں۔

*پہلی تحقیقی رائے: جیمز وِلیم میسی اَمرتسر میں تَعینات ضرور تھا، لیکن وہ یا اس کی یونٹ جَلیانوالہ باغ میں گولی چلانے والوں میں شامل ہی نہیں تھی۔*

’ہَنٹر کَمیشن رپورٹ‘ کے مندرجات بتاتے ہیں کہ جَلیانوالہ باغ کے اندر، جہاں گولی چلی، سِرے سے جیمز وِلیم میسی کی ’فرسٹ گیریژن بٹالین، سَمرسیٹ لائٹ اِنفنٹری‘ کا دستہ تَعینات ہی نہیں تھا۔ یوں یہ دعویٰ کہ ۱۳ اپریل کو اُس نے بریگیڈیئر جنرل ریجنلڈ ڈائر کے حُکم کے باوجود جَلیانوالہ باغ میں مُظاہرین پر گولی چلانے سے اِنکار کردیا تھا، ’ہَنٹر کَمیشن‘ کی رپورٹ سے سَراسَر غلط ثابت ہوتا ہے۔

’ہَنٹر کَمیشن‘ دَراصل بَرطانوی حکومتِ ہند کی طرف سے اکتوبر ۱۹۱۹ء میں قائم کی جانے والی ایک تحقیقاتی کمیٹی تھی، جس کا سَرکاری نام ’ڈِس آرڈرز اِنکوائری کَمیٹی‘ تھا۔ اسے پنجاب سمیت ہندوستان کے بعض علاقوں میں پیدا ہونے والی بدامنی، اُس کے اَسباب اور اس سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے گئے سَرکاری اقدامات کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ کمیٹی کی صدارت سکاٹ لینڈ کے قانون دان لارڈ وِلیم ہَنٹر کے پاس تھی اور انہی کے نام کی نِسبت سے یہ ’ہَنٹر کَمیشن‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔

جیمز وِلیم میسی نے کَمیشن کو بتایا کہ اس نے بطور کَیپٹن ۱۰ اپریل ۱۹۱۹ء کے دن اَمرتسر ریلوے اسٹیشن پر موجود فوجی گارڈز کو ٹیلی گراف آفس پر نظر رکھنے اور ضرورت پڑنے پر اس کے دِفاع کا حُکم دیا تھا۔ اس کے بعد شہر پُراَمن ہوگیا۔ ۱۳ اپریل کو جب جَلیانوالہ باغ میں گولی چلی، اس کی یونٹ اَمرتسر شہر کی حفاظت پر مامور تھی۔

’جَلیانوالہ باغ‘ اَمرتسر شہر کے وَسط میں واقع ایک کُھلا اَحاطہ تھا۔ اس جگہ کا نام سِکھ عہد میں اس کے مالکان کی نِسبت سے پڑا۔ یہ سردار ہِمّت سنگھ کے خاندان کی ملکیت تھی، جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ تھے اور اَصل میں پنجاب کے گاؤں ’جَلّہ‘ سے آئے تھے۔ اسی نسبت سے اس خاندان کے لوگ ’جَلّھے والے‘ یا ’جَلّھے‘ کہلاتے تھے اور اُن سے منسوب یہ جگہ ’جَلیانوالہ باغ‘ کے نام سے مشہور ہوگئی۔ ۱۹۱۹ء تک یہ باقاعدہ سرسبز باغ کے بجائے چار دیواری میں گھرا ایک ناہموار کُھلا میدان بن چکا تھا۔

’ہَنٹر رپورٹ‘ کے مطابق ڈائر کے حُکم پر گولی ’نائنتھ گورکھا رائفلز‘ اور ’ففٹی نائنتھ سِندھ رائفلز‘ کے جوانوں نے چلائی۔ تقریباً دس منٹ میں ۱۶۵۰ گولیاں چلائی گئیں۔ سَرکاری تحقیقات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تقریباً ۳۷۹ بتائی گئی، جبکہ دیگر اندازوں میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ، یعنی ایک ہزار سے پندرہ سو کے درمیان، بیان ہوتی ہے۔

*دوسری تحقیقی رائے: جیمز وِلیم میسی جَلیانوالہ باغ کے واقعے کے بعد بھی بَرطانوی فوجی نوکری پر موجود رہا۔*

اس سے بھی زیادہ فیصلہ کُن بات یہ ہے کہ جَلیانوالہ باغ کے بعد میسی کا فوجی ریکارڈ غائب نہیں ہوجاتا۔ وہ بَرطانوی فوجی نوکری پر برقرار رہا اور اُس نے ۱۹ نومبر ۱۹۲۰ء کو بَرطانوی فوجی کَمیشن سے علیحدگی اِختیار کی۔

۱۹۲۱ء میں شائع ہونے والے ’لندن گزٹ‘ کے ضمیمے کے صفحہ ۲۷۷۳ پر اس کا اندراج کَیپٹن جیمز وِلیم میسی کے نام سے موجود ہے اور ساتھ یہ بھی دَرج ہے کہ وہ ’کَیپٹن کا رینک برقرار رکھے گا‘۔

یوں ۱۳ اپریل ۱۹۱۹ء کو جیمز وِلیم میسی کی حُکم عدولی، فوری کورٹ مارشل، تَنزُّلی اور فوج سے نکالے جانے والی رِوایت سَرکاری تحقیق اور فوجی ریکارڈ، دونوں کے سامنے قائم نہیں رہتی۔

*تیسری تحقیقی رائے: کورٹ مارشل کے بعد جیمز وِلیم میسی کا بَرطانیہ جانا اور پھر دس سال بعد بَرِٹش اِنڈیا واپس آنے کے حق میں کوئی ایک بھی دَستاویزی شہادت نہیں ملتی۔*

جہاں تک اس رِوایت کا تعلق ہے کہ کورٹ مارشل کے بعد میسی بطور لیفٹیننٹ تَنزُّلی پاکر بَرطانیہ واپس چلا گیا، پھر دوبارہ تَرقّی پاتا ہوا میجر بن کر ہندوستان آیا اور اَٹک کے قلعے میں کسی دوسری یونٹ کے ساتھ تَعینات ہوا، تو اس کے حق میں بھی کوئی فوجی یا مُعاصر دَستاویز سامنے نہیں آتی۔

دَستیاب ریکارڈ میسی کو ۱۹۱۹ء کے بعد بھی بَرطانوی فوج میں ’کَیپٹن‘ دکھاتا ہے اور اس کی کَمیشن سے علیحدگی ۱۹ نومبر ۱۹۲۰ء کو دَرج کرتا ہے۔ اس لیے کورٹ مارشل، تَنزُّلی، بَرطانیہ واپسی، دوبارہ ہندوستان آمد اور پھر اَٹک میں نئی فوجی تَعیناتی ثابت کرنے کے لیے ایک مکمل الگ فوجی سروس ریکارڈ درکار ہونا چاہیے تھا، جو دَستیاب ریکارڈ میں نظر نہیں آتا۔

*چوتھی تحقیقی رائے: اَنجمنِ حِمایتِ اِسلام کے ۱۹۳۰ء کے لاہور جلسے کی مُستند تحریری رپورٹ میں جیمز وِلیم میسی کا کوئی ذِکر موجود نہیں۔*

جہاں تک ۱۹۳۰ء میں اَنجمنِ حِمایتِ اِسلام کے لاہور جلسے میں میسی کی تقریر کا ذِکر ہے، تو اس جلسے کی تفصیلی رُوداد ایک مُعاصر ’میونسپل رپورٹ‘ میں دَرج ملتی ہے۔

’اَنجمنِ حِمایتِ اِسلام‘ لاہور کے مسلمانوں کی ایک تعلیمی، مذہبی اور فلاحی تنظیم تھی، جس کی بنیاد ستمبر ۱۸۸۴ء میں لاہور میں خلیفہ قاضی حمیدالدین اور اُن کے رُفقا نے رکھی تھی۔ اس کے بنیادی مقاصد میں مسلمانوں میں دِینی اور جدید تعلیم کا فروغ، اِسلامی اَقدار کا تَحفُّظ، اُس دور کی مسیحی تبلیغی سرگرمیوں کا جواب اور مسلمان یتیموں اور ضرورت مندوں کی تعلیم و فلاح شامل تھے۔ بعد میں انجمن نے لاہور میں متعدد تعلیمی اور فلاحی ادارے بھی قائم کیے۔

اس رپورٹ میں جلسے میں شریک ہونے والی شخصیات، تقاریر اور دوسرے واقعات کا ذِکر یہاں تک موجود ہے کہ علّامہ مُحمَّد اِقبال نے لاہور کے ایک شہری کی طرف سے نوابِ بہاولپور کو پیش کیا جانے والا قرآنِ کریم کا نسخہ اپنے ہاتھوں سے نواب صاحِب کے حوالے کیا، لیکن اس پوری رُوداد میں نہ میسی کی موجودگی کا ذِکر ملتا ہے اور نہ اس کی کسی تقریر کا۔

اگر واقعہ واقعی ایسا غیرمعمولی ہوتا کہ تاجِ بَرطانیہ کا ایک سابق فوجی اَفسر، بَرطانوی پالیسیوں کے باعث اپنی نوکری چھوڑنے اور پھر اپنا مَذہب تبدیل کرکے مسلمان ہونے کی داستان لاہور کے ایک بڑے مسلم اجتماع میں کھڑے ہوکر سنا رہا تھا، تو قرینِ قیاس یہی ہے کہ نہ صرف اس تفصیلی میونسپل رپورٹ میں اس کا ذِکر ہوتا بلکہ لاہور سے شائع ہونے والے اَخبارات بھی اس واقعے کو نمایاں طور پر پیش کرتے۔

اب آتے ہیں اس اَمر کی طرف کہ دَستیاب کُتب اور مُستند تذکرہ جات جیمز وِلیم میسی کے بارے میں کیا معلومات فراہم کرتے ہیں!

*۱۔جیمز وِلیم میسی کا سَوانحی خاکہ:*

جیمز وِلیم میسی ۱۸۷۷ء میں پیدا ہوا۔اس کی ایک رِشتہ دار خاتون مارگریٹ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، میسی نے ۱۸۹۹ء میں ’سپیشل ریزرو آف آفیسرز‘ میں شمولیت اِختیار کی اور اسے ’ہیمپشائر رجمنٹ‘ میں کَمیشن ملا۔ اگلے ہی برس، یعنی ۱۹۰۰ء میں، وہ جنوبی افریقہ چلا گیا، جہاں اُس وقت ’دوسری اینگلو بوئر جنگ‘ جاری تھی۔ وہاں اس نے ’ایسٹ گریکوالینڈ ماؤنٹڈ رائفلز‘ کے ساتھ خدمات اَنجام دیں۔ بوئر جنگ کے اِختتام پر اس نے اپنا فوجی کَمیشن چھوڑ دیا۔

تیرہ برس کے وقفے کے بعد، جب ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی، تو وہ حُبُّ الوطنی یا اپنی مالی ضروریات کے پیشِ نظر ۱۹۱۵ء میں دوبارہ فوج میں شامل ہوگیا۔ اس مرتبہ بھی اس کا تَعلُّق ’ہیمپشائر رجمنٹ‘ سے تھا۔

۱۸جنوری ۱۹۱۷ء کو اس کے فوجی کیریئر نے ایک اَہم موڑ لیا۔ اسے ’ہیمپشائر رجمنٹ‘ سے ایک ’گیریژن بٹالین‘ میں ڈیوٹی کے لیے بھیجا گیا اور اسی تاریخ سے ’سَمرسیٹ لائٹ اِنفنٹری‘ کی ایک بٹالین میں تَعینات کردیا گیا۔ ’لندن گزٹ‘ میں اس کا نام ’کَیپٹن جے۔ ڈبلیو۔ میسی‘ کے طور پر دَرج ہے اور کَیپٹن کی حیثیت سے اس کی سینیارٹی ۱۶ اکتوبر ۱۹۱۵ء سے برقرار رکھی گئی۔

یہ بٹالین ’فرسٹ گیریژن بٹالین، سَمرسیٹ لائٹ اِنفنٹری‘ تھی، جو جنوری ۱۹۱۷ء میں ’پلِمَتھ‘ میں تشکیل دی گئی تھی۔ فروری ۱۹۱۷ء میں یہ بٹالین بَرطانیہ سے ہندوستان روانہ ہوئی اور ہندوستان پہنچنے کے بعد ’راولپنڈی بریگیڈ، سیکنڈ راولپنڈی ڈویژن‘ کا حِصّہ بنی۔ پہلے اس کی تَعیناتی راولپنڈی میں رہی اور پھر ستمبر ۱۹۱۸ء میں فرسٹ گیریژن بٹالین کو راولپنڈی سے لاہور مُنتقل کردیا گیا۔

۱۹۱۸ء کے اِختتام تک جیمز وِلیم میسی اَمرتسر میں موجود تھا اور وہاں ’فرسٹ گیریژن بٹالین، سَمرسیٹ لائٹ اِنفنٹری‘ کے ۱۸۴ اِنفنٹری سپاہیوں پر مشتمل مختصر فوجی دستے کی کمان اس کے پاس تھی۔ ۱۹ نومبر ۱۹۲۰ء کو جیمز وِلیم میسی کی بَرطانوی فوجی کَمیشن سے علیحدگی مُؤثّر ہوگئی۔

*۲-برطانوی فوج کی نوکری کے بعد جیمز وِلیم میسی کا بہاولپور جانا اور اِسلام قبول کرنا اُس کا ایک سوچا سمجھا ذاتی فیصلہ تھا:*

بَرطانوی فوج کے تمغوں، فوجی اَعزازات اور رَینکس پر تحقیق کرنے والے راجر پرکنز نامی ایک مُحقِّق نے اپنی کتاب ’دی اَمرتسر لیگیسی: گولڈن ٹیمپل ٹو کیکسٹن ہال، دی اسٹوری آف اے کِلنگ‘ میں جیمز وِلیم میسی کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ۱۹ نومبر ۱۹۲۰ء کو بَرطانوی فوج کی ملازمت چھوڑنے کے بعد رِیاستِ بہاولپور چلا گیا، جہاں بعد میں اس نے اِسلام قبول کیا اور عَبدُالرَّحمٰن میسی کا نام اِختیار کرنے کے بعد رِیاستِ بہاولپور کی اَفواج میں شامل ہوگیا۔

پرکنز نے میسی کے قبولِ اِسلام کو اٹک قلعے والے کسی ایک ناگہانی یا اِتّفاقی واقعے سے نہیں جوڑا۔ اس لیے دَستیاب معلومات کی روشنی میں میسی کا قبولِ اِسلام کسی فوری واقعے کا ردِّعمل نہیں بلکہ اُس کا ایک سوچا سمجھا ذاتی فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔(بحوالہ: ’دی اَمرتسر لیگیسی: گولڈن ٹیمپل ٹو کیکسٹن ہال، دی اسٹوری آف اے کِلنگ‘، پِکٹن پبلشنگ، ۱۹۸۹ء، ص: ۱۸۹–۱۹۱)

*۳۔ جیمز وِلیم میسی کے بہاولپور پہنچنے کی ممکنہ وجہ ریجنلڈ چارلس بولسٹر نامی ایک بَرطانوی اَفسر بنتا ہے:*

ریجنلڈ چارلس بولسٹر اِنڈین سِول سروس کا ایک اَفسر تھا۔ یہ ۱۹۰۱ء میں پنجاب کی سِول سروس کے ذریعے پنجاب کے اِنتظامی ڈھانچے کا حِصّہ بنا۔ ۱۹۲۰ء کے پُرآشوب زمانے میں دہلی کا ڈپٹی کمشنر بھی رہا۔

پہلی جنگِ عظیم کے دوران بولسٹر نے فوجی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا اور لاہور کی میاں میر فوجی چھاؤنی میں فوجی عملے کے ساتھ خدمات اَنجام دیں، جہاں اس کا رَینک لیفٹیننٹ کَرنل کا تھا۔

جیمز وِلیم میسی کی ’فرسٹ گیریژن بٹالین، سَمرسیٹ لائٹ اِنفنٹری‘ بھی ستمبر ۱۹۱۸ء میں راولپنڈی سے لاہور مُنتقل ہوچکی تھی۔ یوں پہلی جنگِ عظیم کے آخری زمانے میں میسی اور بولسٹر دونوں لاہور ہی کے فوجی ماحول سے وابستہ رہے۔ قرینِ قیاس یہی ہے کہ جیمز وِلیم میسی اور بولسٹر کی یہیں سے تَعلُّق داری بنی۔

بولسٹر کی ہندوستان میں آخری سَرکاری تَقرُّری کم سِن نوابِ بہاولپور، صادِق مُحمَّد خان پنجم، کے سَرپرست کی حیثیت سے ہوئی۔ وہ اِسی تَقرُّری سے ۱۹۲۳ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوا۔

بولسٹر بہاولپور میں مُقیم رہا؛ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے رِیاستِ بہاولپور میں پائے جانے والے ایک صحرائی پرندے ’سپاٹڈ سینڈ گراؤس‘ کے رہن سہن، عادات اور اَفزائش پر باقاعدہ تحقیقی مضمون بھی لکھا، جو ’جرنل آف دی بمبئی نیچرل ہسٹری سوسائٹی‘ کی جلد ۲۸، صفحات ۸۰۷ تا ۸۰۹ میں شائع ہوا۔ بولسٹر کا یہ مضمون اس بات کا ایک دلچسپ ثبوت ضرور ہے کہ وہ بہاولپور کو صرف سَرکاری کاغذات سے نہیں جانتا تھا بلکہ رِیاست کے ماحول اور جغرافیے کا ذاتی مُشاہدہ بھی رکھتا تھا۔

بولسٹر کے نواب صادِق مُحمَّد خان پنجم کے بارے میں مُشاہدات اینابیل لائیڈ کی کتاب ’بہاولپور: دی کنگڈم دیٹ وینشڈ‘ میں بھی رَقم ملتے ہیں۔ بولسٹر کے مُشاہدات کے مطابق نوجوان نواب کی خصوصی دلچسپی فوج، ڈاک ٹکٹ جمع کرنے اور سِینما میں تھی۔ وہ شراب سے سخت نفرت کرتا تھا اور مَذہبی معاملات میں نہایت سنجیدہ اور اپنی رِوایات اور رُسوم سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ تھا۔ تاہم بولسٹر نوجوان نواب کی شاہی حَرم سَرا میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھتا تھا۔ اُس کا یہ بھی خیال تھا کہ نواب مولوی غلام حُسین سے بہت زیادہ مُتأثر ہے اور مولوی غلام حُسین کا اَثر اُس کی شخصیت اور تربیت کے لیے نقصان دِہ ثابت ہورہا ہے۔

بولسٹر نے نوابِ مذکور کو اَنگریزی، فرانسیسی، فارسی، حساب کتاب اور عملی اِنتظامی معاملات کی تربیت شوق کے ساتھ حاصل کرنے والا کردار بھی بیان کیا ہے۔

بولسٹر کی نوجوان نواب کے بارے میں ایک اور تجویز اس معاملے کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے بہاولپور سے چلے جانے کے بعد نواب کو ایسے مَقامی مُصاحبوں کے اَثر سے محفوظ رکھنے کے لیے، جنہیں وہ نوجوان حکمران کی تربیت کے لیے مناسب نہیں سمجھتا تھا، اس کے ساتھ ایک سینئر بَرطانوی کَیپٹن یا میجر بطور ساتھی موجود ہونا چاہیے؛ ایسا شخص جو ضرورت پڑنے پر نواب کے اَنگریزی خط و کتابت کے کام میں بھی مدد دے سکے۔(بحوالہ: ’بہاولپور: دی کنگڈم دیٹ وینشڈ‘ ، ص:۸۵)

یہیں سے جیمز وِلیم میسی اور ریجنلڈ چارلس بولسٹر کے راستے غیرمعمولی طور پر ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے پاس ابھی کوئی ایسا تَقرُّرنامہ، سفارشی خط یا سَرکاری حُکم موجود نہیں جس میں صاف لکھا ہو کہ بولسٹر نے میسی کو بہاولپور بلوایا تھا؛ تاہم دَستیاب حالات کو ایک ساتھ رکھا جائے تو یہ بات قرینِ قیاس ضرور معلوم ہوتی ہے کہ بَرطانوی فوج سے سَبک دوش ہونے والے میسی کے بہاولپور پہنچنے میں بولسٹر یا اِسی پنجاب کے بَرطانوی فوجی و اِنتظامی حلقے نے کوئی کردار اَدا کیا ہوگا۔

جیمز وِلیم میسی کے بہاولپور پہنچنے کا ایک اور دلچسپ اِتّفاق بھی موجود ہے۔ نواب صادِق مُحمَّد خان پنجم نے اپنی کم سِنی کا کچھ عرصہ بَرطانیہ کی کاؤنٹی سَمرسیٹ کے قصبے پورلاک میں گزارا تھا۔ جیمز وِلیم میسی نے بھی ’سَمرسیٹ لائٹ اِنفنٹری‘ میں خدمات اَنجام دیں۔ عین ممکن ہے پہلی ملاقات میں میسی کی سابق یونٹ کا نام سن کر نوجوان نواب کے ذہن میں اپنے بچپن کے سَمرسیٹ کی یاد تازہ ہوئی ہو اور دونوں کے درمیان گفتگو کا ایک قدرتی موضوع بن گیا ہو۔

کَرنل عَبدُالرَّحمٰن میسی کی کہانی تاجِ بَرطانیہ کے اِستعماری نظام کو بھی آشکار کرتی ہے کہ کس طرح ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے غیرمعمولی قوانین بنائے گئے ؛ کس جبر و استبداد کے ساتھ سیاسی سَرگرمیوں کو دبایا گیا اور کس سَفّاکی اور سنگ دِلی کے ساتھ جَلیانوالہ باغ جیسے قتلِ عام کو رَواج دیا گیا۔

شاہی رِیاستیں اگرچہ اپنے راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کی نِسبت سے آزاد سمجھی جاتی تھیں، لیکن ان میں بھی بَرطانوی عمل دخل اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ کہیں حکمرانوں کے لیے ریجنسی کونسلیں قائم ہوتیں اور کہیں بَرطانوی اَفسران رِیاستی حکمرانوں کے سَرپرست اور ٹیوٹر مُقرّر ہوتے۔

صرف یہی نہیں، اس تجویز اور اَمر کو بھی معقول سمجھا جاتا تھا کہ کسی رِیاستی حاکم کے ساتھ مَقامی مُصاحبوں کے بجائے کسی سینئر بَرطانوی کَیپٹن یا میجر کو بطور ’کمپینین‘ (ساتھی) مُقرّر کیا جائے، تاکہ کوئی مَقامی مُصاحب رِیاستی حکمران کو بَرطانوی حکومت سے بددل نہ کرسکے۔

قَینچی موڑ، اَحمدپور شَرقیہ کے قریب واقع ’یارے پیارے قَبرستان‘ میں عَبدُالرَّحمٰن میسی کی قَبر پر آج بھی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والا کوئی طالبِ علم، یا اُس کے قبولِ اِسلام کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والا کوئی شخص فاتحہ پڑھنے ضرور آجاتا ہے۔

اس قَبر کے سَرہانے پڑے مِٹّی کے کئی ٹوٹے ہوئے چراغ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بہت پہلے بھی لوگ اس قَبر پر دِیا جلانے آیا کرتے تھے۔ لیکن نہ جانے کیوں، چند کِلومیٹر کے فاصلے پر وہی صادِق گڑھ پیلس آج ویرانیوں کا مسکن بن چکا ہے، جہاں کبھی ایک پوری رِیاست کی شان و شوکت، سیاست اور اِنتظام کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔

کسی شاعر نے سچ ہی کہا تھا:

؎

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو۔۔۔۔

میری سُنو جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان