قِیامِ پاکِستان کو اَبھی دو ہی بَرس گُزرے ہیں۔ پِشاوَر کے ایڈوَرڈز کالِج کے ایک بانکے سَجیلے نَوجوان، سَیِّد اَحمد شاہ، کو ریڈیو پاکِستان میں اِسکرِپٹ رائٹر کی مُلازَمَت کی پیش کَش ہوتی ہے جِسے وہ قَبول کرتا اور کَراچی کے لیے رَختِ سَفَر باندھ لیتا ہے۔
کَراچی نَوزائیدہ مَملِکَتِ پاکِستان کا دارُالحُکومَت ہے۔ بَٹوارے کے بَعد برٹش اِنڈیا کے مُختَلِف عِلمی و اَدَبی مَراکِز سے آنے والے بڑے بڑے اَدیب اور شاعِر یہاں جَمع ہو رہے ہیں۔ ریڈیو پاکِستان کے اَندر عَلَیحدہ سے اَدَب کی مُنفَرِد دُنیا آباد ہے۔
نَوجوان اَحمد شاہ کو پَشتو بولنے والے پِشاوَر کے ماحول سے کَراچی آنے کے باعِث رَواں اُردو بولنے میں کُچھ دِقَّت کا سامنا ہے، تاہم شاہِد اَحمد دِہلَوی، اَرَم لَکھنَوی اور سَیماب اَکبَر آبادی جیسے اَہلِ قَلَم کے دَرمِیان کام کرنے کا مَوقَع مِلنے کے سَبَب اُس کی اُردو گوئی نِکھرنے لگتی ہے۔
تاہم رَوشنیوں کے اِس شَہرِ کَراچی میں اَحمد شاہ اپنی ماں کے لیے سَخت اُداس رَہنے لگتا ہے؛ اُس کا دِن تو ریڈیو پاکِستان کَراچی کی روزمَرّہ کی مَصروفِیات میں کِسی طَور گُزر جاتا ہے، مَگَر رات کو ماں کی یاد اُسے سَخت بے قَرار کرتی ہے۔ اِس مُشکِل صُورتِ حال سے چُھٹکارے کے لیے وہ کوشِش کرکے اپنا تَبادَلہ کَراچی سے پِشاوَر کروا لیتا ہے۔
یوں اَحمد شاہ اُسی شَہر میں واپَس آجاتا ہے جہاں وہ اپنی تَعلیم اَدھوری چھوڑ کر گیا تھا۔ ریڈیو میں چَند جَہان دیدہ لوگ اُسے مَشوَرہ دیتے ہیں کہ اِسکرِپٹ رائٹنگ کا کام تو گَھر بَیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے، تَعلیم اَدھوری چھوڑ دینا قَطعی طَور پر نادانی ہوگی، لِہٰذا ہوسکے تو اپنی اَدھوری تَعلیم مُکَمَّل کرو۔
اَحمد شاہ دوبارہ کالِج کا رُخ کرتا ہے۔ گریجویشن اور ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو کے لیے اِسکرِپٹ لِکھنے کا سِلسِلہ بھی جاری رکھتا ہے۔ کُچھ عَرصے کے بَعد وہ ریڈیو پاکِستان میں پروڈیوسَر کے عُہدے پر تَرَقّی پا جاتا ہے۔
اَحمد شاہ کے قَریبی لوگ اور یار دوست جانتے ہیں کہ اُسے شاعِری کا شَغَف ہے۔ وہ اُردو میں نَظمیں اور غَزلیں کہتا ہے۔ پِھر ۱۹۵۸ء میں اِس نَوجوان شاعِر کا پَہلا مَجموعۂ کَلام ’تَنہا تَنہا‘ مَنظَرِ عام پر آتا ہے۔
اِسی مَجموعے کے ۹۲ویں صَفحے پر ایک غَزل چھپتی ہے:
تیرے ہوتے ہوئے مَحفِل میں جَلاتے ہیں چَراغ
لوگ کیا سادَہ ہیں سُورَج کو دِکھاتے ہیں چَراغ۔۔
اپنی مَحرُومی کے اِحساس سے شَرمِندَہ ہیں۔۔۔۔
خود نہیں رکھتے تو اَوروں کے بُجھاتے ہیں چَراغ
کیا خَبَر اُن کو کہ دامَن بھی بَھڑَک اُٹھتے ہیں
جو زَمانے کی ہَواؤں سے بَچاتے ہیں چَراغ۔
بستِیاں دُور ہُوئی جاتی ہیں رَفتہ رَفتہ۔۔۔۔۔۔۔۔
دَم بہ دَم آنکھوں سے چُھپتے چلے جاتے ہیں چَراغ
گو سِیَہ بَخت ہیں ہم لوگ، پَہ رَوشَن ہے ضَمیر
خود اَندھیرے میں ہیں دُنیا کو دِکھاتے ہیں چَراغ
بَستِیاں چاند سِتاروں کی بَسانے والو۔۔
کُرۂ اَرض پہ بُجھتے چلے جاتے ہیں چَراغ
ایسے بے دَرد ہُوئے ہم بھی کہ اَب گُلشَن پر
بَرق گِرتی ہے تو زِنداں میں جَلاتے ہیں چَراغ
ایسی تاریکِیاں آنکھوں میں بَسی ہیں کہ فَرازؔ۔۔۔
رات تو رات ہے ہَم دِن کو جَلاتے ہیں چَراغ
ریڈیو کی اِسی دُنیائے اَدَبی و مُوسیقی میں یہ غَزل کِسی طَور اپنے عَہد کے بڑے کلاسیکی گُلوکار اُستاد اَمانَت علی خاں تک پَہنچتی ہے۔ اور جَب وہ اِسے اپنی آواز دیتے ہیں تو یہ غَزل لَفظوں سے ایک جادُوئی آواز میں مُبَدَّل ہو جاتی ہے۔ اور پِھر یہ کہ، اِسی غَزل کے ریڈیو پاکِستان سے نَشر ہونے سے اِس نَوجوان شاعِر کے کَلام کو اُس زَمانے میں شُہرَت کا سَب سے مُؤَثِّر ذَریعہ مُیَسَّر آجاتا ہے۔ اور یہیں سے اَحمد شاہ کے نام کے ساتھ اَحمد فَراز کی پَہچان بھی دُور دُور تک پَہنچنے لگتی ہے۔ اور کَیسا عَجیب اِتِّفاق ہے کہ جِس غَزل نے اِس نَوجوان شاعِر کی پَہچان کو آواز دی، اُس کا اِستِعارَہ بھی چَراغ تھا:
تیرے ہوتے ہوئے مَحفِل میں جَلاتے ہیں چَراغ۔۔۔
گویا ریڈیو کے اِسٹوڈیو ہی میں اَمانَت علی خاں کی آواز کے ساتھ فَراز کی شُہرَت کا پَہلا چَراغ رَوشَن ہوا۔
۱۹۶۱ء میں اَحمد فَراز ریڈیو پاکستان کی مُلازمت چھوڑ دیتے ہیں اور وہ پشاور یونیورسٹی کے شُعبۂ اُردو میں اُستاد مُقرّر ہوجاتے ہیں۔ ۱۹۶۶ء میں اُن کا دوسرا مَجموعۂ کلام ’دَرد آشوب‘ مَنظرِ عام پر آتا ہے۔
اب اَحمد فَراز کا شُمار نئی نَسل کے پَسندیدہ شُعرا میں ہونے لگتا ہے۔ اُن کی شاعری اپنی شِناخت بنا چکی ہے اور اب وہ ریڈیو کے تَعارُف کے مُحتاج نہیں رہتے، مگر ریڈیو اور فَراز کا تَعلّق ابھی بھی خَتم نہیں ہوا۔
۱۹۷۰ء میں ریڈیو پاکستان مُلتان سے ناہید اَختر نامی ایک دُبلی پَتلی گُلوکارہ کی نئی آواز اُبھرتی ہے۔ خالد اَصغر کے ساتھ ’راگ مَلہار‘ میں ایک دوگانے سے اپنا فَنّی سَفر شروع کرنے والی یہ گُلوکارہ جلد ہی لاہور کی فِلمی دُنیا تک جا پہنچتی ہے۔
۱۹۷۵ء میں فِلم ’مَعصوم‘ کے لیے مُوسیقار خلیل اَحمد، ناہید اَختر کی آواز میں اَحمد فَراز کا یہ کلام مُنتخب کرتے ہیں:
یہ عالَمِ شَوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بُت ہے یا خُدا دیکھا نہ جائے
یہ کِن نَظروں سے تُو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے
ہَمیشہ کے لیے مُجھ سے بِچھڑ جا
یہ مَنظر بارہا دیکھا نہ جائے
غَلَط ہے جو سُنا، پَر آزما کر
تُجھے اے بے وَفا دیکھا نہ جائے
یہ مَحرومی نہیں، پاسِ وَفا ہے
کوئی تیرے سِوا دیکھا نہ جائے
یہی تو آشنا بنتے ہیں آخِر
کوئی ناآشنا دیکھا نہ جائے
یہ میرے ساتھ کیسی رَوشنی ہے
کہ مُجھ سے راستہ دیکھا نہ جائے
فَرازؔ اپنے سِوا ہے کون تیرا
تُجھے تُجھ سے جُدا دیکھا نہ جائے
وَقت ایک دائرہ مُکمّل کرتا ہے؛ ایک طرف وہ شاعِر جس نے اپنا اَدبی سَفر ریڈیو پاکستان سے شروع کیا، دوسری طرف وہ گُلوکارہ جسے ریڈیو پاکستان مُلتان نے پہلی مرتبہ سامِعین سے مُتعارف کرایا۔
۱۹۷۵ء میں یہ دونوں ہَستیاں ایک غزل کی صُورت میں ایک دوسرے سے آن ملتی ہیں۔ اب اَحمد فَراز اور ناہید اَختر، دونوں کا طُوطی بولنے لگتا ہے۔ ریڈیو پاکستان کا ہر اِسٹیشن اِس عَمل میں مُعاوِن رہتا ہے؛ اِس اِدارے کو یہ خُوشی حاصل ہے کہ اُس کے لگائے پَودے تَناوَر دَرخت بن رہے ہیں۔
۱۹۷۵ء کے بعد ہر نئے سال کے ساتھ ریڈیو پاکستان اور اَحمد فَراز کا رِشتہ مزید سے مزید مَضبوط ہونے لگتا ہے؛ بلکہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے پَہلو بہ پَہلو ہی رہتے ہیں۔ اُستاد اَمانت علی خاں اور ناہید اَختر کے علاوہ مَہدی حَسن، اِقبال بانو، غُلام علی، نُورجہاں اور کئی دوسری بڑی آوازوں میں سے جو کوئی اَحمد فَراز کا کلام گاتی ہے، ریڈیو پاکستان اُسے بلا توقف اپنے سامِعین تک پہنچاتا ہے۔ یوں فَراز ریڈیو کی مُلازمت سے تو الگ ہوجاتے ہیں، مگر اُن کی شاعری ریڈیو سے جُدا نہیں ہوپاتی۔
ریڈیو کی لَہروں پر کبھی اَحمد فَراز کی غزل کسی ناموَر گُلوکار کی آواز میں گونجتی ہے، کبھی مُشاعروں اور اَدبی پروگراموں میں خود فَراز کی آواز سامِعین تک پہنچتی ہے اور کبھی اُن کے فَن اور شَخصیت پر گُفتگو ہوتی ہے۔
جس اِدارے سے نوجوان سَیِّد اَحمد شاہ نے اپنے اَدبی سَفر کا آغاز کیا، اُس کے اَحمد فَراز بن جانے اور پھر اِس دُنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اُس اِدارے سے اُس کا رِشتہ قائم ہے۔
اِس اَمر کا اِس سے بڑا ثُبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ آج ریڈیو پاکستان نے اپنے دِیرینہ ساتھی، اَحمد فَراز کو اُن کی اَٹھارہویں بَرسی کے مَوقع پر یاد رکھا ہے۔
اَحمد فَراز کا اَصل نام سَیِّد اَحمد شاہ تھا۔ وہ ۱۹۳۱ء میں کوہاٹ میں پَیدا ہوئے۔ اُن کے والِد سَیِّد مُحمّد شاہ بَرق فارسی کے اُستاد اور شاعِر تھے، اِس لیے شِعر و اَدَب سے آشنائی اُنہیں گھر ہی سے مِلی۔ اِبتدائی تَعلیم کوہاٹ میں ہوئی اور اِسلامیہ ہائی اِسکول کوہاٹ میں زیرِ تَعلیم رہے۔ بعد میں اُن کا خاندان پِشاوَر مُنتقل ہوگیا۔
مَیٹرک کے بعد اَحمد فَراز ایڈورڈز کالج پِشاوَر کے طالِبِ عِلم بن گئے۔ اِسی زَمانے میں اُن کی شاعِری شروع ہوچکی تھی اور پِشاوَر کے اَدَبی حَلقوں میں نَوجوان اَحمد شاہ کی شِناخت ایک شاعِر کے طور پر بننے لگی تھی۔ بعداَزاں اُنہوں نے جامِعہ پِشاوَر سے اُردو اور فارسی میں ایم اے کیا۔
۱۹۴۹ء کے لگ بھگ، جب قِیامِ پاکستان کو ابھی دو بَرس ہی گُزرے تھے اور اَحمد شاہ ابھی کالج کے طالِبِ عِلم تھے، اُنہیں ریڈیو پاکستان میں اِسکرپٹ رائٹر کی مُلازمت کی پیش کَش ہوئی۔ پہلی تَقرّری کراچی میں ہوئی۔ کچھ عَرصے بعد اُنہوں نے اپنا تَبادلہ کراچی سے پِشاوَر کروا لیا۔ اپنی اَدھوری تَعلیم مُکمّل کرنے کے لیے اَحمد شاہ دوبارہ کالج پہنچ گئے۔ تَعلیم اور ریڈیو ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ وہ اِسکرپٹ لکھتے رہے اور بعد میں ریڈیو پاکستان پِشاوَر میں پروڈیوسر بھی ہوگئے۔
اِسی دَوران شاعِری بھی خاموشی سے اپنا راستہ بنا رہی تھی۔ ۱۹۵۸ء میں اَحمد فَراز کا پہلا شِعری مَجموعہ ’تَنہا تَنہا‘ شائع ہوا۔ ۱۹۶۱ء میں اُنہوں نے ریڈیو پاکستان کی مُلازمت چھوڑ دی اور دَرس و تَدریس کا شُعبہ اِختیار کیا۔ وہ جامِعہ پِشاوَر میں اُردو کے اُستاد مُقرّر ہوئے۔ یوں تَقریباً ایک دَہائی تک ریڈیو سے وابَستگی کے بعد اُن کی عَمَلی زِندگی کا ایک نیا دَور شروع ہوا، لیکن ریڈیو سے پَیدا ہونے والا اَدَبی رِشتہ خَتم نہیں ہوا۔
۱۹۶۶ء میں اُن کا دوسرا شِعری مَجموعہ ’دَرد آشوب‘ شائع ہوا۔ اِس مَجموعے پر اُنہیں پاکستان رائٹرز گِلڈ کا آدم جی اَدَبی اِنعام مِلا۔ اب اَحمد فَراز کا شُمار نئی نَسل کے نُمایاں اور مَقبول شاعِروں میں ہونے لگا تھا۔
اِس کے بعد اُن کے شِعری مَجموعے یکے بعد دیگرے سامنے آتے گئے۔ ۱۹۷۰ء میں ’نایافْت‘، ۱۹۷۱ء میں ’شَب خُون‘، ۱۹۷۲ء میں ’میرے خواب ریزہ ریزہ‘ اور ۱۹۷۶ء میں ’جاناں جاناں‘ شائع ہوئے۔
اِنہی بَرسوں میں اَحمد فَراز پاکستان نیشنل سینٹر سے وابَستہ ہوگئے اور اُس کے مَقامی سَربراہ کی حَیثیت سے خِدمات اَنجام دیں۔ ۱۹۷۶ء میں حُکومتِ پاکستان نے مُلک میں اَدَب اور اَدیبوں کی سَرپَرستی کے لیے اَکادَمی اَدَبیات پاکستان قائم کی تو اَحمد فَراز اِس نئے قَومی اَدَبی اِدارے کے پہلے سَربراہ مُقرّر ہوئے۔ بعد کے زَمانے میں اُنہوں نے قَومی اِدارۂ لوک وِرثہ اور نیشنل بُک فاؤنڈیشن سَمیت مُلک کے اَہم عِلمی، اَدَبی اور ثَقافتی اِداروں میں اَعلیٰ اِنتظامی ذِمّہ داریاں بھی نِبھائیں۔
اَفسر شاہی کا حِصّہ بننے کے باوُجود اَحمد فَراز کا تَخلیقی سَفر جاری رہا۔ بعد کے بَرسوں میں اُن کے مَزید شِعری مَجموعوں میں ’بے آواز گَلی کُوچوں میں‘ ۱۹۸۲ء، ’نابِینا شَہر میں آئینہ‘ ۱۹۸۴ء، ’یہ سَب میری آوازیں ہیں‘ ۱۹۸۵ء، ’پَس اَنداز مَوسم‘ ۱۹۸۹ء، ’خوابِ گُل پَریشاں ہے‘ ۱۹۹۴ء، ’غَزل بَہانہ کروں‘ ۱۹۹۹ء اور ’اے عِشق جُنوں پیشہ‘ ۲۰۰۷ء شامِل ہیں۔ ۱۹۹۴ء میں اُن کا مَنظوم ڈراما ’بودلک‘ بھی شائع ہوا۔ اُن کے شِعری سَرمائے کو ۲۰۰۴ء میں ’شَہرِ سُخَن آراستہ ہے‘ کے عُنوان سے کُلّیات کی صُورت میں یکجا کیا گیا۔
یوں فَراز کی شاعِری مُحبّت اور رُومان سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے عَہد کے سِیاسی اور سَماجی تَجرِبات کو بھی اپنے اَندر سَمیٹتی چلی گئی۔ مُحبّت، حُسن، ہِجر اور اِنسانی تَعلّقات کے بَیان نے اُن کی غَزل کو غَیر مَعمولی مَقبولیت بَخشی، جبکہ اُن کی مُزاحَمتی شاعِری نے اُن کی شَخصیت کا ایک دوسرا رُخ نُمایاں کیا۔ وہ زِندگی کے آخِری اَیّام تک پاکستان کے نُمائندہ شُعرا میں شُمار ہوتے رہے۔
حُکومتِ پاکستان نے اَحمد فَراز کی اَدَبی خِدمات کے اِعتراف میں اُنہیں ۲۰۰۰ء میں سِتارۂ اِمتِیاز اور ۲۰۰۴ء میں ہِلالِ اِمتِیاز سے نَوازا۔
اُردو غَزل کو نئی نَسل کی آواز دینے والے اَحمد فَراز ۲۵ اَگست ۲۰۰۸ء کو اِسلام آباد میں اِنتقال کرگئے۔ اُنہیں اِسلام آباد کے ایچ ایٹ قَبرِستان میں سُپردِ خاک کیا گیا۔
اَحمد فَراز کی شاعِری کا سَب سے نُمایاں وَصف اُس کی سادَگی، رَوانی اور بَراہِ راست دِل میں اُتر جانے والی کَیفِیّت ہے۔ اُنہوں نے غَزل کی کلاسیکی رِوایَت کو بَرقَرار رکھتے ہوئے اُسے اپنے عَہد کے نَوجوان کی زَبان اور اِحساس سے قَریب کردیا۔ اُن کے ہاں مُحبّت مَحض مَحبوب کے حُسن کی تَعریف نہیں بلکہ اِنتِظار، جُدائی، بے وَفائی، یاد، تَنہائی اور اِنسانی رِشتوں کی پَیچیدگیوں کا پُورا تَجرِبہ بن کر سامنے آتی ہے۔
اَحمد فَراز کے اَلفاظ عُموماً مانوس اور روزمَرّہ کی زَبان سے قَریب ہوتے ہیں، لیکن اِنہی سادَہ لَفظوں سے وہ ایسی کَیفِیّت پَیدا کردیتے ہیں جو قاری کو دِیر تک اپنے حِصار میں رکھتی ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ فَراز کے بَہت سے اَشعار شِعر و اَدَب کے باقاعدہ قاری سے نِکل کر عام آدمی کی گُفتگو اور یادداشت کا حِصّہ بن گئے۔
فَراز کی غَزل کا ایک اَہم حُسن اُس کی مُوسِیقِیّت بھی ہے۔ اُن کے مِصرَعوں میں لَفظوں کی نِشَست، بَحر کی رَوانی اور صَوتی آہَنگ ایسا ہے کہ بَہت سا کَلام پڑھتے ہوئے ہی گائے جانے کی صَلاحِیّت رکھتا مَحسوس ہوتا ہے۔ شاید اِسی لیے اُن کی غَزل کو گُلوکاروں نے بھی غَیر مَعمولی طور پر اَپنایا۔
اُستاد اَمانت علی خاں سے مَہدی حَسن، غُلام علی، اِقبال بانو اور ناہید اَختر تک مُختَلِف آوازوں میں فَراز کا کَلام مَقبول ہوا۔ اُن کی غَزلوں میں خَیال کی دِل کَشی کے ساتھ ایسی نَغمَگی بھی مَوجود ہے جو شِعر کو کِتاب کے صَفحے سے اُٹھا کر آواز کی دُنیا میں لے آتی ہے۔
فَراز کے ہاں مُحبّت کی شِدّت مَوجود ہے، مگر اِظہار میں عُموماً ایک وَقار اور شائِستگی قائم رہتی ہے؛ یہی وَصف اُن کی غَزل کو رُومانی ہونے کے باوُجود سَطحی جَذباتِیّت سے بچاتا ہے۔
اَحمد فَراز صِرف مُحبّت کے شاعِر بھی نہیں تھے۔ اُن کی شاعِری میں وَقت گُزرنے کے ساتھ اِحتِجاج، مُزاحَمَت اور اپنے عَہد کے سِیاسی و سَماجی حالات کا شُعور زیادہ نُمایاں ہوتا گیا۔ یہاں بھی اُن کا کَمال یہ ہے کہ وہ سِیاسی بات کو مَحض نَعرہ نہیں بننے دیتے۔
زِنداں، زَنجیر، شَہر، مَقتَل، چَراغ، گُلشَن اور اَندھیرا جیسے اِستِعارے فَراز کے ہاں ذاتی اور اِجتِماعی دونوں مَعنوں میں اِستِعمال ہوتے ہیں۔ مَحبوب سے جُدائی کا دُکھ کہیں وَطن اور مُعاشرے کے دُکھ سے مِل جاتا ہے اور فَرد کی بے بَسی کہیں پُورے عَہد کی بے بَسی کا اِستِعارہ بن جاتی ہے۔ یوں اُن کے یہاں رُومان اور مُزاحَمَت دو الگ دُنیائیں نہیں رہتیں بلکہ کئی مَقامات پر ایک دوسرے میں گُھل مِل جاتی ہیں۔
فَراز کی مَقبولِیّت کا ایک سَبب یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے رِوایَت اور جَدید حِسِّیّت کے دَرمیان ایک قابِلِ فَہم راستہ پَیدا کیا۔ اُن کی غَزل میں میر و غالِب سے چلی آنے والی اُردو غَزل کی لَفظِیات اور مَحبوب، ہِجر، وَصل، رَقیب اور وَفا جیسے رِوایَتی مَوضوعات مَوجود ہیں، لیکن اُن کے پیچھے بِیسویں صَدی کے اِنسان کا تَجرِبہ بولتا ہے۔
فَراز کا عاشِق صِرف مَحبوب کے کُوچے میں آہیں بھرنے والا رِوایَتی کِردار نہیں؛ وہ سَوال کرتا ہے، شِکوہ کرتا ہے، اپنی خُودداری کا اِظہار کرتا ہے اور ضَرورت پڑنے پر رِشتہ توڑ کر چلے جانے کا حَوصلہ بھی رکھتا ہے۔ اِسی لیے فَراز کی شاعِری نے خُصوصاً نَوجوان نَسل کو اپنی طَرف مُتَوَجِّہ کیا اور ہر آنے والی نَسل نے اُن کے اَشعار میں اپنے جَذبوں کی کوئی نہ کوئی صُورت تَلاش کرلی۔
اُن کے فَن کا شاید سَب سے بڑا مَحسَن یہی ہے کہ فَراز مُشکِل بات کو مُشکِل زَبان میں کہنے کے قائِل نہیں تھے۔ شِعر پہلی قِراءَت میں قاری کو اپنی طَرف کھینچتا ہے، لیکن دوبارہ پڑھنے پر اُس کے اَندر مَعنی کی دوسری تَہیں بھی دِکھائی دیتی ہیں۔ مُحبّت ہو یا جُدائی، دوستی ہو یا بے وَفائی، آمِرِیّت ہو یا آزادی کی خواہِش، فَراز اپنے قاری سے ایسے لَہجے میں بات کرتے ہیں جیسے کوئی شَخص سامنے بیٹھ کر اپنا دُکھ سُنا رہا ہو۔
اِسی بے تَکَلُّفی، مُوسِیقِیّت، رُومان، عَصری شُعور اور جَذبات کی سَچّائی کے اِمتِزاج نے اَحمد فَراز کو مَحض اپنے زَمانے کا مَقبول شاعِر نہیں رہنے دیا بلکہ اُن کی غَزل کو آنے والی نَسلوں تک پہنچنے کی قُوّت بھی عَطا کی۔
اَحمد فَراز نے بِچھڑنے کی بات اپنے ایک شِعر میں یوں کہی تھی:
اَب کے ہم بِچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں مِلیں
جِس طرح سُوکھے ہوئے پُھول کِتابوں میں مِلیں۔۔
مگر ریڈیو پاکستان اور فَراز کا رِشتہ کچھ ایسا ہے کہ یہاں بِچھڑنے کے بعد مُلاقات کے لیے خوابوں کا اِنتِظار بھی نہیں کرنا پڑتا۔
فَراز آج بھی کبھی اُستاد اَمانت علی خاں، کبھی مَہدی حَسن، کبھی اِقبال بانو، غُلام علی اور ناہید اَختر کی آواز میں ریڈیو کی نَشریات میں مِلتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں اَحمد فَراز سے مُتعلّق ۵۵۱ صَوتی مَواد مَحفوظ ہیں، جو اِس اِدارے کی فَراز دوستی کا بَیِّن ثُبوت ہیں۔
یوں فَراز ریڈیو سے رُخصت ضَرور ہوئے، جُدا کبھی نہیں ہوئے۔
ریڈیو پاکستان اپنے اِس دِیرینہ ساتھی اَحمد فَراز کی اَٹھارہویں بَرسی پر اُنہیں خَراجِ تَحسین پیش کرتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان