‘اَبھی ڈُھونڈ ہی رہی تھی، تُمہیں یہ نَظَر ہماری’
ایک ہَمہ جِہَت شَخصِیَّت کے مالِک شاعِر کی بَرسی پر خُصُوصی تَحرِیر
اِحسان دانِش کا شاگِرد ہونا اُن کا پہلا تَعارُف تھا۔ ۱۹۵۵ء میں اِسی تَعارُف کے ساتھ اُنہوں نے فِلمی گیت نِگاری کے ذریعے اپنے فَنّی سَفَر کا آغاز کیا۔ پھر ۱۹۵۹ء کی فِلم ‘راز’ میں زُبیدہ خانم کی آواز میں گایا گیا، اُن کا لکھا ہوا یہ گیت:
‘میٹھی میٹھی بَتِیوں سے جِیا نہ جَلا
جا رے بَلَم، تُجھے دیکھ لیا۔۔۔’
مَقبُول ہوا اور ریڈیو پاکستان کے اِسٹیشنوں سے نَشر ہونے لگا تو اِحسان دانِش کے اِس شاگِرد کا ایک دوسرا تَعارُف بھی قائِم ہوگیا کہ وہ گیت بھی خوب لکھتے ہیں—اور واقعی اُنہوں نے گیت خوب لکھے۔ بعد میں مَقبُول ہونے والے اُن کے گیتوں میں ‘اَبھی ڈُھونڈ ہی رہی تھی تُمہیں یہ نَظَر ہماری’ (فِلم: ‘بے وَفا’، ۱۹۷۰ء؛ آواز: نورجہاں) اور ‘تیرا سایہ جہاں بھی ہو سَجنا، پَلکیں بِچھا دُوں’ (فِلم: ‘گھرانا’، ۱۹۷۳ء؛ آواز: نَیّرہ نُور) خُصُوصِیَّت سے شامِل ہیں۔ نَیّرہ نُور کے گائے ہوئے اِسی گیت پر اُنہیں پہلا ‘نِگار ایوارڈ’ بھی مِلا۔
اِسی دَوران اُن کا ایک تیسرا تَعارُف بھی مُستَحکم ہو چکا تھا۔ وہ یہ کہ اِحسان دانِش کا مَقبُول فِلمی گیت لکھنے والا یہ شاگِرد سَرتاپا عِشقِ نَبویﷺ کا پَیکر بھی ہے؛ مُشاعروں اور نَعتِیّہ مَحفِلوں میں نَعت پڑھتا ہے تو ایسے دَرد، کَرب اور وارَفْتَگی کے ساتھ پڑھتا ہے کہ اِسٹیج ہی پر اُن کی آنکھوں سے آنسو ٹَپکنے لگتے ہیں۔
پھر ۱۹۷۰ء کی دَہائی میں اُن کا چوتھا اور مُنفَرِد تَعارُف بھی سامنے آیا؛ وہ یہ کہ اُنہوں نے وَطن اور پاکستانی پَرچم کی مَحَبَّت میں ایسے لازَوال مِلّی نَغمے لکھے جو صِرف اُسی دَہائی میں مَقبُول نہیں ہوئے بلکہ آنے والی کئی دَہائیوں تک قَومی تَہواروں، یَومِ آزادی اور دوسرے قَومی دِنوں پر سُنے اور سُنوائے جاتے رہے۔ ‘اِس پَرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں’ (۱۹۷۵ء، آواز: نَیّرہ نُور اور ساتھی، مُوسِیقی: ایم اَشرف) اور ‘یہ وَطن تُمہارا ہے، تُم ہو پاسباں اِس کے’ (۱۹۷۸ء، آواز: مَہدی حَسن، مُوسِیقی: نِثار بَزمی) واقعی ایسے مِلّی نَغمے ہیں جِن میں وَطن سے مَحَبَّت، قَومی یَک جِہتی اور پاکستانی پَرچم سے عِشق نُمایاں ہے۔ یہ نَغمے کئی نَسلوں کے خُون کو گَرماتے اور اُن کے دِلوں میں وَطن کی مَحَبَّت جَگاتے رہے۔
اُن کی شَخصِیَّت کا پانچواں اَہم تَعارُف ریڈیو پاکستان لاہور سے اُن کی خُصُوصی نِسبت تھی۔ اُن کا نَعتِیّہ کَلام خُود اُن کی آواز میں ریڈیو سے نَشر ہوتا رہا، اُن کی غَزَلیں سامِعین تک پہنچتی رہیں اور اُن کے فِلمی اور مِلّی گیت بھی ریڈیو پاکستان کی نَشریات کا مُستَقِل حِصّہ بنے رہے۔ نورجہاں کی آواز میں گائی گئی اُن کی یہ نِہایَت مَقبُول غَزَل:
‘رات پھیلی ہے تِرے سُرمَئی آنچل کی طرح
چاند نِکلا ہے تُجھے ڈُھونڈنے پاگل کی طرح۔۔۔’
لاہور ٹیلی وژن کے پروگرام ‘تَرنُّم’ میں پیش کی گئی، تاہم بعد میں ریڈیو اور ٹیلی وژن سے بار بار سامِعین تک پہنچتی رہی اور آج بھی شَوق سے سُنی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کئی نَغمے خُصُوصی طور پر ریڈیو پاکستان کے لیے بھی لکھے، جِن میں مَہناز کی آواز میں پیش کیا گیا ‘یہ اَمن کا پَرچم’ خُصُوصِیَّت سے قابِلِ ذِکر ہے۔ یُوں وہ اپنی آواز، اپنے کَلام اور اپنے گیتوں کے ذریعے طَوِیل عَرصے تک ریڈیو پاکستان لاہور کے ساتھ جُڑے رہے۔
عُمر کے آخری حِصّے میں اُن کی بَصارت بہت کم ہوگئی تھی اور اُنہیں چلنے پِھرنے کے لیے سَہارے کی ضَرُورت پڑتی تھی، لیکن لاہور کے عِلمی، اَدَبی اور ثَقافَتی حَلقوں میں اُن کی تَکرِیم اور اِعتبار بَدَستور قائِم رہا۔
آج اِحسان دانِش کے اِسی شاگِرد، مَقبُول فِلمی نَغمہ نِگار، دَرْدمَند نَعت گو شاعِر، وَطن اور پَرچم سے مَحَبَّت کرنے والے مِلّی نَغمہ نِگار اور ریڈیو پاکستان لاہور سے گہری نِسبت رکھنے والے اِسی ہَمہ جِہَت شاعِر کَلِیم عُثمانی کی چھبیسویں بَرسی ہے۔
کَلِیم عُثمانی آج ہی کے دِن، ۲۸ اگست ۲۰۰۰ء کو ۷۲ بَرس کی عُمر میں لاہور میں اِس جَہانِ فانی سے رُخصَت ہوگئے تھے۔
کلیم عُثمانی کا اصل نام اِحتشام الٰہی اور تخلّص ‘کلیمؔ’ تھا۔ اُن کے والد فضل الٰہی بیکل بھی اپنے عہد کے اچھے شاعر تھے، چنانچہ شاعری میں اِبتدائی اِصلاح اُنہوں نے اپنے والد ہی سے لی۔ وہ ۲۸ فروری ۱۹۲۸ء کو دیوبند، ضلع سَہارن پور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے خاندان کا تعلق معروف عالِمِ دِین مولانا شبیر احمد عثمانی کے خاندان سے بتایا جاتا ہے۔
تَقسیمِ ہند کے بعد ۱۹۴۷ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہِجرت کر کے لاہور آ گئے۔ یہاں اُنہوں نے ممتاز شاعر احسان دانش کی شاگردی اختیار کی اور مشاعروں میں اپنا کلام تَرَنُّم سے سُنا کر اَدبی حلقوں میں پہچان بنائی۔ تلاشِ معاش کے دوران اُنہوں نے کچھ عرصہ لاہور میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی میں ملازمت کی۔ کمپنی نے اپنا لاہور کا دفتر بند کر کے ملازمین کو کراچی منتقل ہونے کی پیش کش کی تو اُنہوں نے لاہور چھوڑنے کے بجائے ملازمت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اِس کے بعد ایک طویل عرصے تک قَلَم مزدوری ہی اُن کا بنیادی ذریعۂ معاش رہی۔
وہ ایک عرصے تک روزنامہ ‘امروز’ میں قِطعہ لکھتے رہے اور بعد میں روزنامہ ‘تجارت’ کے اِداریے بھی تحریر کیے۔ کچھ عرصہ سروس انڈسٹریز کے اِشتہاری ادارے ‘ایگزبٹس لمیٹڈ’ سے بھی وابستہ رہے۔ مشاعروں میں شرکت، فلموں کے لیے گیت نگاری اور ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے لیے غزلیں، تَرَانے اور مِلّی نغمے لکھنا بھی اُن کے ذرائعِ آمدن میں شامل تھے۔
اُنہوں نے ۱۹۵۵ء میں فلم ‘انتخاب’ سے باقاعدہ فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ فلمی گیتوں کے علاوہ اُنہوں نے نعتیں اور غزلیں بھی لکھیں۔ اُن کے نعتیہ کلام کا مجموعہ ‘ماہِ حرا’ (۲۰۰۱ء، بعد از وفات) اور مجموعۂ غزلیات ‘دیوارِ حرف’ (۱۹۸۵ء) کے نام سے شائع ہوئے۔
کلیم عُثمانی کا شمار اُن خوش نصیب شعرا میں ہوتا ہے جن کا تخلیق کردہ نعتیہ کلام اتنا کثیر تھا کہ وہ ایک مکمل نعتیہ مجموعۂ کلام کی شکل میں شائع ہوا۔ اُن کی نعتیہ شاعری عجز، عقیدت، احترام اور عشقِ رسولﷺ کی گہری وارَفتگی کا مظہر ہے۔ وہ پُرشُکوہ اور ثقیل الفاظ کے بجائے سادہ، رواں اور دل نشیں زبان میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں نعت محض لفظی مَدح نہیں رہتی بلکہ ایک دردمند اور محبت سے سرشار دل کی آواز بن جاتی ہے۔ اُن کا یہ شعر اِسی سادگی اور وارَفتگی کا آئینہ دار ہے:
ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
اُن پر نثار جان و دل، اُن پر دُرود اور سلام۔۔۔۔۔
غزل گوئی میں بھی کلیم عُثمانی کئی حوالوں سے منفرد رہے۔ اُن کی غزلیات میں کلاسیکی رومان، ہجر کی اُداسی، ذات کی تنہائی اور اپنے عہد کی بے چینی ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ اُن کی غزل کا بنیادی وصف سادگی، نغمگی، سہلِ ممتنع اور پیکرتراشی ہے۔ اُن کے الفاظ بظاہر نہایت مانوس اور عام فہم ہوتے تھے، مگر اُن کے اندر جذبے اور معنی کی کئی تہیں موجود رہتی تھیں۔ وہ داخلی تنہائی جیسے گہرے تجربے کو بھی نہایت سادہ شعر میں سمو دیتے تھے:
ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہت۔۔۔
پھر بھی رہتا ہے ہمیں احساسِ تنہائی بہت
کلیم عُثمانی کے فلمی گیتوں کی زبان سادہ، رواں اور روزمرّہ زندگی سے قریب تھی، لیکن اُن کے خیالات میں تازگی اور انفرادیت پائی جاتی تھی۔ وہ مانوس لفظوں سے نئے اور اَن چھوئے خیال پیدا کرتے اور فلمی صورتِ حال، کردار کے جذبے اور گلوکار کی آواز کو سامنے رکھ کر ایسے مصرعے تخلیق کرتے تھے جو پہلی سماعت ہی میں دل پر اثر کرتے تھے۔ اُن کے گیتوں میں الفاظ دُھن پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ موسیقی کے ساتھ بہتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ یہی وصف اُن کے گیتوں کو عوامی مقبولیت کے ساتھ ادبی وقار بھی عطا کرتا ہے۔
کلیم عُثمانی کے گیتوں کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی آوازوں نے اُنہیں گایا۔ مبارک بیگم اور احمد رشدی نے اُن کا دوگانا ‘کاہے جلانا دل کو، چھوڑو جی غم کے خیال کو’ گایا، جب کہ زبیدہ خانم کی آواز میں ‘میٹھی میٹھی بتیوں سے جِیا نہ جلا’ مقبول ہوا۔ رونا لیلیٰ نے ‘اُن کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا’، نورجہاں نے ‘پیار کر کے ہم بہت پچھتائے’ اور ‘ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تُمہیں یہ نظر ہماری’ کو اپنی آواز سے لازوال بنا دیا۔ احمد رشدی کی آواز میں ‘مستی میں جھومے فضا، گیت گائے ہوا’ اور مجیب عالم کی آواز میں ‘کوئی جا کے اُن سے کہہ دے، ہمیں یوں نہ آزمائیں’ بھی بے حد پسند کیے گئے۔
کلیم عُثمانی کے متعدد گیت مسعود رانا نے بھی گائے، جن میں ‘یہ مانا کہ تُم دل رُبا، نازنین ہو’، ‘میرا خیال ہو تُم، میری آرزو تُم ہو’، ‘ناراض نہ ہو تو عرض کروں، دل تُم سے محبت کرتا ہے’ اور ‘میری دُعا ہے کہ تُو بن کے ماہتاب رہے’ خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔
مہدی حسن کی آواز میں ‘تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے’ نے مقبولیت کے آسمان کو چھوا۔ مہدی حسن ہی کی آواز میں ‘لاگی رے لاگی، لگن یہی دل میں’ اور ‘خاموش ہیں نظارے، اِک بار مسکرا دو’ جیسے گیت بھی بہت مقبول ہوئے۔
نیرہ نور کا گایا ہوا ‘تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا، پلکیں بچھا دوں’ کلیم عُثمانی کے فَنّی سفر کا ایک یادگار سنگِ میل ثابت ہوا۔
کلیم عُثمانی لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں واقع کریم بلاک قبرستان میں مدفون ہیں۔ وہ نگاہوں سے اوجھل ضرور ہوگئے، مگر دلوں سے نہیں۔
لاہور کے کسی نعتیہ مشاعرے میں نعت پڑھتے ہوئے جب کسی شاعر کی آنکھوں سے آنسو جھلکتے ہیں تو اہلِ لاہور کو بے اختیار کلیم عُثمانی یاد آ جاتے ہیں۔
کسی رات ریڈیو پاکستان سے نورجہاں کی آواز میں اُن کی غزل ‘رات پھیلی ہے تِرے سُرمئی آنچل کی طرح’ نشر ہوتی ہے تو وہ اپنے چاہنے والوں کو بہت یاد آتے ہیں۔
قومی تہواروں پر جب ‘اِس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں’ کی آواز فضا میں گونجتی ہے تو ایک پوری نسل کے دل میں اُن کی یاد جاگ اُٹھتی ہے۔
تب یوں گمان ہوتا ہے جیسے کلیم عُثمانی کہیں پاس بیٹھے اپنا ہی ایک مصرع زیرِ لب دہرا رہے ہوں:
“ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی، تُمہیں یہ نظر ہماری۔۔۔”
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان