Sunday, 07 June 2026, 08:38:43 am
 
مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض بھارت کی مسلمانوں کیخلاف مذہبی تعصب پرمبنی کارروائیاں عروج پر
May 31, 2026

بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں دینی اور تعلیمی اداروں کے خلاف حالیہ کارروائیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) نے سرینگر اور شوپیاں میں تین مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں انجام دیں۔

رپورٹ کے مطابق این آئی اے نے شوپیاں میں واقع جامعہ سراج العلوم میں بھی کارروائی کی۔ یہ ادارہ ان تعلیمی مراکز میں شامل ہے جنہیں بھارتی حکومت پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق شوپیاں کے علاقے امام صاحب میں واقع ایک اسکول کی بھی تلاشی لی گئی، جبکہ مرکزی ایجنسی کی ایک اور ٹیم نے مولو چترگام میں جماعت اسلامی کے سابق سربراہ شہزادہ اورنگزیب کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سرینگر کے لال بازار علاقے میں واقع جامعہ البنات میں بھی تلاشی کی کارروائی کی گئی، جس پر مقامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔

ماہرین اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دینی اور تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائیاں مذہبی آزادی، تعلیم اور شہری حقوق سے متعلق سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال اور سخت سکیورٹی اقدامات کے ذریعے سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے الزامات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیں اور انسانی حقوق سے متعلق سامنے آنے والے خدشات اور شکایات پر توجہ دیں۔