'میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا'
نوجوان نسل میں مقبول شاعر جون ایلیا کی شخصیت اور شاعری کا تذکرہ
(برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر)
وہ حقیقی معنوں میں ایک مجموعۂ اضداد تھے؛ اُن میں ضدّین کچھ اِس طرح سے جمع ہو چکی تھیں کہ الامان! اُن کی ذات اور سخُن کو بنیاد بنا کر اجتماعِ ضدّین کے اِس دلچسپ موضوع پر ایک مکمل کتاب لکھی جا سکتی ہے، مگر پھر کبھی سہی۔
چلیے، آج کے دن کی مناسبت سے ایک مختصر مضمون کی حد تک تو اُن کی زندگی اور فن میں ضدّین کے اجتماع کے معاملے کو ہلکا سا چھیڑا جاسکتا ہے ۔ اُن کی برسی کے دن اُن کے چاہنے والوں کیلئے کچھ نہ کچھ تو نیا لکھنا بنتا ہی ہے۔
وہ خود کو (بجا طور پر) میر و غالب کے پائے کا شاعر اور اُنہی کی محفل کا بندہ سمجھتے تھے۔ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں:
جونؔ اُٹھتا ہے، یوں کہو، یعنی
میرؔ و غالبؔ کا یار اُٹھتا ہے۔۔
(بحوالہ: کلیاتِ جون ایلیا، ص: ۳۴۳)
اپنے اِسی تفاخر، یعنی میر و غالب کے قافلے کا فرد ہونے کے دعوے کی تائید میں ، اُنہوں نے اپنے ایک نثری مضمون میں اپنا تعارف ایک ایسے گھرانے کے فرد کے طور پر کرایا جو پشت در پشت شعر و سخن اور علم و ادب کا وارث و دلدادہ چلا آ رہا ہے:
“شاعری، تاریخ دانی، علم و ادب کا سلسلہ ہمارے خاندان میں پشت ہا پشت سے چلا آ رہا ہے۔ میرے بابا علامہ سید شفیق حسن ایلیا چار بھائی تھے اور چاروں کے چاروں شاعر تھے۔
کیسے سوختہ بخت لوگ تھے وہ بھی! ماشاءاللہ، میرے دادا پر دادا اور اُن کے دادا اور پردادا بھی شاعر واقع ہوئے تھے۔”(بحوالہ: جون ایلیا، فرنود، مرتبہ از خالد احمد انصاری، لاہور: الحمد پبلی کیشنز، ۲۰۱۶ء)
تاہم اپنے اِس ذاتی اور خاندانی تفاخر کے برعکس، اپنی شاعری کے بارے میں جون ایلیا سے منسوب یہ قول بھی دیکھیے:
“اپنی شاعری کا جتنا منکر میں ہوں، اتنا منکر میرا کوئی بدترین دشمن بھی نہ ہوگا۔ کبھی کبھی تو مجھے اپنی شاعری بری، بے تکی لگتی ہے، اِس لیے اب تک میرا کوئی مجموعہ شائع نہیں ہوا اور جب تک خدا ہی شائع نہیں کرائے گا، اُس وقت تک شائع ہوگا بھی نہیں۔” (بحوالہ: تنویر احمد، ’جون ایلیا: محبوب سے براہِ راست مخاطب ہونے والا شاعر‘، قومی آواز، ۸ نومبر ۲۰۱۷ء)
جون ایلیا کی زندگی میں اُن کا صرف ایک مجموعۂ کلام بعنوان ‘شاید’ شائع ہوا تھا، وہ بھی لوگوں کے اصرار پر۔ ایک طرف میر و غالب سے اپنے یارانے اور پشت ہا پشت سے شاعروں کے خاندان سے اپنی نسبت کا اظہار، دوسری طرف اپنے ہی کلام کو برا اور بے تُکا کہنا اور اُسے شائع کروانے سے پہلو تہی برتنا، یہ ضدّین کا اجتماع نہیں تو اور کیا ہے؟
اب اُن کی شخصیت کی طرف آتے ہیں۔ کسی مہذب آدمی کے پتلون کے بٹن لگانا بھول جانے پر خفا ہوئے اور بٹن لگانے کو تہذیب اور ارتقا کی علامت گردانتے ہوئے، اپنے ایک شعر میں کہا:
مُہَذَّب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا۔۔۔
کہ اِرتِقا ہے عِبارَت بٹن لگانے سے
(بحوالہ: جون ایلیا، ‘یعنی’، ص :۹۳)
مگر خود، زندگی بھر، اپنی وضع قطع اور لباس کے معاملے میں اچھے خاصے غیر روایتی رہے؛ وہ لمبے بال رکھتے، گرمیوں میں کمبل اوڑھ کر نکلتے، رات کے وقت دھوپ کا چشمہ لگاتے اور کھڑاؤں پہن کر دُور دُور تک لوگوں سے ملنے چلے جاتے تھے۔ ایک گرمی کی رات مشاعرے میں اوورکوٹ اور چشمہ پہن کر آنے کا ذکر اُن کے قریبی دوست شکیل عادل زادہ نے بھی کیا ہے۔
بٹن لگانا بھول جانے والے کو غیر مہذب قرار دینے والا شاعر اپنی وضع قطع اور لباس میں کسی بھی روایت کا پابند نہ تھا؛ یہ اُس کی ذات میں جمع ہونے والا اضداد پن نہیں تو اور کیا ہے؟
وہ شَدِید خَلْوَت پسند اور آدم بیزار تھے۔ اُن کی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا کہ وہ دس برس کے لگ بھگ اپنے گھر کے نِیم تاریک کمرے میں سمٹ کر رہ گئے۔ اپنے شعری مجموعے ’شاید‘ کے دیباچے ’نیازمندانہ‘ میں اپنی اِس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: “مجھے روشنی سے، آوازوں سے اور لوگوں سے ڈر لگتا تھا۔”
گوشہ نشینی، مردم بیزاری اور آس پاس کے ماحول سے لاتعلقی کے اِسی نقص نے زاہدہ حنا کے ساتھ اُن کے ازدواجی رشتے پر بھی گہرا اثر ڈالا؛ بالآخر دونوں الگ ہو گئے۔ ایک معقول عورت کا گھر، اُن کی بلا وجہ کی از حد تنہائی پسندی کی عادت کی بھینٹ چڑھ گیا۔
مگر کسی مشاعرے یا ادبی محفل میں اُن کا رنگ ہی اور ہوتا۔ اُنہیں دیکھ کر گمان گزرتا کہ ان جیسا ملنسار آدمی شاید ہی کوئی ہو۔ وہ لپک لپک کر لوگوں کے گلے ملتے، چند ایک کے تو ماتھوں پر بوسے بھی ٹکا دیتے۔ ایک مشاعرے کے شروع ہونے سے پہلے وہ ایک شاعر سے اس قدر تپاک سے ملے کہ اُس کے ماتھے پر بوسہ دینے کے بعد اپنی بانہیں اُس کے گلے میں ڈالیں اور پھر اُچھل کر اپنی دونوں ٹانگیں اُس کی کمر کے گرد لپیٹ دیں۔ یہ تو شُکرِ خدا، جون ایلیا کا وزن کم تھا، ورنہ دونوں شاعر پہلو بہ پہلو، دھڑام سے زمین پر آ گرتے۔
مشاعرے میں شعر پڑھتے پڑھتے وہ حاضرین میں سے چیدہ لوگوں کے نام پُکار کر اُن کی خیریت بھی پوچھ لیتے اور اُن سے بے تکلفی سے مخاطب ہوتے تھے۔ اگر دو سامعین آپس میں بات کرنے لگتے تو اُن کے نام لے کر وہیں ٹوک دیتے۔ ایک مشاعرے میں جون مائیک پر شعر پڑھ رہے تھے کہ مخمور سعیدی کو کسی سے محوِ گفتگو دیکھا۔ بلند آواز سے بولے:
’’مخمور! شعر سنو، ورنہ تمہیں گولی مار دوں گا۔‘‘
(بحوالہ: ڈاکٹر نیہا اقبال، جون ایلیا: حیات اور شاعری، کراچی: ورثہ پبلی کیشنز، ۲۰۱۹ء)
لیکن دوسری طرف اپنے اہلِ خانہ، یہاں تک کہ اپنی سگی اولاد کے معاملے میں بھلکڑ پن کا یہ عالم تھا کہ اُن کی بیٹی فینانہ فرنام کے مطابق، جون اپنی بیٹیوں کی عمر، جماعت اور سالگرہ تک بھول جاتے تھے اور اُنہیں اپنی بھتیجیوں کے نام سے پکار بیٹھتے تھے۔ (بحوالہ: فینانہ فرنام، ’’ابو سے میرا رشتہ کیوں اور کیسے ٹوٹا؟‘‘، نقل از: بادبان، ڈیجیٹل ایڈیشن)
مشاعروں میں اپنے سامعین تک کے نام یاد رکھنے والا شاعر گھر میں اپنی بیٹیوں کے نام بھول جائے، اِس سے بڑھ کر اجتماعِ اضداد کیا ہوگا؟
آج اِسی مَجموعۂ اَضداد شخصیت جون ایلیا کی چَوبیسویں بَرسی ہے۔ وہ ۲۰۰۲ء میں، آج ہی کے دِن، مُلکِ عَدَم کے راہی ہوئے تھے۔ سَخی حَسن کے قَبرستان میں آسودۂ خاک یہ شاعر اپنی زندگی میں اِس دَرَجے مَعرُوف نہ تھا جِس دَرَجے آج ہے۔ قُدرت نے اُسے بَعد اَز مَرگ شُہرت و ناموَری عطا کر کے گویا اُس کے مَجموعۂ اَضداد ہونے ہی کے وَصف پر مہرِ تَصدیق ثبت کی ہے۔
جُون ایلیا ۱۴ دسمبر ۱۹۳۱ء کو اُتر پردیش کے شہر اَمروہہ کے ایک عِلمی و اَدَبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ( باایں سبب وہ مُشاعروں میں تَفاخر کے ساتھ اپنے اَمروہوی ہونے کا تذکرہ بھی کرتے رہے)۔ اُن کے والد علّامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی شاعر اور عالم تھے۔ گھر میں کتابوں، زبانوں اور عِلمی مباحث کا ماحول تھا۔اسی لئے اپنے ایک شعر میں کہا:
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں۔۔۔
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
جون نے اَمروہہ کے مدارس میں اِبتدائی تعلیم پائی، جہاں اُردو، عربی اور فارسی سیکھیں۔ درسی کتابوں سے اُنہیں زیادہ دِل چسپی نہ تھی، مگر بعد کے برسوں میں فلسفے، مَنطِق، تاریخ اور مذہب کے مُطالَعے میں گہری دِل چسپی لی۔ وہ انگریزی، سنسکرت، پہلوی اور عبرانی زبانوں سے بھی واقف تھے۔
بٹوارے کے بعد جون ایلیا کے تینوں بڑے بھائی پاکستان آگئے۔ اُن کے سب بڑے بھائی رئیس امروہوی شاعر و صحافی، منجھلے سید محمد تقی فلسفی و صحافی اور اُن کے بعد والے سید محمد عباس ادبی رسالے ’اِنشا‘ کے مُدیر تھے۔ تاہم وہ اپنے والدین اور بہن کے ساتھ اَمروہہ ہی میں رہے۔
والدین کے اِنتقال کے بعد ۱۹۵۷ء میں جون ایلیا بھی پاکستان ہجرت کر کے کراچی پہنچے اور گارڈن ایسٹ کی مانک جی اسٹریٹ پر اپنے بھائیوں کی کوٹھی میں رہنے لگے۔ کراچی میں رئیس امروہوی نے اُنہیں ادبی رسالے ’اِنشا‘ سے وابستہ کیا، جہاں وہ اداریے لکھتے تھے۔ بعد میں یہی رسالہ ’عالمی ڈائجسٹ‘ کے نام سے شائع ہونے لگا۔ ’عالمی ڈائجسٹ‘ کی اشاعت بند ہونے کے بعد جون نے ’روشن خیال‘ کے نام سے ماہنامہ بھی جاری کیا۔ وہ ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۸ء تک اسماعیلیہ ایسوسی ایشن کے شعبۂ تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے، اور اس کے بعد اردو ترقی بورڈ سے منسلک ہوئے۔ وہاں اُنہوں نے اردو لغت کی ترتیب و تدوین میں اہم کردار ادا کیا۔
۱۹۷۰ء میں جون ایلیا نے ادیبہ زاہدہ حنا سے شادی کی۔ اُن کے تین بچے ہوئے: دو بیٹیاں، فینانہ فرنام اور سحینا (سوہینا) ایلیا، اور ایک بیٹا، سید زریون ایلیا۔ بعد میں دونوں کا ازدواجی رشتہ علیحدگی پر ختم ہوا۔ ۲۰۰۰ء میں حکومتِ پاکستان نے اُنہیں ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی عطا کیا۔
جون کے بڑے بھائی رئیس امروہوی ۲۲ ستمبر ۱۹۸۸ء کو کراچی میں اپنے گھر پر قتل کر دیے گئے تھے۔ بھائی کا یہ صدمہ تادم مرگ اُن کے ساتھ رہا؛ ایک روایت کے مطابق وہ اکثر رئیس امروہوی کی قدِ آدم تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر رو پڑتے تھے۔
آخری برسوں میں بیماری اور تنہائی نے جون ایلیا کو گھیرے رکھا۔ ۸ نومبر ۲۰۰۲ء کو کراچی میں اُن کا انتقال ہوا۔ اگلے روز اُنہیں سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا؛ وہ اپنے دونوں بھائیوں، رئیس امروہوی اور سید محمد تقی، کی قبروں کے پہلو میں مدفون ہیں۔
جون ایلیا کا قَلَم بڑا زَرخیز تھا۔ وہ نَظم اور نَثر دونوں پر یکساں دَسترس رکھتے تھے۔ اردو زبان و ادب کے نقادوں کو اسی لئے بسا اوقات اُن کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل پڑ جاتا ہے کہ وہ بڑے نَثر نِویس تھے یا بڑے شاعر۔
جون ایلیا کے پہلے شعری مجموعے ’شاید‘ کا خصوصی ایڈیشن ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا، جب کہ اُس کا عوامی ایڈیشن ۱۹۹۱ء میں آیا۔ یہ اُن کی زندگی میں شائع ہونے والا اُن کا پہلا اور آخری مجموعۂ کلام تھا۔ اِسی میں اُن کا فنِ نَثر نِگاری بھی کُھل کر سامنے آتا ہے کیونکہ اسی مجموعہ کلام کے مقدمے میں انہوں نے نثر نویسی کے بھی بڑے جوہر دکھائے ہیں۔
جون ایلیا کا دوسرا مجموعہ ’یعنی‘ ۲۰۰۳ء میں، اُن کی وفات کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ پھر خالد احمد انصاری کی تدوین سے ’گمان‘ (۲۰۰۴ء)، ’لیکن‘ (۲۰۰۶ء) اور ’گویا‘ (۲۰۰۸ء) شائع ہوئے۔ اِس سلسلے میں بعد کا اضافہ ’کیوں‘ ہے، جو غیر مطبوعہ کلام پر مشتمل چھٹے مجموعے کے طور پر ۲۰۲۴ء میں سامنے آیا۔
جون ایلیا کے مختلف مضامین اور اِنشائیے، جو مدتوں رسائل میں بکھرے رہے تھے، اُنہیں خالد احمد انصاری نے جمع و مُرتّب کرکے ’فرنود‘ کے نام سے ۲۰۱۲ء میں شائع کروایا، اور یہی اُن کا بڑا نَثری سرمایہ قرار پاتا ہے۔
جون ایلیا کی شاعری پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اس مضمون میں اُن کے شعری محاسن پر مزید کچھ لکھنا محض تکلف ہی قرار پائے گا۔ تاہم لکھے بنے چارہ بھی نہیں۔ اُن کی برسی کے دن اُن کے شعری اعجاز پر کچھ نہ کچھ لکھنا بھی بہرحال بنتا ہی ہے ۔
جون ایلیاکے ہاں عِشق کا تَجرِبہ مَحض مَحبوب کی تَعریف یا وِصال و ہِجر کی رَوایتی کہانی نہیں رہتا، بلکہ اُن کے ہاں عاشق کی اَنا، اِظہار سے گُریز، مَحبوب سے بَراہِ راست گُفتگو اور اپنی ذات سے مُکالمہ وغیرہ—یہ سب مل کر مَحَبَّت کا ایک اَلگ سانچا تَرتیب دیتے ہیں۔ اُن کے ہاں سادہ اور روزمَرّہ لفظوں میں شروع ہونے والی بات بسا اوقات نئے رنگ اور نئے رُخ اِختیار کرتی ہے۔
نَیا اَک رِشتہ پَیدا کیوں کریں ہَم
بِچھڑنا ہے تو جَھگڑا کیوں کریں ہَم
خَموشی سے اَدا ہو رَسمِ دُوری
کوئی ہَنگامہ بَرپا کیوں کریں ہَم
یہ کافی ہے کہ ہَم دُشمن نہیں ہیں
وَفاداری کا دَعویٰ کیوں کریں ہَم
جون ایلیا کی شاعری میں ایک باطنی کَشْمَکَش کی کیفیت مسلسل بھی سامنے آتی ہے؛ وہ تنہائی کی شکایت کرتے ہیں، اپنی ذات سے رنجیدہ نظر آتے ہیں، شکست اور بے یقینی کا دُکھڑا بیان کرتے ہیں، مگر اِس کے باوجود اُن کے ہاں اُمید کی رَمق بھی بہرحال موجود رہتی ہے۔ اِسی طرح وہ اپنے دُکھوں کا ذمّہ دار خود کو ہی ٹھہراتے اور اپنی ذات ہی کو سوالوں کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ اِسی خود احتسابی سے اُس کی تلخی میں ایک اِنسانی کمزوری اور بے باکی پیدا ہوتی ہے۔
حال یہ ہے کہ خواہشِ پُرسشِ حال بھی نہیں
اُس کا خیال بھی نہیں، اپنا خیال بھی نہیں
اے شَجَرِ حیاتِ شوق، ایسی خَزاں رَسیدگی
پوششِ بَرگ و گُل تو کیا، جِسم پہ چھال بھی نہیں
مجھ میں وہ شَخص ہو چکا جس کا کوئی حِساب تھا
سُود ہے کیا، زِیاں ہے کیا، اُس کا سُوال بھی نہیں
مَست ہیں اپنے حال میں دِل زَدگاں و دِلبَراں
صُلح و سَلام تو کُجا، بَحث و جِدال بھی نہیں
تو مِرا حَوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے
شَوقِ کَمال بھی نہیں، خَوفِ زَوال بھی نہیں
خَیمہ گاہِ نِگاہ کو لُوٹ لیا گیا ہے کیا
آج اُفُق کے دَوش پر گَرد کی شال بھی نہیں
جون ایلیا کے یہاں فِکر اور جَذبے کے بھی نئے مَعانی وَضع ہوتے ہیں؛ اُن کے ہاں فِکر کسی خشک بحث کا نام نہیں اور جَذبہ محض نعرے کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کا شعر پہلے دِل پر اَثر کرتا ہے اور پھر اپنے معنی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جدید فرد کی خود آگہی اور وجودی بے چینی اُن کے قَلَم سے نکل کر اَلگ شناخت پا لیتی ہے۔
زِندگی کیا ہے اک کہانی ہے
یہ کہانی نہیں سُنانی ہے
ہے خُدا بھی عَجیب، یعنی جو
نہ زَمینی، نہ آسمانی ہے
ہے مِرے شَوقِ وَصل کو یہ گِلہ
اُس کا پَہلو سَرائےِ فانی ہے
اپنی تَعمیرِ جان و دِل کے لیے
اپنی بُنیاد ہم کو ڈھانی ہے
یہ ہے لَمحوں کا ایک شَہرِ اَزل
یاں کی ہر بات ناگہانی ہے
چلیے، اے جان، شامِ آج تُمھیں
شَمع اک قَبر پر جَلانی ہے
رنگ کی اپنی بات ہے، وَرنہ
آخِرش خُون بھی تو پانی ہے
اَک عَبَث کا وُجود ہے جِس سے
زِندگی کو مُراد پانی ہے
شام ہے اور صَحن میں دِل کے
اَک عَجَب حُزنِ آسمانی ہے
عِشق میں جون کی وارَفتگی کے ساتھ ایک خاص خودداری بھی چلتی ہے۔ اُس کا عاشق مَحَبَّت کی شِدَّت محسوس کرتا ہے، مگر اِظہار کرتے ہوئے رُک جاتا ہے؛ کبھی مَحبوب سے خود اِقرار کی توقّع رکھتا ہے اور کبھی خاموشی ہی کو جواب بنا لیتا ہے۔ یہی اِقرار اور اِنکار کی کَشْمَکَش اُس کے عاشقانہ مُکالمے کو مُنفرد بناتی ہے۔
چاند کی پَگھلی ہُوئی چاندی میں
آؤ، کُچھ رنگِ سُخَن گھولیں گے
تُم نہیں بولتی ہو، مَت بولو
ہم بھی اب تُم سے نہیں بولیں گے
کراچی میں آباد ہونے کے بعد جون ایلیا کی زندگی کے تقریباً پَینتالیس برس اِسی شہر میں گزرے۔ آسمان نے اس شہرِ بے مثال میں اُن کے دو مختلف روپ دیکھے؛ وہ مشاعروں میں وہ اپنی ڈرامائی قِرأت اور سامعین سے بے تکلّف مکالمے کے باعث محفلیں لوٹتے رہے اور اس کے بالکل برعکس خود پر مسلط کی گئی تنہائی، گوشہ نشینی اور خلوت کے اَدوار میں اپنے گھر کے نِیم تاریک کمرے تک محدود ہو کر لوگوں سے کٹے بھی رہے اور مطعون بھی قرار پائے۔
تاہم ریڈیو پاکستان کراچی سے اُن کا تعلق بہرحال قائم رہا۔ وہ ریڈیو پاکستان کی میزبانی میں منعقدہ مشاعروں میں بھی شریک ہوتے ہوئے اور انہوں نے اس ادارے کیلئے ایک طویل انٹرویو بھی ریکارڈ کروایا۔
ریڈیو پاکستان کے صوتی ذخیرے میں محفوظ اُن کا انٹرویو اس ادارے کے دیجیٹل پلیٹ فارمز پر نہ صرف موجود ہے بلکہ باآسانی اور بلا معاوضہ سُنا بھی جاسکتا ہے۔ اُن کی ہر برسی پر اس ادارے نے انہیں یاد رکھا ہے اور اُن کی شخصیت اور شاعری پر گفتگو اور خصوصی پروگرامز نشر کئے ہیں ۔
آج، جون ایلیا کی چوبیسویں برسی کے دن بھی، حسبِ سابق ، ریڈیو پاکستان اپنے نشریاتی ذخیرے کے اِس یادگار مہمان اور نوجوان نسل میں مقبول شاعر کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان