Wednesday, 08 July 2026, 11:28:53 pm
 
معروف شاعر و ادیب خاطر غزنوی کی 18 ویں برسی
July 07, 2026

اپنی نسبت قرون وسطیٰ کے عظیم فاتحین کی راجدھانی غزنی سے جوڑنے والے فقیر منش شاعر۔ 

ان کا اصل نام مرزا محمد ابراہیم بیگ تھا، تاہم انہوں نے اپنے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ ان کا خاندان کبھی سلطان محمود غزنوی کے عروس البلاد غزنی میں آباد ہوا کرتا تھا، جو بعد میں ہجرت کرکے پشاور آ بسا۔ چنانچہ غزنی کے ساتھ اپنی اسی نسبت کے سبب انہوں نے اپنا تخلص خاطر غزنوی اختیار کیا۔

آج انہی خاطر غزنوی کی اٹھارہویں برسی منائی جا رہی ہے، جنہیں دنیائے ادب اردو اور ہندکو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، محقق، استاد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی جانتی ہے۔

پروفیسر خاطر غزنوی 25 نومبر 1925 کو اس وقت کے برطانوی ہندوستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز 1936 سے قائم شدہ ریڈیو پشاور سے کیا جسے برطانوی حکومت کے قائم کردہ برصغیر کے قدیم ترین ریڈیو مراکز میں سے ایک مرکز قرار دیا جاتا ہے۔

ریڈیو میں ملازمت کے دوران ہی انہوں نے جامعہ پشاور سے اردو میں ایم اے کیا اور اپنی قابلیت کی بنیاد پر اسی جامعہ کے شعبہ اردو میں لیکچرر مقرر ہو گئے۔

بعد ازاں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کرلی اور یوں وہ خاطر غزنوی سے پروفیسر خاطر غزنوی بن گئے۔

خاطر غزنوی کے شعری شہ پاروں میں روپ رنگ، خواب در خواب، شام کی چھتری اور کونجاں شامل ہیں، جبکہ ان کی نثری تصانیف میں اردو زبان کا ماخذ: ہندکو، زندگی کے لئے پھول، پھول اور پتھر، چٹانیں اور رومان، رزم نامہ، سرحد کے رومان، پشتو متلونہ، دستار نامہ، پٹھان اور جذبات لطیف، خوشحال نامہ، چین نامہ، اصناف ادب، ایک کمرہ اور جدید اردو ادب نمایاں ہیں۔

1984 میں پروفیسر خاطر غزنوی کو اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔

خاطر غزنوی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا اور کمال قدرت دیکھئے کہ یہی ادارہ ان کی ملک گیر شہرت کی سب سے بڑی سبیل بھی بنا۔ ان کی لازوال غزل”گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے“کو پاکستان کے متعدد نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی اور یہ غزل ریڈیو پاکستان کے مختلف مراکز سے نشر ہوتی رہی۔ تاہم جب ریڈیو پاکستان لاہور سے مہدی حسن کی مترنم آواز میں یہ غزل نشر ہونا شروع ہوئی تو گویا خاطر غزنوی کی شہرت کو پر لگ گئے۔

مہدی حسن جب اپنے مخصوص درد، ٹھہراؤ اور سوز کے ساتھ "کیا قیامت ہے کہ خاطر.." ادا کرتے تو واقعی سننے والوں کے دلوں پر قیامت ڈھا جاتے۔ یوں محسوس ہوتا جیسے یہ محض ایک شعر نہیں بلکہ جدائی، محبت اور بچھڑ جانے کے کرب کی پوری داستان ہو۔ اس غزل میں ڈوب جانا تو آسان لگتا تھا، مگر اس کے سحر سے نکلنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ غزل ہر خاص و عام کی زبان پر چڑھ گئی اور خاطر غزنوی کا نام اردو غزل کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

حکومت پاکستان نے خاطر غزنوی کی گرانقدر ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا۔

7 جولائی 2008 کو پروفیسر خاطر غزنوی پشاور میں انتقال کر گئے اور قبرستان رحمان بابا میں آسودہ خاک ہیں۔

خاطر غزنوی نے اردو اور ہندکو شاعری کو ایسی تخلیقات سے مالا مال کیا جو آج بھی تازگی، فکری گہرائی اور فنی پختگی کا استعارہ سمجھی جاتی ہیں۔

ان کی شاعری میں محبت، ہجر، انسانی رشتوں کی نزاکت اور زندگی کے نشیب و فراز نہایت سادہ مگر دل نشیں انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا ادبی سرمایہ آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔

ریڈیو پاکستان نے اپنے اس عظیم شاعر، ادیب، استاد اور سابق رفیق کار کو ان کی برسی پر بھرپور خراج عقیدت پیش کیا ہے۔