اپنی اجرک، وجد، دھمال اور فقیرانہ وضع قطع سے پہچانے جانے والے سندھ دھرتی کی ثقافت کے امین ، علن فقیر کی آج چھبیسویں برسی ہے۔ وہ سندھ کی لوک اور صوفی موسیقی کی روایت کو ملک گیر بلکہ عالمگیر شناخت دلانے کے سرخیل بنے۔
علن فقیر کا اصل نام علی بخش تھا۔ وہ 1932 کے لگ بھگ اندرونِ سندھ کے گاؤں آمڑی، تعلقہ مانجھند، ضلع دادو (موجودہ ضلع جامشورو) میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق منگراچی قبیلے سے تھا۔ ان کے والد "دھمالی فقیر" شہنائی نواز تھے ۔یوم علن فقیر کو موسیقی، صوفی روایت اور دھمال کا ذوق ورثے میں ملا۔
علن فقیر کو سندھی شاعری کی معروف صنف "وائی" گانے میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ بلکہ وہ ہر صوفیانہ کلام کو اپنے منفرد انداز میں پیش کرتے تھے۔ گاتے گاتے وہ وجد میں آجاتے اور روایتی سندھی دھمال میں مگن ہوجاتے ۔ یہ دھمال یا گھمر بھی ان کی فنی شخصیت کا نمایاں حصہ تھی۔
علن فقیر کے فنی سفر کا اہم موڑ اس وقت آیا جب حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے مزار پر صوفیانہ کلام گاتے گاتے وہ ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے مہمان جا بنے۔وہ ریکارڈ اور نشر ہوتے رہے اور یہیں سے ان کی شہرت کا دائرہ وسیع ہوا۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی وژن پر بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ملک بھر میں ان کی گائیکی کو پذیرائی ملی ۔ سبھی قومی ایام پر وہ پاکستان ٹیلی ویژن پر لائیو پرفارم کرتے نظر آتے ۔
علن فقیر نے سندھی کے علاوہ اردو اور سرائیکی کلام کو بھی گایا ۔ معروف گلوکار محمد علی شہکی کے ساتھ گایا گیا نغمہ "تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا" ان کے فنی سفر کی نمایاں شناخت بن گیا اور آج بھی ان کے مقبول ترین نغموں میں شمار ہوتا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے علن فقیر کی فنی خدمات کے اعتراف میں 1987 میں انہیں صدارتی تمغ حسنِ کارکردگی سے نوازا، جبکہ 1999 میں پاکستان ٹیلی وژن نے انہیں لائف اچیومنٹ ایوارڈ عطا کیا۔ اس کے علاوہ انہیں شاہ لطیف ایوارڈ، شہباز ایوارڈ اور کندھ کوٹ ایوارڈ سمیت متعدد اعزازات بھی ملے۔
4 جولائی 2000 کو علن فقیر کراچی میں انتقال کرگئے۔ انہیں جامشورو میں سندھ یونیورسٹی کالونی میں واقع اپنے گھر کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اگرچہ علن فقیر کو ہم سے بچھڑے چھبیس برس بیت چکے ہیں، تاہم ان کی آواز، ان کا فقیرانہ انداز، دھمال اور سندھ کی ثقافتی روایت سے ان کی وابستگی آج بھی موسیقی کے سنجیدہ حلقوں اور سامعین کی یادوں میں محفوظ ہے۔