وزیر قانون و انصاف، اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ نجی املاک پر ٹیلی کام کا بنیادی ڈھانچہ نصب کرنے کیلئے مالک کی رضا مندی لازمی ہے۔
انہوں نے یہ بات آج اسلام آباد میں وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات شزہ فاطمہ خواجہ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ ''پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل'' کے نظرثانی شدہ مسودے میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ نجی اراضی پر رائٹ آف وے دینے سے قبل مالک کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دو ہزارچھ میں نافذ العمل اصل قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ رابطوں کے ذرائع کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً پچیس فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے اسپیکٹرم کی گنجائش بڑھانے اور ٹیلی مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت اُجاگر ہوتی ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ تقریباً چوبیس کروڑ کی آبادی کے باوجود پاکستان میں اس وقت تیس لاکھ سے بھی کم فائبر ٹو ہوم کنکشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد اگلے تین سال میں اس تعداد کو ایک کروڑ گھروں تک بڑھانا ہے۔
رائٹ آف وے کی شقوں پر عوامی خدشات کا جواب دیتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ انٹرنیٹ تک رسائی کو بڑھانا وزارت آئی ٹی کی ایک اہم ترجیح ہے، تاہم، انہوں نے یقین دلایا کہ کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کی کوششوں میں شہریوں کے بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔