پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق اور اپنے اہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری آپشنز استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی آج اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران چناب سے بیاس تک پانی کی منتقلی کے منصوبے کے لیے بھارتی حکومت کی جانب سے بولی طلب کرنے سے متعلق سوالات کا جواب دے رہے تھے۔
ترجمان نے کہا کہ دریائے بیاس کے نظام میں چناب کے پانی کے رُخ کو اِس طریقے سے موڑنا ، نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ معاہدے کے قوانین بالخصوص ویانا کنونشن آن لاز آف ٹریٹی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی آبی قانون کے وسیع تر فریم ورک کے بھی منافی ہے جس میں وہ اصول شامل ہیں جن کی عکاسی 1997 کے اقوام متحدہ کے آبی راستوں پر کنونشن میں کی گئی ہے۔