پاکستان نے واضح طور پر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت حقوق اور اپنے اہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری راستے اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔
یہ بات دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے آج اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے دریائے چناب سے بیاس تک پانی کی منتقلی کے منصوبے کیلئے بولی طلب کرنے سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی۔
ترجمان نے کہا کہ دریائے بیاس کے نظام میں چناب کے پانی کے رُخ کو اِس طریقے سے موڑنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ معاہدے کے قوانین بالخصوص ویانا کنونشن آن لاز آف ٹریٹی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی آبی قانون کے طریق کار کے بھی منافی ہے جس میں وہ اصول شامل ہیں جن کی عکاسی 1997 کے اقوام متحدہ کے آبی راستوں پر کنونشن میں کی گئی ہے۔
انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع Reasi میں سلال ڈیم آبی ذخیرے کو مجوزہ گہرا کرنے کے منصوبے کو بھی انتہائی تشویشاک پیشرفت قرار دیا۔
ترجمان نے کہا کہ بھارت نے ان منصوبوں کے بارے میں نہ تو باضابطہ طور پر بتایا نہ اس کا کوئی نوٹس شیئر کیا ہے اور نہ ہی اس نے اس سلسلے میں مشاورت کی۔
انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ بھارت پانی کو ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔
اس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے اور ہم مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی، خوراک اور معاشی تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کے پچیس کروڑ عوام کی بقا اور فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی غیر قانونی اقدام ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام سے دوچار کرنے کے مترادف ہیں جس کے ممکنہ سنگین نتائج پورے خطے کے لوگوں پر سنگین اثرات مرتب ہونگے۔
ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ کسی بھی قسم کی آبی جارحیت سے باز آجائے، ایسے منصوبے ترک کرے جو پانی کا بہاؤ روکنے، کم کرنے یا اس کا رخ موڑنے کے لیے قانونی طور پر پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد مکمل طور پر بحال کرے۔