وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صومالیہ میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہری سید کاشف عمر کے بیٹے اذہان کاشف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور ان کے والد کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔
وزیراعظم نے سید کاشف عمر اور دیگر دو جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی میتیں جلد از جلد پاکستان لانے کے لیے حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم نے وزارتِ خارجہ اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کو کاشف عمر اور باقی دو جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہر مرحلے پر براہِ راست رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
کاشف عمر ان تین پاکستانیوں میں شامل تھے جو صومالیہ میں ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز سے بازیابی کے دوران جاں بحق ہوئے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صومالیہ کے ساحل پر بازیابی کے دوران جاں بحق ہونے والے تینوں پاکستانیوں، سید کاشف عمر، محمود احمد انصاری اور رفیع اللہ خان، کے اہل خانہ کے لیے مالی معاونت، ان کے بچوں کے لیے مفت تعلیم اور رہائش کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ ہر جاں بحق پاکستانی کے خاندان کو ایک کروڑ 25 لاکھ روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
وزیراعظم نے جاں بحق پاکستانیوں کے بچوں کو حکومت کی جانب سے مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعظم نے ان افراد کے اہل خانہ کو حکومت کی جانب سے فی خاندان رہائش کے لیے ایک گھر فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سوگوار خاندانوں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہر ممکن تعاون اور معاونت فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے وزارتِ خارجہ اور پاکستان کے سفارتخانے کو ہدایت کی کہ صومالی حکام اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے میتوں کی پاکستان منتقلی کے عمل کو تیز کیا جائے۔
وزیراعظم نے زخمی پاکستانیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور دیگر پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے بھی تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔