Monday, 02 November 2026, 03:04:02 pm
 
مقبوضہ جموں و کشمیر میں رواں سال کے پہلے دس ماہ میں 33 کشمیری شہید
November 01, 2026

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج نے رواں سال کے پہلے دس ماہ میں ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تینتیس کشمیریوں کو شہید کیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے تحقیقی شعبے کے اعداد و شمار کے مطابق بھارتی فوج، راشٹریا رائفلز، پولیس اور پیراملٹری فورسز نے چار ہزار سات سو چونسٹھ کشمیریوں کو گرفتار کیا، جن میں نوجوان، طلبہ، سیاسی کارکن اور خواتین شامل ہیں۔

ان کشمیریوں کو تلاشی اور گھروں پر چھاپوں کی بارہ ہزار نوے کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔

کئی کشمیریوں کو ظالمانہ قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا۔

اس عرصے کے دوران کم از کم تریپن گھروں کو تباہ کیا گیا، جبکہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں قابض حکومت نے گھروں، زمینوں، دکانوں اور گاڑیوں سمیت تین سو دس املاک قبضے میں لے لیں۔

صرف گزشتہ ماہ کے دوران سات کشمیریوں کو شہید کیا گیا، جن میں سے تین کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا، جبکہ ایک سو ستاسی چھاپوں کے دوران چھبیس شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور انیس کشمیریوں کی املاک ضبط کر لی گئیں۔

ادھر، کُل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ غیر قانونی گرفتاریاں، مکانات مسمار کرنا اور جائیدادیں ضبط کرنا بی جے پی حکومت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزور کرنا، اختلاف رائے پر سزا دینا اور تحریک آزادی کو دبانا ہے۔

حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس ایڈووکیٹ نے سرینگر میں ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔