وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کی ترقی و خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات آج خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی ارکان اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہو گیا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بروقت فیصلہ نہ کرنے سے صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ تیرہ سال سے برسرِ اقتدار جماعت نے صرف بڑے بڑے دعوے کیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس عرصے کے دوران وہاں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال قائم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کرنے کے بجائے سیاسی نعروں اور تفریق بڑھانے پر توجہ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبے کو اب تک این ایف سی ایوارڈ کے تحت آٹھ سو ارب روپے مل چکے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ ان فنڈز سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور وہاں محکمہ انسداد دہشت گردی کو مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟
شہباز شریف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دستیاب وسائل پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنے اور پولیس اہلکاروں کو تربیت فراہم کرنے پر خرچ کیے جانے چاہئیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ محمد نواز شریف کے دورِ حکومت میں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دو ہزار انیس اور دو ہزار بیس میں دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لا کر پاکستان میں آباد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
وزیراعظم نے معیشت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر انتھک کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی حالات اور خلیج کی جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی اسکیم کے ذریعے ایک کروڑ تیس لاکھ افراد فیول سبسڈی سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کو عدم استحکام سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔