وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو گلگت بلتستان میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور ان کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وہ آج اسلام آباد میں گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین بھی اجلاس میں شریک تھے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں اور ان پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری وفاقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
اجلاس میں گلگت بلتستان میں پن بجلی، بنیادی ڈھانچے اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے شروع کیے گئے ایک سو میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں نلتر پاور پراجیکٹ کی تکمیل، انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تنصیب پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں، بالخصوص توانائی کے منصوبوں کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے کی ہدایت کی تاکہ عوام جلد از جلد ان سے مستفید ہو سکیں۔
اجلاس میں گلگت بلتستان کے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جو یکم نومبر کو ڈوگرہ راج سے آزادی اور اس کے بعد پاکستان سے الحاق کا تاریخی دن منائیں گے۔
اس دن کے حوالے سے یکم نومبر کو وزیراعظم کا دورہ گلگت بلتستان بھی متوقع ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایت پر رواں سال جولائی میں قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں گلگت بلتستان میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی صورتحال، ان پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں اور بروقت تکمیل کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔