فائل فوٹو
پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کل سے ریڈیو پاکستان ملتان میں دو روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے جس میں نوجوان کمپیئرز، آر جے، نیوز ریڈرز اور انٹرنز کو پیشہ ورانہ نشریاتی اور ابلاغی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے گا۔
تربیتی پروگرام کا مقصد شرکا کو عملی تجربہ فراہم کرنا اور موثر اور ذمہ دارانہ ابلاغ کے لیے درکار مہارتیں اجاگر کرنا ہے۔
یہ اقدام وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے نوجوان براڈکاسٹرز کی پیشہ ورانہ تربیت پر زور دینے کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان لاہور میں اسی طرح کے آر جے اور براڈکاسٹنگ انٹرن شپ ٹریننگ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں موثر ابلاغی مہارتیں ضروری ہیں اور ایسی تربیت شرکا کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی دونوں میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ریڈیو پاکستان سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان براڈکاسٹرز قومی یکجہتی، پیشہ ورانہ اخلاقیات، ادارہ جاتی اقدار اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دیں گے۔
وزیر اطلاعات نے نوجوان نسل کو پاکستان کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ غلط اور گمراہ کن معلومات جدید ڈیجیٹل دور کے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ انہوں نے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ ابلاغ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
وفاقی وزیر نے غلط اور گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کرنے کے اہم ذرائع کے طور پر پیشہ ورانہ اور بروقت ابلاغ پر بھی زور دیا۔
عطااللہ تارڑ نے ریڈیو پاکستان کو الیکٹرانک میڈیا کا ملک کا سب سے قدیم ادارہ قرار دیا جو کئی دہائیوں تک قوم کی خدمت کرنے کا شاندار ورثہ رکھتا ہے۔ انہوں نے مستقبل کے براڈکاسٹرز کے لیے ریڈیو پاکستان لاہور میں تربیتی ادارے کے قیام کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے تربیتی پروگرام میں شریک خواتین کو کام کے مقام پر ہراسانی کی روک تھام کے لیے مطالبات کی فہرست تیار کرنے کا بھی کہا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر تربیت سے وابستہ ریڈیو پاکستان کے افسران کے لیے اعزازیہ دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
ریڈیو پاکستان ملتان میں دو روزہ تربیتی پروگرام نوجوانوں کو پیشہ ورانہ نشریاتی مہارت حاصل کرنے اور تیزی سے بدلتے ہوئے میڈیا کے ماحول کے مطابق خود کو تیار کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اور قدم ہے۔