فائل فوٹو
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے وضاحت کی ہے کہ حکومت نہ تو نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے طیارے خرید رہی ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کسی حکومتی ضمانت یا ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے قرضے کا اعلان کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ گردش کرنے والے بعض تبصروں میں نجکاری اور برآمدی قرضہ فراہم کرنے والے ادارے کے کردار کو درست طور پر نہیں سمجھا گیا۔
خرم شہزاد نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ایگزم بینک کی طرح، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کا بنیادی مقصد بھی اپنے ملک کی برآمدات اور روزگار کو فروغ دینا ہے۔ بوئنگ کے طیارے امریکی برآمدات ہیں۔ اسی لیے امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک امریکی ساختہ طیارے خریدنے والے غیر ملکی خریداروں، بشمول فضائی کمپنیوں، کو طے شدہ مالیاتی طریقہ کار کے تحت مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔
مشیر نے مزید وضاحت کی کہ وزیرِ خزانہ کی امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ساتھ بات چیت صرف پی آئی اے تک محدود نہیں تھی۔ اس میں ہوابازی، ریفائنریوں کی توسیع و بہتری اور ریکو ڈِک سمیت وسیع تر پاک-امریکہ اقتصادی تعاون کے تحت ممکنہ مالی معاونت کے مواقع پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تجارتی سرگرمیوں میں ریاست کے کردار کو بتدریج کم کرنے، نجکاری کو آگے بڑھانے اور نجی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت نجی شعبے سے دستبردار ہو جائے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت خود کاروبار چلانے کے بجائے نجی شعبے کو کاروبار کرنے کے لیے سازگار ماحول اور سہولت فراہم کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی قرض، پوشیدہ سبسڈی، ریاستی مالی پشت پناہی یا ٹیکس دہندگان کی جانب سے پی آئی اے کے تجارتی خطرے کو برداشت کرنے جیسے دعووں کو حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے کسی انتظام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری بیان میں امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی جانب سے ممکنہ مالی معاونت کا ذکر ہے؛ حکومتِ پاکستان کی جانب سے پی آئی اے کے لیے قرض لینے یا کسی حکومتی ضمانت کے اجرا کا اعلان نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نجکاری کا مطلب ملکیت اور تجارتی انتظام و انصرام کی منتقلی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے اور بین الاقوامی دروازے کھولنے کا اپنا کردار ختم کر دے۔