صدر آصف علی زرداری نے پاکستان میں صحت کی خدمات کو نمایاں طور پر بہتر بنانے کے لیے تحقیق پر مبنی اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ حل اپنانے پر زور دیا ہے۔
وہ آج برلن میں سیمنز کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیئل فریش اور سیمنز کے حکومتی امور کی سربراہ ویرونیکا فسٹر سے گفتگو کر رہے تھے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان سیمنز کے ہیلتھ ڈویژن جیسے اداروں کی جانب سے جرمنی کی صنعتی، تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سیمنز کا یہ ڈویژن کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے اور کراچی سمیت ملک کے تین بڑے شہروں میں اس کے ایک سو سے زائد ملازمین کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے سیمنز کو تجویز دی کہ وہ اپنی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے دیگر سماجی اور صنعتی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کو وسعت دے۔
انہوں نے اس سلسلے میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سیمنز کے وفد نے صدر کو بتایا کہ ان کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ پاکستان کی صحت کی صنعت میں استعداد کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جا سکیں۔