پاکستان نے افغان سرزمین سے بھیجے گئے ڈرونز کی شکل میں غیر قانونی اور جان بوجھ کر کی جانے والی مداخلت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور جارحیت کا ایک سنگین اور ناقابلِ قبول عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو ان کے مطلوبہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی شناخت اور ٹریک کرکے غیر مؤثر کر دیا، جس سے مجوزہ حملے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے، پاکستان نے افغانستان میں ان ڈرونز کو لانچ اور ذخیرہ کرنے کیلئے استعمال ہونے والے 10 مقامات کی مکمل نشاندہی کے بعد فضائی اور ڈرون حملے کئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے سوچے سمجھے، درست، متوازن اور مناسب تھے اور صرف انہی عسکری اہداف تک محدود تھے جو پاکستان کے خلاف حملوں سے براہِ راست جڑے ہوئے تھے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان برسوں سے افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کے سامنے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کی مسلسل موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ان نیٹ ورکس کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے والوں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو مزید بگاڑنے کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے کئے جانے والے حملوں کو ہرگز قبول یا برداشت نہیں کرے گا، چاہے یہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا خود افغان طالبان حکومت کی جانب سے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے دھمکیاں، تردید یا ذمہ داری سے فرار کی کوششیں نہ تو حقائق کو بدل سکتی ہیں اور نہ ہی پاکستان کے اپنی سرزمین، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کے بنیادی حق کو محدود کر سکتی ہیں۔
وزیرِ اطلاعات نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام مکروہ سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابلِ تصدیق اور مسلسل کارروائی کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملے شروع کرنے یا ایسی دشمنی پر مبنی کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا اور علاقائی امن، مکالمے اور تعمیری روابط کیلئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم جارحانہ کارروائیاں برداشت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کی زندگیوں کا دفاع مکمل عزم کے ساتھ کرے گا اور ان کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیز اقدام کا جواب مضبوط اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔