افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف مسلح گروپوں کی کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے، جبکہ بدخشاں اور تخار سمیت شمالی و شمال مشرقی صوبوں میں طالبان کے ٹھکانوں اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) کے مطابق بدخشاں کے صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں طالبان کے گورنر آفس اور قریبی سکیورٹی پوسٹ کو راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
تنظیم نے دعوی کیا کہ حملے میں طالبان کے 4 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ مقامی ذرائع نے بھی گورنر کمپانڈ کے قریب راکٹ حملے اور اس کے بعد فائرنگ کی آوازیں سننے کی تصدیق کی، تاہم ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب افغانستان گرین ٹرینڈ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے عسکری ونگ نے تخار کے ضلع چہ آب میں طالبان کی ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچا۔ طالبان کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا اور واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔
بدخشاں میں حالیہ دنوں کے دوران طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ AFF نے زیبا ک ضلع میں متعدد حملوں اور طالبان کو جانی نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں، جبکہ طالبان نے بھی علاقے میں لڑائی کی تصدیق کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی افغانستان میں مزاحمتی سرگرمیوں میں اضافہ طالبان کے لیے سکیورٹی چیلنج میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال کو طالبان حکومت کے فوری خاتمے کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ طالبان اب بھی ملک کے بیشتر حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں اور مسلح مخالف گروپوں کے پاس فی الحال کوئی وسیع علاقائی متبادل حکومتی ڈھانچہ موجود نہیں۔