Wednesday, 22 July 2026, 01:50:55 am
 
پاکستان کسٹمز کا بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے اصلاحات کا نفاذ
July 21, 2026

پاکستان کسٹمز نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (KICT) اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل (SAPT) پر حالیہ رش اور دباؤ میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

پاکستان کسٹمز کے مطابق دونوں ٹرمینلز پر دباؤ جولائی 2026 کے دوران تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پیدا ہوا۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی سے 25 جولائی 2026 کے دوران SAPT اور KICT پر مجموعی طور پر 56 بحری جہازوں کی آمد ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 49 تھی، جو 14.3 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

صرف SAPT پر کنٹینر ہینڈلنگ میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو بڑھ کر 52 ہزار 314 ٹی ای یوز (TEUs) تک پہنچ گئی۔

پاکستان کسٹمز نے بڑھتے ہوئے تجارتی حجم سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز میں تیزی لائی ہے۔ جولائی 2026 کے دوران مکمل کی جانے والی جانچ کی تعداد 4 ہزار 298 رہی، جبکہ 2025 میں یہ تعداد 4 ہزار 7 تھی۔

اسی طرح تازہ مارک کیے گئے کنسائنمنٹس کے امتحانی کوڈز میں 19.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کلیئرنس کے بڑھتے ہوئے حجم اور معائنے کے لیے پیش کیے جانے والے کنٹینرز کی زیادہ تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کسٹمز کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ تجارت کے فروغ اور سہولت کاری کے ساتھ مضبوط ریگولیٹری نگرانی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام بندرگاہوں پر امتحانی عملے کی مؤثر تعیناتی یقینی بنائی گئی ہے، جبکہ بروقت کلیئرنس کے لیے اتوار کے روز بھی آپریشنز جاری رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ رش کی صورتحال کی روزانہ بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی ہے اور تجارتی نمائندوں و ٹرمینل انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

پاکستان کسٹمز نے بندرگاہی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں۔ دو ہزار سے زائد طویل عرصے سے رکے ہوئے کنٹینرز کو آف ڈاکس منتقل کر دیا گیا ہے، جس سے ٹرمینلز پر جگہ خالی ہوئی ہے۔

پاکستان کسٹمز کے مطابق تمام بندرگاہوں پر جدید اسکینرز کی تنصیب کے بعد نان اِنٹروسیو انسپیکشن ممکن ہو گئی ہے، جس سے کلیئرنس کے عمل میں تیزی آئی ہے۔ فیس لیس اسیسمنٹ اور فیس لیس ایگزامینیشن کے اقدامات سے کلیئرنس کے دورانیے میں کمی، شفافیت میں اضافہ اور نظام کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔

پاکستان کسٹمز نے کہا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد بندرگاہی نظام کو مؤثر، شفاف اور بروقت خدمات فراہم کرنے والا بنانا ہے تاکہ تجارت کی بلا تعطل سہولت یقینی بنائی جا سکے۔

محکمہ، آبنائے ہرمز میں دوبارہ پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت اور مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔