اقوام متحدہ میں کشمیری وفد نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ تنازعات والے علاقوں، خصوصاً بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شمیم شال اور مہر النسا نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63 ویں اجلاس میں شرکت کی، جس کا موضوع تھا تنازعات والے علاقوں سے آنے والے بچوں کی بحالی کے لیے تعلیم بنیادی ذریعہ ہے۔
بحث کے دوران انہوں نے بچوں کی تعلیم، وقار، صحت اور محفوظ مستقبل کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بحران کی جانب توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں تقریباً ساڑھے تیرہ لاکھ افراد منشیات کے استعمال سے متاثر ہیں، جن میں ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔