افغانستان کو جنوبی ایشیاء میں بچوں کیلئے بدترین ملک قرار دیا گیا ہے، جہاں غذائی قلت اور موسمیاتی بحران نے معصوم زندگیاں دائو پر لگا دی ہیں۔
یونیسیف کی نئی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 88 لاکھ سے زائد بچے بیک وقت تین بڑے موسمیاتی خطرات یعنی خشک سالی، سیلاب اور ہیٹ ویوز کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے 2 کروڑ 10 لاکھ بچوں میں سے 41 فیصد موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کی لپیٹ میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 50 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے بچوں میں Stunting کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی نا اہلی کی وجہ سے بچوں کے تحفظ، صحت اور تعلیم کا پورا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔