اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ افغان سرزمین ایک بار پھر خطے کی سلامتی کیلئے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) کی مدت میں 17 جون 2027 تک توسیع کر دی ہے۔ قرارداد میں طالبان حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی سے متعلق اپنے وعدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں اور خواتین کو مساوی حقوق فراہم کریں۔
اجلاس کے دوران پاکستانی مندوب نے افغانستان سے درپیش دہشت گردی کے خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان سمیت متعدد دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں اور سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
امریکی مستقل مندوب نے طالبان حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، یرغمالی سفارتکاری کا خاتمہ اور خواتین کے حقوق کی پامالی کو روکنا ہوگا۔
لائبیریا کے سفیر نے بھی افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور خطے کے امن و سلامتی کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب قائم مقام افغان مندوب نے ہرات میں مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں انسانی حقوق خصوصا خواتین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق طالبان حکام نے دوحہ معاہدے میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کو داخلی سیاسی مسائل کے حل اور عوامی تحفظ کیلئے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
عالمی برادری کے مطابق افغانستان میں امن و استحکام کیلئے انسداد دہشت گردی، انسانی حقوق کی پاسداری اور علاقائی تعاون کو فوری طور پر مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔