ایک امریکی جریدے''فئیر آبزرور'' کی رپورٹ میں افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران انسانی حقوق، معاشی صورتحال اور سکیورٹی کے حالات پر سنگین خدشات اور تنقید سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے قیام کے بعد افغانستان میں سخت سماجی پابندیوں، بالخصوص خواتین کی تعلیم اور عوامی زندگی میں شرکت پر نمایاں قدغنیں دیکھی گئی ہیں، جس کے باعث انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
جریدے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان کی معیشت شدید دبا کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد غربت اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں گھرانے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں نگرانی اور گرفتاریوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ آزادی صحافت اور عدالتی نظام کی فعالیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
مزید یہ کہ خواتین اور لڑکیوں کی اعلی تعلیم اور سماجی سرگرمیوں تک رسائی محدود ہونے کے باعث انسانی ترقی کے اشاریوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال علاقائی امن کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق معاشی مشکلات، سماجی پابندیاں اور سکیورٹی چیلنجز مجموعی طور پر افغانستان کے استحکام پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔