Wednesday, 16 September 2026, 03:51:23 pm
 
وفاقی وزیر احد چیمہ کا ڈریپ کو خودمختار، بااختیار اور مؤثر ریگولیٹری و پرائسنگ اتھارٹی بنانے کے لیے جامع ادارہ جاتی اصلاحات پر زور
September 15, 2026

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو ایک مضبوط، زیادہ خودمختار اور بااختیار ریگولیٹری و پرائسنگ اتھارٹی بنانے کے لیے جامع ادارہ جاتی اور پالیسی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے درآمدی ادویات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ فارمولے پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وفاقی وزیر نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ڈریپ کے موجودہ ادارہ جاتی اور انتظامی ڈھانچے، وزارتِ قومی صحت کے ساتھ اس کے تعلق، فیصلہ سازی کے نظام اور پالیسی بورڈ کے کردار اور اختیارات کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد ڈریپ کو زیادہ ادارہ جاتی اور انتظامی خودمختاری فراہم کرنا اور ریگولیٹری و پرائسنگ فیصلوں میں غیر ضروری وزارتی عمل دخل کو کم کرنا ہونا چاہیے، جبکہ شفافیت، جوابدہی اور ضروری نگرانی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے نیپرا اور اوگرا جیسے خودمختار ریگولیٹری اداروں کے ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈریپ کی تنظیمِ نو کے دوران ان اداروں کے متعلقہ پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے، تاہم اس ضمن میں فارماسیوٹیکل ریگولیشن اور صحتِ عامہ کے مخصوص تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ اصلاحات محض چند انتظامی یا طریقہ کار کی تبدیلیوں تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ڈریپ کے مجموعی ادارہ جاتی ڈھانچے، مینڈیٹ، گورننس اور فیصلہ سازی کے نظام کا جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

انہوں نے بالخصوص ڈریپ کے پالیسی بورڈ کو مزید مضبوط اور بااختیار بنانے پر زور دیا تاکہ وہ واضح پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک کے تحت بروقت اور شواہد پر مبنی ریگولیٹری اور پرائسنگ فیصلے کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریپ کو ایک مؤثر اور خودمختار ریگولیٹر کے طور پر کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے پالیسی بورڈ، ادارہ جاتی ڈھانچے اور ریگولیٹری طریقہ کار میں ضروری تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور سیکریٹری وزارتِ قومی صحت ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان نے بھی موجودہ پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک کے وسیع تر جائزے کی ضرورت سے اتفاق کیا اور ڈریپ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس کے مینڈیٹ، گورننس اور فیصلہ سازی کے نظام میں مناسب تبدیلیوں کا جائزہ لینے کی حمایت کی۔

اجلاس میں درآمدی ادویات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ فارمولے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں کا نظام شفاف، شواہد پر مبنی اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، تاکہ ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صارفین کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے بھی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ پرائسنگ فریم ورک کے تحت بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت مختلف ممالک کو قیمتوں کے تقابلی جائزے کے لیے ریفرنس مارکیٹس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جہاں یکساں یا قابلِ موازنہ ادویات ٹئیر ون ریفرنس ممالک میں دستیاب ہوں وہاں موجودہ طریقہ کار قابلِ عمل ہے، تاہم ایسی ادویات کے معاملے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں جو ان مارکیٹس میں دستیاب نہیں اور بنیادی طور پر یورپی یا دیگر ٹئیر ٹو مارکیٹس میں دستیاب ہوتی ہیں۔

سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ ایسے معاملات میں موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ ٹئیر ون ریفرنس ممالک میں متعلقہ دوا کی عدم دستیابی کی صورت میں قیمت کا مؤثر اور بامعنی تقابلی جائزہ مشکل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس زمرے میں آنے والی درآمدی ادویات کے لیے زیادہ معقول، شفاف اور قابلِ عمل تقابلی پرائسنگ میکنزم وضع کرنے پر زور دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا، "اگر کوئی دوا ہماری بنیادی ریفرنس مارکیٹس میں دستیاب نہیں تو قیمت کے تعین کا طریقہ کار ایسا ہونا چاہیے جو صارفین کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ اور بامعنی تقابلی جائزے کی گنجائش فراہم کرے۔"

انہوں نے کہا کہ مجوزہ اصلاحات کا مجموعی مقصد ادویات کی ریگولیشن اور قیمتوں کے تعین کا ایک شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مؤثر نظام قائم کرنا ہونا چاہیے، جو ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائے، صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے اور بروقت و مؤثر ریگولیٹری فیصلوں کی راہ ہموار کرے۔

اجلاس میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق زیرِ التوا اور ہارڈشپ کیسز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کیسز کو انفرادی بنیادوں پر دیکھا جائے اور ہر دوا کی نوعیت، درجہ بندی، دستیابی، مارکیٹ کی صورتحال اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیرِ التوا کیسز کا جائزہ لیتے ہوئے بالخصوص ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانے اور صارفین کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کرنے کو بنیادی ترجیح دی جائے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، سیکریٹری وزارتِ قومی صحت ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان، سی ای او ڈریپ، ڈائریکٹر پرائسنگ ڈریپ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔