Monday, 12 October 2026, 03:35:12 am
 
خیبر پختونخوا میں سرکاری امور چلانے کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے: اعظم نذیر تارڑ
October 11, 2026

 

وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ صدرِ مملکت نے آج وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل دو سو بتیس اور دو سو چونتیس کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔

انہوں نے یہ بات آج شام اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، امور داخلہ کے وزیر مملکت طلال چوہدری اور رکن قومی اسمبلی ثمر بلور کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے تحت وزیراعلیٰ کی سربراہی میں صوبائی حکومت ختم ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور مشیروں کے تمام اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

وزیر قانون نے کہا کہ گیارہ رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے جو گورنر کی نگرانی میں سرکاری امور چلائے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایک اور حکم نامے کے تحت خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع کے امور چلانے کے لیے گورنر اور چیف سیکرٹری کے ماتحت ایک الگ سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ یہ اضلاع براہ راست وفاق کے ماتحت ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت خیبر پختونخوا میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گورنر کی مدد کی غرض سے فوج بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ مکمل طور پر آئینی اقدام ہے جس کا اختیار آئین کے تحت وزیراعظم کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی بنیادی وجوہات میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا عدم تعاون شامل ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات میں ایک سو چھیانوے فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی شہادت کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے تحت ان اقدامات کی توثیق کے لیے آئندہ چند روز میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاسوں کے علاوہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی طلب کیا جا رہا ہے۔