آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے مہاجرنشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست قراردیتے ہوئے احتجاج کی سیاست مسترد کر دی۔
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس 1 (2026) کے مطابق قرار دیا کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے مطابق مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لئے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آزاد کشمیر میں فیصلہ کن قوت سڑکوں پر احتجاج نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے۔
سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب اسمبلی کے سپرد کیے جائیں۔
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ آئینی ترمیم عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقہ کار سے ہی ممکن ہے۔
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے کہا کہ آرٹیکل 22(4)کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے، احتجاج یا سیاسی تنازع اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاست پرعائد ہوتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ انتظامیہ عوامی امن اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی پابند ہے۔
ماہرین نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی رائے نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاست کے امن و استحکام کے تحفظ کے مؤقف کوتقویت دی ہے۔
صدر آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے حکومت کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 46-A کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔