Friday, 10 July 2026, 03:46:20 am
 
ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل اے ایس اے نے زرعی جدت میں ایک اور سنگِ میل عبور کرلیا
July 09, 2026

فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (FFC) جو معیاری کھادوں کی تیاری، ترسیل اور جدید زرعی رہنمائی کی بدولت پاکستان کی صف اول کی فرٹیلائزر کمپنی ہے، نے عالمی شہرت یافتہ ادارے یا را انٹرنیشنل اے سی اے کے ساتھ اشتراک کے ذریعے جدت کے سفر میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔ 1905 میں ناروے میں قائم ہونے والی کمپنی یارا انٹرنیشنل دنیا کے 140 سے زائد ممالک میں فصلوں کیلئے غذائیت اور پودوں کی نشوونما کیلئے موثر حل فراہم کررہی ہے۔

یہ اشتراک ایف ایف سی کے 48 سالہ اعتماد، وسیع ملک گیر مارکیٹنگ نیٹ ورک اور پاکستانی زراعت کی گہری سمجھ بوجھ کو یارا کی 120 سے زائد سالہ عالمی تحقیق ، کراپ نیوٹریشن میں مہارت ، زرعی تکنیکی تجربے اور جدید ٹیکنالوجیز کے ساتھ یکجا کرتا ہے، تاکہ پاکستانی کسانوں کو عالمی معیار کی بائیولوجیکل اور اسپیشلٹی پلانٹ نیوٹریشن سلوشنز فراہم کئے جاسکیں۔ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل کے درمیان اسٹریٹجک اشتراک کے تحت ، سونا اور یارا برانڈز نے پاکستان میں جدید بائیولوجیکل اور سپیشلٹی پلانٹ نیوٹریشن مصنوعات کا ایک پریمیم پورٹ فولیو متعارف کرانے کیلئے مشترکہ برانڈ شراکت داری قائم کی ہے۔ اس پورٹ فولیو میں پانچ فولئیر بائیولوجیکل فولئیر مصنوعات یارا ایمپلکس اوپٹی ٹریک یاراویٹا کراپ بوسٹ ، یارا ویٹا بور ٹریک ، یارا ویٹا فروٹرل اور یاراویٹا سولیٹرل کے ساتھ انتہائی حل پذیر کیلشیم کھاد یارالیوا ٹراپی کوٹ بھی شامل ہے۔ ان مصنوعات کے پورٹ فولیو کی باضابطہ تقریب رونمائی سونا ٹاور، ایف ایف سی ہیڈ آفس، راولپنڈی میں ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل کی اعلیٰ قیادت کی موجودگی میں ہوئی۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ، موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی دباؤ نے پاکستان کی زرعی پیداوار اور قومی غذائی تحفظ کو نئے چیلنجز سے دوچار کردیا ہے۔انہی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف ایف سی اور یارا انٹرنیشنل نے پاکستان کے زرعی حالات، مختلف فصلوں، موسمی تقاضوں اور زمینی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اعلیٰ معیار کی خصوصی کھادیں اور بائیو اسٹیمولنٹس متعارف کروائی ہیں۔ جدید فارمولیشنز پر مشتمل یہ کھادیں مارکیٹ میں دستیاب دیگر کھادوں سے منفرد ہیں، جو غذائی اجزاء کی موثر فراہمی، پتوں کے ذریعے بہتر جذب اور فصل کی حساس نشوونما کے مراحل میں بہتر کارکردگی کو یقینی بناتی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب محمد علی جنجوعہ ، چیف کمرشل آفیسر ، ایف ایف سی نے ایف ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر و چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب جہانگیر پراچہ اور یارا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جناب سوین تورے ہولسیتر کی قیادت کو سراہا جن کی رہنمائی کے باعث یہ تاریخی دن ممکن ہوا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایف ایف سی ہمیشہ جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور موثر فصلی غذائیت کے فروغ میں قائدانہ کردار ادا کرتی رہی ہے تاکہ کاشتکار کم لاگت میں بہتر پیداوار اور زیادہ منافع حاصل کرسکیں۔ یارا انٹرنیشنل کے ساتھ یہ اشتراک پاکستان میں فصلات کیلئے عالمی معیار کے غذائی حل متعارف کروانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جسے جامع تکنیکی جائزے اور مقامی زرعی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے بعد اختیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایف ایف سی مستقبل میں بھی جدید زرعی ٹیکنالوجیز اور موثر کھادیں متعارف کروانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔ یہ خصوصی کھادیں فصلوں کی پداوار ، معیار اور کاشتکاروں کی آمدن میں اضافے کے ساتھ قومی غذائی تحفظ کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان مصنوعات کی مارکیٹنگ NexGen Nutrients کے تحت ایف ایف سی کے ملک گیر مارکیٹنگ اور زرعی مشاورتی نیٹ ورک کے ذریعے کی جائے گی تاکہ ملک بھر کے کاشتکار عالمی معیار کی جدید فصلی غذائیت سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔

جناب الیگزینڈر مارسیڈو ، سینئر وائس پریذیڈنٹ ، بزنس یونٹ افریقہ ، یارا افریقہ اینڈ ایشیا نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس شراکت داری کی بنیاد کا آغاز دنیا بھر میں منعقد ہونے والی مختلف عالمی فرٹیلائزر کانفرنسوں کے دوران اداروں کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرز کی ملاقاتوں سے ہوا۔ پاکستان میں سائنسی بنیادوں پر فصلی غذائیت اور پائیدار کاشتکاری کے زریعے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یارا اور ایف ایف سی کی یہ شراکر داری عالمی مہارت کو مقامی تجربے کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے پاکستان کے کاشتکاروں تک جدید فصلی غذائیت کے موثر حل پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس تعاون کے ذریعے کاشتکاروں تک جدید زرعی ٹیکنالوجی، عالمی معیار کی زرعی مہارت اور موثر غذائی مصنوعات تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے پیداوار ، منافع اور وسائل کے موثر استعمال میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیاکہ اشتراک پاکستان کی زرعی ترقی ، قومی غذائی تحفظ اور ایک مضبوط پائیدار اور ماحول دست زرعی مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا۔